بلا عنوان


جب یورپ میں ’روشن خیالی‘ کی تحریک چلی تو کلیساء پر الزام لگایا گیا کہ اس کے رہبان (پادری) سرمایہ داروں کے آلہ کار ہیں۔ روشن خیالی کے حامیوں کا ماننا تھا کہ ان کے حکمران مذہبی طبقے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پادری، عوام کو اپنے اوپر ہوتے ظلم کو یہ کہہ کر برداشت کرنے کا درس دیتے ہیں کہ خدا نے تمہارے لیے یہی لکھا ہے۔ اور جو ظلم تم برداشت کر رہے ہو قیامت کے دن اس کا صلہ پاؤ گے۔ اور خود سرمایہ داروں سے بھاری مراعات پاتے ہیں جس سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے۔ یعنی لوگ ریاست کی طرف سے ظلم و جبر اپنا مقدر سمجھ کر سہ رہے تھے کہ روشن خیالوں نے کلیساء اور ریاست کو الگ تھلگ کر دیا۔ سرمایہ داروں کی کمر ٹوٹی سو ٹوٹی، پادری بھی تہی دست ہو گئے۔ اگر وہاں کے پادری ظلم کے خلاف اٹھتے تو کبھی کلیسا اور امور ریاست علیحدہ نہ ہوتے۔ لا دینیت اور لبرل ازم نہ پھیلتا۔

پاکستان میں امسال سیلاب نے تباہ کن حالات بنا رکھے ہیں۔ نصف سے زیادہ رقبہ زیر آب ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اور مدد کے لیے مذہبی رفاہی تنظیمیں میدان عمل میں ہیں؟ ان تنظیموں سے کوئی پوچھے کہ کیا ریاست نے اپنی ذمہ داریاں آپ کو آؤٹ سورس کیں ہیں؟ کیا ان تمام کاموں کے لیے آپ کو ریاست اربوں کے حساب سے فنڈز جاری کرتی ہے؟ اگر آپ کے لوگ کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو کیا ریاست آپ کو اور اس کے اہل خانہ کو تلافی کرے گی؟

کیا تمام رقوم و عطیات محفوظ ہاتھوں میں جا رہے ہیں اور آپ کے لبادے میں شر پسند عناصر اپنی جیبیں گرم نہیں کر رہے؟ تو ان تنظیموں کا بس ایک جواب ہو گا کہ ”نہیں“ ۔ الٹا آپ کو ایسے گھوریں گے کہ جیسے آپ نے کوئی کفر بک دیا ہو۔ انہیں کوئی کیسے سجھائے کہ قبلہ! آپ کے ان مخلصانہ افعال سے اصل مجرم اوڑھنی کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ آپ مکمل نیک نیتی کے ساتھ مجرم کو پناہ دے کر اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے وقت کے تقاضوں کے ساتھ نہ ڈیم بنائے اور نہ ہی دریاؤں کے پشتے مضبوط کیے۔

جس سے ہر سال یہ تباہ کاری ہوتی ہے۔ الٹا اپنے بینک اکاؤنٹ ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے بھرے۔ اب جب وقت تھا کہ ان ہلاکت خیز حالات میں عوام ریاست سے اپنا پرسان حال کہتی۔ اپنے حقوق کے لیے اپنے لہجے اور رویے میں درشتی و شدت لاتی، ملک گیر احتجاج ہوتا، سیاستدانوں کا گھیراؤ ہوتا، ان تنظیموں نے بزعم خود مسیحائی شروع کر دی۔ سارا دھیان اصل بات سے ہٹا کر اب پاکستانی قوم بالعموم اور سیلاب زدگان بالخصوص ان غیر سرکاری تنظیموں سے امداد لینے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

یہ مذہبی رفاہی تنظیموں کو چاہیے تھا کہ اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے حکمران طبقے سے سیلاب زدگان کا حق وصول کرتے لیکن ان بیوقوف دوستوں نے ان کے تمام جرائم پر پردہ ڈال کر خود ہمدرد بننے کی کوشش کی۔ آپ کی اس کوشش سے یقیناً وقتی فائدہ ہو گا لیکن سیلاب اور دیگر ”آفات“ میں شہید ہوئے قاتلین یونہی آزاد رہیں گے اور آئندہ بھی یہی کسم پرسی کی حالت رہے گی۔ لوگ یہ جب تک نہیں سمجھیں گے کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ آپ کی مس مینیجمنٹ تھی اور اس مس مینجمنٹ کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں تو وہ اپنا حق کیسے حاصل کریں گے؟ مذہبی فلاحی تنظیموں نے نہ چاہتے ہوئے اور لاشعوری میں کلیساء کے پادریوں کی طرح سرمایہ داروں کے آلہ کار کا کردار ادا کیا ہے جس سے حکمران طبقہ مزید مستحکم ہوا ہے۔ اب المیہ یہ ہے کہ عوام اپنی مدد کے لیے ریاست کی طرف نہیں بلکہ ان فلاحی تنظیموں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ عجیب فکری افلاس کا عالم ہے۔

مذہبی طبقے کو اگر یہ بات بری لگے تو اپنی صفائی میں ابن انشاء کے اس شعر کے سوا میرے پاس کوئی ڈھال نہیں۔

ایک مست نے انجیل کے چھیڑے جو مقامات
بس سنتے ہی رہبان کلیسا کو غش آیا

Facebook Comments HS