عظمتوں کے بوجھ


دنیا میں ماں کی عظمت کے حوالے سے جتنی باتیں کہی گئی ہیں اگر انھیں جمع کیا جائے تو شاید کئی ضخیم کتب پر مبنی ایک ذخیرہ وجود میں آ جائے، بلاشبہ یہ سب باتیں بولنے میں خوبصورت اور لکھنے میں دلکش سنائی دیتی ہیں لیکن کیا یہ فرمودات زمینی حقائق سے مطابقت بھی رکھتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس خوف سے نکل کر کہ میرے قلم سے خطا سرزد نہ ہو جائے ہمیں کسی بھی دوسرے معاملے کی طرح اس معاملے کو بھی زاویۂ نگاہ تبدیل کر دیکھ لینا چاہیے۔ یہاں بظاہر ماں ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جنت اس کے قدموں تلے ہے یہ خدا کی انسان سے محبت کو ماپنے کا پیمانہ بھی ہے لیکن شاید یہ اعزاز نہیں ہے بلکہ اقدار کے بوجھ کا وہ تسلسل ہے جو اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے اوپر لادنا شروع کر دیا جاتا ہے۔

آپ دیکھیے کہ بچپن ہی سے لباس، کھیل کود اور آداب نشست و برخاست کے متعلق بتانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہ لڑکوں کے کرنے کی چیزیں ہیں یہ سب آپ نہیں کر سکتیں۔

جوانی میں تعلیمی میدان میں رکاوٹیں اور پھر غیرت کی حفاظت۔ یہ حفاظت اتنی کڑی اور بے اصول ہے کہ اگر کسی بد کردار نے دست درازی کی تو انکار، رد عمل یا شکایت کی صورت میں بدنامی اسی کے لئے پہلے سے طے کی جا چکی ہے، ایسے میں نہ صرف ہوس پرست سینہ تان کر مظلوم سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے شکایت کی تو بدنامی تمھاری ہو گی بلکہ پارسا، دانش ور اور ناصح بھی ایسے لکیر کے فقیر ہیں کہ نرم لب و لہجے میں یہی فضولیات جگالی کرتے نظر آتے ہیں۔

شادی کے بعد غلامی بے طوق و زنجیر کا ایک نیا اور قدرے طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خدمت گاری، وفا شعاری، تابع داری نبھا بھی لے تو اولاد اور اولاد نرینہ کے امتحان میں ناکام ہو کر اکثر گھریلو تشدد اور سزائے موت تک کی حق دار ٹھہرتی ہے۔

جہاں تک ماں کے رتبے کی بات ہے تو مجھے لگتا ہے کہ بطور ماں بھی ہم نے عورت کو ننگے پاؤں اپنی جنت کے پہرے دار کے طور پر کھڑا کر رکھا ہے اور یہ خدا کی مرد سے محبت کو بیان کرنے کا ایک بے جان پیمانہ ہے۔ ذرا تصور کیجے! ایک ماں اپنا جوان بیٹا کھو چکی ہے اور اسے بیٹے کی شہادت کی بشارت دی جا رہی ہے اور وہ بے چاری بڑی مشکل سے اس رنگا رنگ سجی محفل میں آ کر بیٹے کے بدلے دھاتی تمغہ اور تالیاں وصول کر کے، آنسو روک کر مردہ سی آواز میں اپنے معاشرے کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔

عزیزان من! میری یہ باتیں آپ کی طبع نازک پر گراں گزر سکتی ہیں لیکن ان باتوں کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم خواتین کے حوالے سے اپنے تصورات و نظریات پر نظر ثانی کریں، انھیں ٹھوس زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے درست کریں۔ ہمارے اردگرد جہاں کہیں نا انصافی ہو رہی ہے اپنا کردار ادا کریں اپنے بیٹوں کو جب انسان یا آدمی کے معنی سمجھائیں تو اس میں عورت بھی شامل ہو، اپنی بیٹیوں کو بھرپور اعتماد دیں اچھی تعلیم دلوائیں۔ یہ بدنامی کے دھبے ہوس کے مارے بد کرداروں کے کے دامنوں پر لگنے چاہئیں مظلوموں کے نہیں!

Facebook Comments HS