عمران خان آپ کا بہت شکریہ!


جب سے ایک جمہوری اور آئینی طریقۂٔ کار کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم کردی گئی ہے، اس وقت سے عمران خان امریکی سازش کے بیانیہ کے ذریعے عوام کو ورغلا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ ایک کے بعد ایک زبردست قسم کا بیانیہ تخلیق کرتے ہیں اور اپنی جادو بیان تقریروں کے ذریعے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ اس کالم میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ ہمیں عمران خان کا شکریہ کیوں ادا کرنا چاہیے۔

عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے دوران جس طرح ایک جمہوری، آئینی اور قانونی عمل کی مزاحمت کی اور آخری دم تک اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے ناکام بنانے کی کوشش کی، اس نے قومی اسمبلی کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو اسمبلی میں عددی اکثریت کھو دینے کے باوجود انھوں نے قومی اسمبلی کو غیر آئینی طریقے سے توڑ دیا تھا اور نئے عام انتخابات کے لئے راہ ہم وار کرنے کی کوشش کی تھی۔ یوں عمران خان نے قومی اسمبلی جیسے ایوان بالا کا تقدس پامال کرنے کا پورا اہتمام کر لیا تھا۔

خان صاحب نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر لگایا اور کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ غیر جانب دار نہ ہوجاتی تو وہ میری حکومت کو عدم اعتماد سے بچا سکتی تھی۔ اب اسی اسٹیبلشمنٹ کو وہ کبھی غیر جانب داری کا طعنہ دیتے ہیں اور کبھی اسے اپنے حق میں جانب دار بنانے کی تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں غیر جانب دار رہنے کی اجازت نہیں دی ہے کیوں کہ غیر جانب دار تو جانور ہوتے ہیں کہ جانور اچھے اور برے میں فرق نہیں کرتے۔ وہ اداروں پر بالواسطہ اور بلا واسطہ یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے دوران میں غیرجمہوری کام ان کے اشاروں پر کیے جاتے رہے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی تقریروں میں اداروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا دامن صاف کروانا ہے تو اس جعلی حکومت کو گھر کی راہ دکھائیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے انھیں قوم کا مسیحا سمجھ کر وزارت عظمیٰ کی مسند پر براجمان کیا تھا اور ان کے تمام تر غلط فیصلوں اور غیرجمہوری اقدامات کو تحفظ دیتی رہی تھی۔ عمران خان کے حواری بھی اسٹیبلشمنٹ پر کھلم کھلا سنگین قسم کے الزامات لگاتے رہے ہیں اور فواد چودھری تو یہاں تک کہ گئے ہیں کہ فوج کے منہ کو خون لگ چکا ہے اور جج اور جرنیل بند کمروں میں فیصلے کرتے ہیں۔

تو عمران خان آپ کا شکریہ تو بنتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا وہ غیر جمہوری اور غیر آئینی کردار جو وہ پس پردہ رہ کر ادا کرتی تھی اور اس کے بارے میں مختلف جماعتوں کے سیاست دان اشاروں کنایوں میں بات کرتے تھے، آپ نے نہ صرف ان کا وہ مخفی کردار بڑے کھلے ڈھلے انداز میں طشت ازبام کر دیا ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ پر کھلی تنقید کر کے اشاروں کنایوں کی روایت کو بھی توڑ دیا ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا غیر جمہوری اور غیر آئینی چہرہ پوری قوم کے سامنے آ چکا ہے اور اس کے خلاف رد عمل ہم روز سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامیوں کے پوسٹوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔

عمران خان نے عدلیہ کی منصف مزاجی اور کریڈیبیلیٹی کا پول بھی کھول دیا ہے۔ عدلیہ کے انصاف کا دہرا معیار اب پوری قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ کمزور کے لئے ایک طرح کا قانون اور طاقت ور کے لئے دوسری طرح کا قانون۔ نواز شریف کو محض اس لئے سپریم کورٹ نے نا اہل کر دیا تھا کہ انھوں نے اپنی اپنی ٹیکس ریٹرن میں وہ آمدنی ظاہر نہیں کی تھی جو انھوں نے اپنے بیٹے سے وصول ہی نہیں کی تھی لیکن ان کے مقابلے میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ کا کیس نواز شریف کے کیس کے مقابلے میں بہت سنگین ہے لیکن اس میں عمران خان کو عدالت کی طرف سے فی الحال ریلیف ہی مل رہا ہے۔

اس طرح توہین عدالت کے کیس میں طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو غیر مشروط معافی مانگنے کے باوجود سزا دی گئی تھی اور انھیں پانچ سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نا اہل قرار دیا گیا تھا لیکن عمران خان کے کیس کے بارے میں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ عدالت نے کورٹ میں پہلی پیشی کے موقع پر عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انھیں سات دن کے اندر دوبارہ جواب جمع کرانے کا موقع دیا ہے۔

اس طرح دہشت گردی کے کیس میں ان کی ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع دی گئی ہے۔ یوں ہماری عدلیہ کتنی طاقت ور ہے اور وہ کسی ایسے شخص کو سزا دینے میں کیوں متامل ہے جو اپنے ہر جلسے میں عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتا ہے اور انصاف کے ایوانوں کو کھلم کھلا چیلنج کرتا ہے۔ یوں عمران خان نے انصاف فراہم کرنے والے ملک کے اس معتبر محکمے کو بھی دو راہے پر کھڑا کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن پر عمران خان کے الزامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو الیکشن کمیشن کو ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے آٹھ سال تک چلنے والے مقدمے کا فیصلہ سنا سکے۔ بالآخر 2 اگست کو یہ فیصلہ سنایا گیا۔ اس فیصلے میں مسلسل تاخیر اور پھر اسے ایک خاص موقع پر سنانے کا عمل یہ تاثر ابھارتا ہے کہ ریاستی ادارے کسی طاقت ور شخصیت کے جرم کے خلاف اپنا آئینی اور قانونی اختیار اپنی مرضی سے استعمال نہیں کر سکتے اور اس کے لئے انھیں بھی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے عمران خان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی نیوٹرلز نے دی تھی اور اس عہدے کے لئے ان کا انتخاب بھی ان ہی کا تھا۔ یوں عمران خان کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے کہ انھوں نے الیکشن کمیشن جیسے طاقت ور محکمے کے اختیارات کا پول کھول دیا ہے۔

عمران خان نے اپنی عوامی تقریروں میں انتظامیہ کے اعلا افسران کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنے چیف آف سٹاف کے کیس کے حوالے سے اسلام آباد کے آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکاتے ہوئے ان کے خلاف کیس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس جلسے میں انھوں نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ کا نام لے کر ان کو بھی دھمکی دی تھی۔ اس وقت عمران خان عوامی طاقت کے نشے میں یوں ڈوبے ہوئے ہیں کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی قانونی اور انتظامی طاقت کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔

خان صاحب کی یہ روش ظاہر کرتی ہے کہ مقتدر اور طاقت ور سیاست دان پولیس افسران کو اپنا زرخرید غلام سمجھتے ہیں اور وہ پولیس فورس کو محض اپنی حفاظت اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا پسند کرتے ہیں اور اگر وہ سیاست دانوں کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں دھمکایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی عمران خان شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے انتظامیہ کے اختیارات کا اصل حدود اربعہ قوم کے سامنے ظاہر کیا۔

عمران خان کی یہ خوبی بھی ماننی پڑے گی کہ انھوں نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے سیاست دانوں کے اصل چہرے بھی بے نقاب کر دیے ہیں۔ وہ مخالف سیاست دانوں پر سنگین الزامات لگاتے رہتے ہیں اور انھیں اپنی تقریروں میں نہایت غیر مہذب اور ناشائستہ انداز میں مخاطب کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاست دان تو ان کا اولیں ہدف ہے ہی لیکن انھوں نے کسی وقت ایم کیو ایم کے خلاف بھی محاذ گرم کیے رکھا تھا، مولانا فضل الرحمان کے بارے میں ان کی نازیبا گفت گو زبان زد عام ہے۔

وہ چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔ شیخ رشید کو تو وہ چپڑاسی کی حیثیت دینے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ سیاست دانوں کے بارے میں کسی حد تک ان کے الزامات درست ہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان اس ایم کیو ایم کو اپنا اتحادی بنانے پر مجبور تھے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایسے کسی فورم پر نہیں بیٹھے گی جہاں ایم کیو ایم موجود ہوگی۔ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو انھوں نے پنجاب کا وزیر اعلا بنا دیا اور شیخ رشید کو اپنی حکومت میں اہم ترین عہدوں پر تعینات کیے رکھا۔ ان سیاست دانوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنا اصل چہرہ بھی عریاں کر ڈالا ہے۔

عمران خان اپنے دور حکومت میں بھی اپوزیشن لیڈر کی طرح سیاست دانوں پر الزامات کی بارش کرتے رہتے تھے اور اس امر پر زور دیتے تھے کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت ان سے واگزار کرائی جائے۔ معلوم نہیں خود وزیر اعظم رہ کر وہ کس سے یہ مطالبہ کرتے تھے۔ تاہم سابقہ حکومتوں کی کرپشن اور نا اہلیوں کا روز رونا روتے ہوئے انھوں نے خود قومی سطح پر ملک میں کسی ایسی انقلابی تبدیلی کی بنیاد نہیں رکھی جس کی وجہ سے پاکستانی عوام کی زندگیوں میں کوئی مثبت اور خوش گوار تبدیلی کا محض آغاز ہو سکتا ۔

ملک کی معیشت ان کے دور حکومت میں تباہی کے دہانے پر پہنچی۔ انھوں نے پاکستان کے روایتی دوست اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کی اور اپنے گرد ایسے لوگوں کا ہجوم اکٹھا کیا جن کا کام عمران خان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا اور مخالفین کو گالم گلوچ پر رکھنا تھا۔ ان کے دور حکومت میں ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے عوام بدترین مہنگائی کا شکار ہوچکے تھے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود انھیں سستی کرنے کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔

موجودہ حکومت نے جو سخت فیصلے کیے ہیں اور عوام پر مہنگائی کی صورت میں جو بھاری بوجھ ڈالا ہے، یہ سب پی ٹی آئی کی نا اہل حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ عوام کو بھی عمران خان کی نا اہلی اور مسلسل بولنے والے جھوٹ اور یو ٹرن کا احساس ہے لیکن وہ خان صاحب کی موٹیویشنل تقاریر اور جھوٹے لیکن سنسنی خیز بیانیوں سے اتنے متاثر ہیں کہ وہ اس شخص کے پیچھے دیوانہ وار کھڑے ہیں اور اس کے ہر جھوٹ اور بڑھک پر صدقے وارے ہوتے جاتے ہیں۔

یوں عمران خان کا اس حوالے سے بھی شکریہ بنتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے عام اور پڑھے لکھے عوام کی ذہنی سطح کا پول کھول دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کے بیشتر عوام زمینی حقائق نظر انداز کرتے ہوئے ہر ایسے مداری کی ڈگڈگی پر اکٹھے ہوتے ہیں جو اپنی چرب زبانی، جھوٹے بیانیوں اور خوش کن نعروں اور دل فریب دعوؤں سے انھیں لبھا سکتا ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اندھے بہرے ہجوم میں اعلا تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔

یہ درست ہے کہ عمران مخالف سیاست دانوں کو کئی کئی مرتبہ اقتدار ملتا رہا ہے لیکن انھوں نے نہ ملک و قوم کو ترقی و خوش حالی کی راہ پر ڈالا ہے اور نہ ہی خود انحصاری کی پالیسی اپناتے ہوئے وطن عزیز کو آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کرانے کی حقیقی کوشش کی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ خان صاحب ان ”چوروں اچکوں“ سے زیادہ نا اہل اور بد دیانت ثابت ہوئے ہیں اور ان پر توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ کے علاوہ ان کی بیگم بشریٰ بی بی اور ان کی سہیلی فرح خان پر بد عنوانی کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں۔ محض دعوؤں، دوسروں پر الزامات لگانے اور خود کو امین و صادق کہلوانے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالا جاسکتا ہے لیکن عمران خان کی انا پرست شخصیت کے اسیر عوام ان کی کارکردگی کی بہ جائے ان کی کرشماتی شخصیت کے دیوانے ہیں۔

عمران خان جب اقتدار میں نہیں آئے تھے تو ہم جیسے لوگ بھی ان کے دیوانے تھے اور ان کی پارٹی کو قومی سیاست میں تیسری بڑی قوت کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ ہمیں خوشی اس بات کی تھی کہ عمران خان نے مایوس لوگوں کے دلوں میں امید کی نئی جوت جگائی تھی اور عوام ان کی قیادت میں ایک نیا روشن خیال اور عوام دوست پاکستان بننے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن جب انھیں اقتدار مل گیا تو معلوم ہوا کہ خان صاحب نہ صرف ایک نا اہل سیاست دان ہیں بلکہ وہ خود اپنی ہی مغرور اور انا پرست شخصیت کے اسیر بھی ہیں۔

وہ اپنے دور حکومت میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے کی بہ جائے ہر وقت سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالتے اور چور اور ڈاکو کہنے کے علاوہ انھیں دشنام کی زد پر رکھتے۔ ان کی زبان کسی بھی صورت میں وزارت عظمیٰ جیسے بلند منصب کے مطابق شائستہ اور مہذب نہیں تھی۔ ان کی شخصیت اس قدر تضادات سے بھری ہوئی ہے کہ جو بات وہ آج اپنے جلسے میں کرتے ہیں، کل خود ہی اس کو رد کرتے ہوئے متضاد موقف اپناتے ہیں۔ جن باتوں اور اقدامات کے لئے وہ مخالف سیاست دانوں پر الزامات لگاتے رہے ہیں، وہ سب کام عمران خان اپنے دور حکومت میں بدرجہ اتم کرتے رہے ہیں۔

اس حوالے سے محض ایک مثال کافی ہے۔ حکومت میں آنے سے قبل ایک موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ میں آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لئے جانے سے زیادہ بہتر مر جانا پسند کروں گا لیکن انھوں نے اپنے دور حکومت میں جتنا قرض لیا ہے، اتنا قرض مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتیں مل کر بھی اپنے ادوار حکومت میں نہیں لے سکی تھیں۔ یوں ملک کے سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کے سامنے عمران خان نے اپنا چہرہ بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

ان کے چہرے کی ایک ناگوار پرت یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو وہ ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرتے تھے اور دوسری جانب انھوں نے نوجوان نسل کو تہذیب و شائستگی کا خوگر بنانے کی بہ جائے ان کے ذہنوں میں سیاسی طور پر گالم گلوچ، بد تہذیبی، دوسروں پر الزام تراشی اور عدم برداشت کا زہر گھول دیا ہے۔ وہ عمران خان کو دیوتا سمجھنے لگے ہیں اور ان کی ہر جھوٹی بات کو اقوال زریں اور ان کے متکبرانہ اور انا پرستانہ نعروں کو ان کی شخصیت کا جوہر خاص گرداننے لگے ہیں۔

عمران خان کی طرز حکومت سے لوگ کافی مایوس ہوچکے تھے اور ان کی سیاسی کیرئیر تیزی سے زوال کی جانب گام زن تھی۔ اس کا ثبوت اس وقت ملک میں مختلف ضمنی انتخابات کے نتائج کی شکل میں سامنے آ رہا تھا لیکن افسوس بلا سوچے سمجھے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ وہ اگر اپنے اقتدار کا دورانیہ مکمل کرتے تو یقیناً عوام ان کا کڑا احتساب کرتے۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے دروغ گوئی پر مشتمل بیانئے نے ان کے سیاسی زوال کو سیاسی عروج میں بدل دیا اور آج عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر عمران خان آج طاقت کے تمام مراکز کو بہ بانگ دہل چیلنج کر رہے ہیں اور انھیں عوامی طاقت سے ڈرا رہے ہیں۔

ہمیں عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انھوں نے پارلیمنٹ کی اصل حیثیت، اسٹیبلشمنٹ کا اصل چہرہ، عدلیہ کا دہرا معیار، الیکشن کمیشن کی بے اختیاری، انتظامیہ کی بے بسی، مخالف سیاست دانوں کی کرپشن اور اپنا اصل مکروہ چہرہ بھی عوام کے سامنے عریاں کر دیا ہے۔ خان صاحب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کرنا اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس کے ذریعے انھوں نے جھوٹ، الزام تراشیوں اور بے بنیاد بیانیوں کو اس قدر مقبول عام بنا دیا ہے کہ ان کے ووٹرز انھیں آفاقی صداقت سمجھنے لگے ہیں اور وہ اپنے دماغ منجمد اور آنکھیں بند کر کے ان پر ایمان لانا باعث فخر و انبساط سمجھتے ہیں۔

Facebook Comments HS