گدھوں کے حقوق


گدھے کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں فوراً بے زبان، بوجھ اٹھانے والا، مار کھانے والا، بغیر اجرت مشقت کرنے والا جانور آتا ہے۔ گدھا ہوتا تو بے زبان ہے لیکن بوجھ اٹھانے کے معاملے میں اس کا دوسرا کوئی جانور ثانی نہیں۔ گدھا آج سے نہیں صدیوں سے انسان کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ پاکستان، افغانستان سمیت کئی افریقی اور عرب ممالک کے پسماندہ علاقوں میں آج بھی گدھے کو دور دراز علاقوں سے پانی لانے، کوئلے اور نمک کی کانوں یا ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

گدھا ایک بے ضرر اور بے زبان جانور ہوتا ہے۔ جس پر اکثر اس کا مالک اس کی طاقت اور قوت برداشت سے زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے پھر گدھا جب چلنے سے ان کا کرتا ہے تو الٹا اس کو ڈنڈے بھی مارتا ہے۔ لیکن کچھ گدھے جب زیادہ غصے میں آ جائیں تو دلتیاں بھی مارتے ہیں زور زور سے چیختے بھی ہیں پھر مالک کو مزید اس پر غصہ آتا ہے اور گدھے پر ڈنڈوں کی برسات شروع کر دیتا ہے۔ بیچارہ گدھا روتے دھوتے چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پنجابی کی ایک مثال ہے ”تین من دی کھوتی تے نو من پار ایتھے کی کرے بابا شاہ جمال“ تین من کا گدھا اور اس کے اوپر نو من وزن لاد دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں آج بھی گدھے کو سخت مشقت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات ہم صرف لفظ مشقت کو انسانوں کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جس جانور پر ہم اتنا بوجھ ڈال رہے ہیں کیا یہ اتنا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے؟ پاکستان میں 2010 میں گدھوں کی تعداد 47 لاکھ تھی، جبکہ اس کے بعد ہر سال گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق مالی سال 22۔

2021 میں ملک بھر میں سابقہ مالی سال کی طرح رواں مالی سال کے دوران بھی گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ملک بھر میں یہ تعداد 56 لاکھ سے بڑھ کر 57 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال 21۔ 2020 میں گدھوں کی تعداد 56 لاکھ تھی اور رواں سال گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ تک کا اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں بھی گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا تھا۔ جس کے بعد گدھوں کی تعداد 55 لاکھ ہو گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 2018 میں بھی گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کے اضافے کے ساتھ 54 لاکھ ہو گئی تھی اور اسی طرح سال 2017 میں بھی گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ کی سطح پر برقرار ہے اسی طرح اونٹوں کی تعداد بھی 11 لاکھ کی سطح پر قائم ہے۔ 2020 کے ایف اے او کے سروے کے مطابق پاکستان میں ٹوٹل 62 لاکھ ورکنگ گدھے، خچر اور گھوڑے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ گدھے ہیں۔ اس وقت چکوال اور خوشاب میں 1240 کول مائنز ہیں۔ جن میں 900 مائنز مکمل طور پر فنکشنل ہیں جبکہ میانوالی میں 181 کول مائنز ہیں۔ ان میں مائنز میں 12 ہزار گدھے کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں 17 کوئلے کے میدان میں ہیں جن میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ گدھے کام کر رہے ہیں۔

کوئلے کی کانیں ہوں، نمک کی کانیں ہوں، کھیتوں، سبزی منڈی اور اکبری منڈی میں کام کرنے والے گدھے ہوں ہر جگہ گدھوں پر ایسے بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جیسے یہ شاہ زور ہیں یا ٹرک ہیں۔ سب سے افسوسناک بات ہے کہ گدھے پر بوجھ اس کے اپنے وزن سے تین سے چار گنا زیادہ لاد دیا جاتا ہے۔ جس دن گدھے کا مالک اس سے زیادہ کام لے پھر بھی رات کے وقت گدھے کی نصیب میں وہی گھاس، چار اور پانی ہوتا ہے۔ یہاں ہر کوئی انسانوں کے حقوق کی بات کرتا ہے لیکن کبھی کسی نے جانوروں کے حقوق کی بات نہیں کی۔

اگر خوش قسمتی سے کوئی جانوروں کے حقوق کی بات کرے بھی تو ہم اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حکمران طبقہ ہوں، جج ہوں، جنرلز ہوں، بیوروکریٹ ہوں یا کوئی ایلیٹ کلاس ہوں سب کو گھروں میں کتے بلیاں رکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ لیکن مجال ہے ان میں سے کوئی بھی جانوروں کے تحفظ یا ان کے حقوق کی بات کرے۔ اگر آپ سب لوگ جانوروں کے تحفظ یا حقوق کی بات نہیں کر سکتے تو کم از کم جو جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں ان کا ساتھ تو دے ہی سکتے ہیں۔ پاکستان میں Brookeکے نام سے ایک تنظیم گزشتہ کئی سالوں سے جانوروں خصوصاً گدھوں کے تحفظ اور حقوق کے لئے کام کر رہی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اس تنظیم کا ساتھ دیں جانوروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

Facebook Comments HS