عالمگیریت کے ادب پر اثرات


عالمگیریت کا یہ واحد شعبہ سمجھا جاتا ہے جس کا تیسرے درجے کے ممالک کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ با ظاہر اگر دیکھا جائے تو عالمگیریت کا ادب سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور یہ سچ بھی ہے کہ کوئی ادب تخلیق نہیں ہوا۔ تہذیبوں کا تصادم، سلطنتوں کے خاتمے اور اس میں لکھی گئی تواریخ میں عالمگیریت کی رمق ضرور پائی جاتی ہے ؛ مگر ہم اسے ادب نہیں کہہ سکتے۔ ویسے بھی دوسری اصطلاحات ادب کا جائزہ لیں تو وہ بھی ادب کے جنم سے پہلے معرض وجود میں نہیں آئیں مثلاً کلاسیکیت، نو کلاسیکیت، تشکیل و رد شکیل، ساختیات و پس ساختیات یہ سب ادب کی پیداوار ہیں نہ کہ ادب ان کی پیداوار اسی طرح عالمگیریت کا ادب سے تعلق بھی بعد میں بنا۔

عالمگیریت کی وجہ سے آزاد تجارت، آزاد نقل و حمل کو فروغ ملا اور جب آزادانہ تجارت اور انٹرنیٹ نے جغرافیائی بندشوں کو ختم کر دیا، ہوائی جہازوں نے مہینوں کے سفر کو منٹوں میں سمیٹ دیا تو ادب تک رسائی بھی آسان ہوئی۔ اب کتابیں کسی دوسرے ملک جا کر حاصل کرنے کی بجائے گھر بیٹھے ہم لیپ ٹاپ کی اسکرین پر حاصل کر سکتے ہیں، عالمی ادب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ بہت ساری کتب بغیر کسی قیمت کے دستیاب ہیں اور کچھ معمولی معاوضے کے عوض مل سکتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا لوگ دنیا کی اچھی اور بڑی کتابوں کی تلاش میں ملکوں کے سفر کیا کرتے تھے۔ شبلی نے شام و مصر کا سفر عربی کتب کے لیے کیا دیگر ادباء میں سر سید برطانیہ اس لیے گئے کہ خطبات احمدیہ کے لیے بنیادی کتب حاصل کر سکیں۔ علامہ اقبال ہائیڈل برگ میں ابن العربی پر نادر کتب کی تلاش کے لیے گئے تھے۔

برصغیر کے مشہور ادبا کا ذوق کتب کی تلاش میں دنیا میں نکلنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ آج سے چند برس ادھر یعنی بیسویں صدی تک معاملات بہت مختلف تھے اور آج جب ای سٹورز کی سہولت کے ذریعے ہم آسانی سے کتابیں حاصل کر لیتے ہیں تو اس کا کریڈٹ ہم کیوں عالمگیریت کو نہ دیں جس نے فاصلوں کو ختم کیا اور جغرافیائی حد بندیوں سے ہمیں نجات دلائی۔ عالمگیریت ہی کی وجہ سے ہماری اعلی ادب کے ساتھ ساتھ اعلی ترین فن کاروں سے شناسائی ہوئی۔ آج کل تو کانفرنسوں کا دور ہے ایک ملک کے اہل ادب دوسرے مل کے اہل ادب سے جا کر براہ راست اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے علاقے یا خطے کے مسائل ایک دوسرے کے ادب سے شناسائی حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے بڑھتے مسائل پر خامہ فرسائی کرتے ہیں کہ سب عالمگیریت ہی کے سبب ممکن ہوا ہے۔

عالمگیریت کا اگر اردو ادب کے ساتھ تعلق دیکھا جائے تو اردو ادب کو عالمگیریت نے بیش بہا فائدہ پہنچایا ہے۔ افسانوں میں براہ راست تو نہیں مگر بلا واسطہ عالمگیریت کے منفی اثرات کی عکاسی پوری دردمندی سے ہو رہی ہے۔ ایسے افسانوں میں افتخار نسیم کا افسانہ ”پردیسی“ ، طاہرہ اقبال کا ”واکنگ ٹریک“ ، عرفان جاوید کا ”بھونچال“ اور حمید شاہد کا ”مرگ زار“ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تمام افسانے عالمگیریت کی تباہی کاریوں اور دیگر مسائل کو سامنے لاتے ہیں۔ جس طرح افسانوں میں عالمگیریت کے اثرات کے زیر بحث لایا گیا کچھ ناول بھی ایسے ہیں جن میں عالمگیریت کے ابتدائی اثرات ملتے ہیں۔ مثلاً ”خوشیوں کا باغ“ ، ”آگے سمندر ہے“ ، ”دائرہ“ ، ”صفر سے ایک تک“ ، ”خس و خاشاک زمانے“ اور ناول ”جندر“ وغیرہ۔

عالمگیریت کے دور جدید میں اردو نظم اور خصوصاً نثری نظم بھی عالمگیریت سے متاثر نظر آتی ہے۔ اس میں عالمگیر موضوع در آنے لگے ہیں اور شعرا نے بڑے بھر پور انداز میں نظم اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ان شعراء میں افضال احمد سید، علی محمد فرشی، تنویر انجم، حسین عابد، مسعود قمر اور جاوید انور کے نام اہم ہیں۔

ادب اور عالمگیریت کے فروغ کی ایک اہم کڑی میڈیا بھی ہے۔ بہت سارے ایسے چینلز ہیں جو یو ٹیوب پر کتابوں کے جائزے پیش کرتے ہیں جن میں مقامی و عالمی ادب کی کتابیں سب ہی شامل ہیں۔ اس سے کتب بینی کے فروغ کے علاوہ سرمایہ بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ عالمگیریت سے ادب کے ساتھ زبان کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اگر پاک و ہند کی بے کی جائے تو یہاں میڈیا کے ذریعے اپنی زبان میں ادب تخلیق کرنے کو فروغ مل رہا ہے۔ ترجمہ کا فروغ بھی عالمگیریت ہی کی عنایت ہے۔

تراجم سے نئی نئی اصطلاحات، ادب کو نئے اسلوب، نئے خیالات و تجربات سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی تراجم ہوتے تھے مگر ان میں اس قدر تیزی نہ تھی جس کی وجہ کہیں نہ کہیں عالمی ادب ( کتب) تک رسائی کا نا ہونا بھی ہے۔ تراجم کے ذریعے ذہن بھی ایک ایسی مشق سے گزرتا ہے جس سے سوچنے اور سمجھنے کی طاقت میں اضافی ہوتا ہے۔ تراجم ہی سے دو تہذیبوں کے درمیان صحیح معنوں میں مکالمہ جنم لیتا ہے۔ ان تراجم میں عالمگیریت اہم کردار ادا کرتی ہے اور عالمگیریت ہی کے ذریعے ادب میں نئے رجحانات متعارف ہوتے ہیں۔ نثری نظم، ہائیکو، سانیٹ جیسی اصناف ادب بھی اور دیگر رجحانات ہم تک باہر سے ہی پہنچے ہیں جو اس معاشرے کے مزاج کے ساتھ مطابقت پا جاتے ہیں انہیں اپنا لیا جاتا ہے بقیہ رجحانات وقت کے ساتھ خود ہی متروک ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اس سارے عمل میں عالمگیریت بنیادی کڑی کے طور پر اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے۔

Facebook Comments HS