شانتنو دیش پانڈے کا ملازمین کو رونا دھونا چھوڑ کر ’18 گھنٹے کام‘ کا مشورہ زیرِ بحث
بامبے شیونگ کمپنی کے بانی شانتنو دیش پانڈے نے نوجوان ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کام کو عبادت سمجھیں اور اسے روئے بغیر کریں۔
لیکن ملازمین کو دیے گئے اس متنازع مشورے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
منگل کو شانتنو دیش پانڈے نے اپنی لنکڈ ان پوسٹ پر لکھا کہ نوجوان ملازمین کو اپنے کیریئر کے آغاز میں بغیر روئے 18، 18 گھنٹے کام کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر لوگوں نے شانتنو پر کام کے ’ٹاکسِک کلچر‘ (زہریلے ماحول) کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔
ٹوئٹر پر شانتنو کے مشورے پر تنقید کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’انڈین سٹارٹ اپس میں برطرفی کے اس دور میں شانتنو دیش پانڈے نہ صرف کام کے ٹاکسِک کلچر کی وکالت کر رہے ہیں بلکہ خود کو درست بھی ثابت کر رہے ہیں۔‘
https://twitter.com/heytee_11/status/1564542349078073344?s=20&t=ZFsonjelPbaUXIt4PGHghw
ایک اور صارف نے لکھا ’ان لوگوں کی وجہ سے ہم غلاموں کی نئی نسل پیدا کریں گے جو شانتنو جیسے لوگوں کو امیر بنائیں گے۔ ملازمین کا استحصال کرنے والے کام کے خراب ماحول کو الوداع کہنے کا یہ صحیح وقت ہے۔‘
ورشا وجے نامی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’ایسے سی ای او اور سٹارٹ اپس کی وجہ سے نوجوان ٹیلنٹ کام اور زندگی کے توازن کے لیے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ شرم کی بات ہے کہ شانتنو پانڈے ٹاکسٹک کلچر کی وکالت کر رہے ہیں۔‘
https://twitter.com/TheVarshaVijay/status/1564599910645002240?s=20&t=ZFsonjelPbaUXIt4PGHghw
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، جب دفتر میں دیر سے کام کرنے کا مشورہ دینے والے لوگوں کو سننا پڑا ہو۔
اس سے قبل 2020 میں، انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی نے لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہفتے میں 64 گھنٹے کام کریں تاکہ کورونا وبا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔
اس کے لیے نارائن مورتی کو بھی اس وقت کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
دفتر میں کم کام کرنا نقصان دہ یا فائدہ مند؟
کام سے اکتاہت یا ’برن آؤٹ‘ سے چھٹکارا کیسے ممکن؟
دیر تک کام سالانہ لاکھوں اموات کی ایک وجہ: اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق
2020 میں جاری کردہ لنکڈ ان ورک فورس کانفیڈنس انڈیکس میں کہا گیا کہ انڈیا میں پانچ میں سے دو کام کرنے والے پیشہ ور افراد ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار ہیں۔
انڈیا میں مزدوروں کے حوالے سے قوانین موجود ہیں لیکن ملازمین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے.
شانتنو دیش پانڈے نے ایسے وقت میں زیادہ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے جب سوشل میڈیا پر ’کوائٹ کوئٹنگ‘ یعنی ’خاموشی سی چھوڑنے‘ کے الفاظ گردش کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف اتنا ہی کام کریں جتنی ضرورت ہے، اور اس سے زیادہ ہرگز نہ کریں۔
اس اصطلاح کی شروعات ایک امریکی ٹک ٹاکر کی ایک ویڈیو سے ہوئی جس نے مشورہ دیا کہ ’کام آپ کی زندگی نہیں ہے۔‘
بی بی سی کی پریشا کڈھیل کا کہنا ہے کہ ’یہ تحریک چین سے شروع ہوئی ہو گی جہاں #tangping جیسے ہیش ٹیگز کو سنسر کیا گیا ہے۔
’چین میں اس کا مطلب پیٹھ کے بل لیٹنا ہے۔ یہ اصطلاح چین میں طویل کام کے اوقات کے خلاف بنائی گئی تھی۔‘


