اختر کا شمار

ادب کا تعلق براہ راست انسان کی زندگی سے ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت اور اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ جب انسان کا داخلی تعلق مزید مضبوط اور شوق سے قائم ہو جائے تو زندگی میں نئی شروعات اور پرورش کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس کا اثر براہ راست اردگرد ماحول بلکہ اندرونی اور بیرونی لحاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے لحاظ سے ڈاکٹر اختر شمار کا حوالہ میرے سامنے اہم اور قابل ذکر ہے۔ اردو ادب کا ایک منفرد فنکار، خیال کی فراوانی، خصوصیات کی بھرمار اور استاد کا عمدہ کردار ایف۔سی کالج یونیورسٹی اردو ادب کا ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کا جادو آج بھی بلند ہے۔ میری ملاقات باقاعدہ نومبر 2021 سے شروع ہوئی جب میں نے ایم۔ فل اردو کے لیے اس ادبی منظر کے زیر سایہ چلنے کا ارادہ کیا۔ ابتدائی ایام سے اس چراغ کا عکس اپنا عمدہ خیال، فطرت کی بھرپوری، فنون کا تخلیقی سمندر لیے چراغ سے چراغ جلانے میں مگن تھا۔ یہ بات تو بجا ہے اصل علم انسان کا وہ کردار، رویہ اور شعور ہے جو وہ ادبی اور غیر ادبی انداز میں بھی ہمہ وقت مسکراتے اور نئے خیالی تعلق کو مضبوطی دیتے ہیں۔ 29 نومبر 2021 کی شب ساڑھے چار بجے ایف۔ سی کالج یونیورسٹی میں کلاس جاری تھی تو سوال خصلت اور خصوصیات پر آ کر ٹھہر گیا۔
ڈاکٹر اختر شمار ہلکا سا مسکرائے اور بولے : برائلر کی پرورش اور ہماری جسمانی پرورش دونوں ایک رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ اسی سے خصلت اور خصوصیات کا اندازہ کر لیں۔
ساری کلاس ایک دم چونک گئی اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگی یہ وہ نئی تنقید اور معاشرے کے اندرونی معاملات کی طرف ایک ادبی اشارہ تھا بلکہ ان کا انداز بیاں اور گفتار جو آج کی تاریخ میں شمار کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں اقلیتوں کا ادب بطور معلم ان کا عمدہ انداز اور لفظوں کو عام بول چال میں سمجھانا اپنا شیوہ سمجھتے تھے۔ بات پر بات اور لفظوں کو موتیوں کی طرح بیان کرنا محترم استاد کی خوبی تھی۔ اس لحاظ سے 06 دسمبر 2021 کو شام ساڑھے چار بجے معمول کے مطابق کلاس میں تھا تو بات ”فنکار“ کی طرف لپک کر آ گئی کہ آج ہر طرف بندہ فنکار نظر آتا ہے مگر یہ فنکار پن کیسے ابھرتا ہے۔ محترم استاد نے اپنا دائیں طرف کا ہاتھ تھوڑی پر رکھتے ہوئے کہا :
” تم بڑا فنکار جاننا چاہتے ہو۔“
میں نے جواب میں کہا: ”جی سر“
وہ بولے :
”جو بندہ جتنا حساس ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا فنکار ہوتا ہے۔“
یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب شعور کی گہرائی، وقت کی اہمیت، خیال کا اثر اور باطن کو ہلا کر رکھ دینے والا منظر ہو۔ ساری کائنات کا راز جاننا ہمارے بس کی بات نہ ہے، اس پر تحقیق اور جدوجہد کرنا ضروری اور انسانی خواہش ہے۔ انسان نے ترقی کی اور دن بدن ترقی کرتا جا رہا ہے اس راز کی وضاحت اسی دن وہ مزید کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :
” آدم۔ > ( آ۔ دم ) یعنی“ دم آ جا ”اس لفظ میں ہی کائنات کا راز چھپا ہوا ہے۔ انسانی وجود خیال کی وائرنگ سے ہے یعنی چیونٹی نے کاٹا خیال آیا کہ کاٹا گیا ہے۔ پیاس لگی خیال آ گیا پانی پینا ہے۔“
یہ باتیں براہ راست انسانی اور کائناتی تعلق کی تصدیق اپنے انداز اور اسلوب میں ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا انکار اور منسوخی کا ارادہ کرنا میرے نزدیک تحقیقی اور تنقیدی عمل میں رکاوٹ ہے۔ ان کا مشاہدہ براہ راست تصوف کی کڑی سے جا ملتا ہے جو بہترین خیال، بہترین تخلیق اور عمدہ احساس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس عمدہ احساس اور خیال کا اندازہ خود دیکھ لیں جو انہوں نے 06 دسمبر کی شب ایف۔ سی کالج یونیورسٹی ای بلاک جب کلاس ختم ہوئی تو باہر نکلے۔ چلتے چلتے گراؤنڈ کے ساتھ ساتھ دفتر کی جانب رواں دواں تھے تو ایف۔ سی ایڈمن بلاک کی بلڈنگ کا مرکزی دروازہ عبور کر کے سڑک پر تھوڑا سا آگے گئے تو اچانک رک گئے۔ مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں :
” یوحنا اس درخت کو دیکھو چپ چاپ کھڑا آتے جاتے دیکھتا ہے۔“
میں نے کہا:
جی سر ایسا ہی ہے لیکن یہ تو ہر درخت کا کردار اسی جیسا ہے مگر آپ کا نقطہ نظر کیا بیان کرنا چاہتا ہے۔ ”
چند سیکنڈ کے لئے چپ رہے اور چل پڑے اور چلتے ہوئے فوراً بولے :
” درخت ایک درویش سادھو کی صورت ہے یعنی درخت ہمیشہ چپ چاپ چاہے کاٹ بھی دیے جائیں یا دشمن چھاؤں میں بیٹھا ہو، ہر ایک کو ہوا، جگہ اور آکسیجن فراہم کرتا ہے۔“
یہ ایک منظم ترتیب اور عمدہ خیال کی عمدہ مثال ہے۔ کیوں کہ جب عمدہ خیال ہو تو عمدہ ادب تخلیق ہوتا ہے، جب ادب عمدہ ہو تو عمدہ معاشرہ تخلیق ہوتا ہے۔ محترم استاد ڈاکٹر اختر شمار بھی اسی کڑی کی ایک نفیس کڑی ہیں۔ اسی عمدہ اور منفرد خیال کا جائزہ لیں تو بے پناہ ادبی صلاحیتوں سے معمور اور تصوف کی چھاپ ہمیں ان کی سیرت سے ملتی ہے۔ جو کسی نہ کسی رنگ اور لفظوں کی برسات میں مجھے اور آپ کو متاثر ضرور کرتی ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے 13 دسمبر 2021 کا منظر عام کروں تو ہمیشہ تصوف کی ساخت اور عمدہ خیال و ادب کی روشن مثال ملتی ہے۔
یہ ایک درد رکھنے والا ہی سمجھتا اور سمجھ سکتا ہے۔ عام لوگ اس کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے کیوں کہ درد کا اثر درد رکھنے والا ہی جان سکتا ہے۔ ایف۔ سی کالج یونیورسٹی میں اقلیتوں کا ادب پڑھاتے ہوئے اکثر وہ اس بات کا تذکرہ کرتے تھے اس لحاظ سے 10 جنوری 2022 کا دن تھا تو اس درد کی کیفیت اور محسوس کرنے والا معاملہ زیربحث ہوا۔ مجھے اس موضوع پر بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
” درد کو محسوس کرنے کے لئے درد سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے اقلیتوں کے ہاں کرب، درد اور پریشانیاں زیادہ دیکھی ہیں۔“
جس موضوع کو بیان کرنے کی کوشش کی انہوں نے اس کو ایسے بیان کیا اور محسوس کیا کہ ابھی ابھی اسی سے گزر کر آ رہے ہیں۔ احساس، خیال، تجربہ اور تصوف ان کا مرکزی رجحان تھا۔ وہ کسی بھی کام کو کرتے تو اس پر تجرباتی اور مشاہداتی تاثرات کا عکس ضرور چھوڑتے چاہے وہ کس نے کسی رنگ میں ہوتا۔ یہی وجہ سے آج ان کا شمار کرنے کو ایک عمدہ شمار سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک ان کا شمار کرنا ایک استاد ہونے کے ناتے فرض بھی ہے اور ان کی یہ باتیں مدتوں تک یاد رہیں گے۔ اس لیے میرے نزدیک علم یہ نہیں کہ بات کتنی گہری اور الفاظ کتنے مشکل ہیں بلکہ علم یہ ہے کہ الفاظ کتنے سادہ اور بات کتنی ضروری ہے۔

