کچھ رویے اور تصورات

• جنرلائزیشن ( تعمیم )
کچھ لوگ چیزوں کو جنرلائیز کرنے کے بڑے عادی ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ دولت حرام خوری یا کرپشن کے ذریعے آتی ہے۔ یہ ایک تعداد کے ہاں مقبول عام تصور ہے۔ اکثر یہ فوری اور حتمی نتیجہ ہوتا ہے۔
اس لیے مانا جاتا ہے کہ جس کے پاس بھی ہمارے معیار کے لحاظ سے پیسہ زیادہ ہے وہ ضرور کرپٹ ہو گا۔ نہیں تو اتنا پیسہ کیسے آ سکتا ہے؟ ہم بھی تو سالوں سے در بدر پھر رہے ہیں، محنت کر رہے ہیں۔ فلاں، فلاں اور فلاں نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ ابھی تک بس روز مرہ ضرورتیں ہی بمشکل پوری کرنے کے قابل بن سکے ہیں اور یہ دنوں میں اتنے امیر! ( حالانکہ اس غریب کا بچپن اور جوانی نگل چکی ہوتی ہے وہ دولت، لیکن ان صاحب کو صرف امیری کے وہ دن ہی نظر آتے ہیں کہ مفلسی میں انسان کا وجود شاید چھوٹا رہ جاتا ہے یا اس کی موجودگی اہمیت نہیں رکھتی۔ )
یہ نظر انداز کیا جاتا ہے کہ بہت سارے محنتی، ذہین اور اپنے کام سے مخلص افراد دولت مند ہیں۔ بہت سے دولت مند انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے بھی ہیں۔ سسٹم کی کوتاہیاں، اپنی نالائقی، غلط فیصلے، اردوں کی کمزوری وغیرہ جیسے احتمالات موجود ہوتے ہوئے بھی اپنی کسی غلطی کا امکان تسلیم کرنے یا اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی بجائے افراد کو کرپٹ کہنا آسان معلوم ہوتا ہے اور ایسا کیا جاتا ہے۔
سیاستدان کرپٹ ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں قدم رکھنے والے ہر فرد کو برا سمجھا جاتا ہے۔ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے والوں پر الزام تراشی، ان کی کردار کشی اور تضحیک معمولی سی بات ہے۔ باشعور، سماج کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے افراد سیاست میں قدم رکھنے سے کتراتے ہیں کہ سیاست ہمارے ہاں شیطان کا کھیل، گندا دھندا اور سیاستدان ہمارے سماج کا بدنام کردار۔
ووٹ دینے لینے کے کچھ سنجیدہ اور اجتماعی معیارات مقرر کرنے کے بجائے، امیدوار کی قابلیت اور صلاحیت پر بات کرنے کی بجائے، اس سے اپنی ذمہ داریوں پر سوال کرنے کی بجائے یا کوئی ایسا قدم اٹھانے پر سوچنا کہ جس سے معاملے میں کچھ بہتری کا امکان ہو۔ بس سیاست اور سیاستدان کو ہی برائی کی جڑ گرداننا شاید خود ہمارے سیاسی ماحول کے لیے مضر ہو کہ سیاست ایک سماجی ایکٹیویٹی ہے اور اس کی خرابی کا سارا ملبہ اکیلے سیاستدان پر ڈالنے سے کوئی بہتری کی سبیل جلد دکھائی نہ دے۔
مشاہدہ بتاتا ہے بہت سارے مذکروں کی نظر میں گھر سے باہر نکلنے والی عورتیں کیرکٹر کی کچی سمجھی جاتیں ہیں۔ اس لیے جو خاتون گھر سے باہر کام کاج یا سیر و تفریح کرتے ہوئے نظر آئے تو اس کے لیے اچھا گمان برا مانا جاتا ہے۔ مردانگی سے محروم مردوں کا اس کی شخصیت اور کردار پر جملے کسنا، اس کی چال چلت کی پڑتال کرنا، جسم کے ڈھکے اور کھلے ہوئے سب اعضاء کا ایکسرے نکالنا معیوب تک نہیں سمجھا جاتا۔ سماجی دباؤ روکے رکھتا ہے، نہیں تو پس پردہ جو ذہنیت کام کرتی نظر آتی ہے ( جس کا اظہار بھی آئے روز ایسوں کی طرف سے ہوتا رہتا ہے ) وہ غیر مہذب بھوکے شکاری کی طرح ہر چلتی پھرتی چیز نوچ کھانے کو تیار معلوم ہوتی ہے۔
مثالیں تو اور بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ مذہب اور مذہبی لوگ ہوں، پولیس یا فوج ہو، اداکار، فن کار، شاعر اور گلوکار۔ ہمارے سماج میں ان سب کے بارے میں کچھ تصورات موجود ہیں۔ بنا سوچے سمجھے، کسی تجزیے اور تحقیق کی زحمت کیے بغیر، کسی کو بھی فقط کسی شعبے، پیشے، طبقے یا گروہ وغیرہ سے نسبت کی بنیاد پر اپنے مخصوص تصورات کے تحت لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ اکثریت اگر کسی عمل میں شامل ہو، کسی رویے کا اظہار کرتی پائی جائے تو ہم زبان و بیان میں اس کا اظہار عمومی کرتے ہیں اور ایسے جملے کہہ دیتے ہیں۔ فلاں جنگجو تھے۔ یہ بہادر قوم ہے۔ وہ بڑے ذہین ہیں۔ کسی گروہ کی خاصیت کا ، بالخصوص مثبت پہلو میں ٬ عمومی بیان کیا جاسکتا ہے لیکن جب کسی خاص فرد، کسی مخصوص معاملے، کسی خاص رویے کو سمجھنا ہو، نقد کرنا ہو، تصور کی درستگی اور اصلاح مطلوب ہو یا اس کو بیان کرنا ہو تب عمومی تبصرہ، رٹا رٹایا مروجہ بیان داغ دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔
یہاں کسی کی طرف داری مطلوب نہیں، بس عرض اتنا کرنا تھا کہ جرنلائیز کرنے کا یہ رویہ عادت بن کر بڑے دور رس منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ذاتی اور سماجی زندگی، رشتوں ناتوں اور تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں پر ایسے سطحی، غیر مہذبانہ اور بودے لیبل لگاتے لگاتے غیر محسوس طریقے سے خود اپنوں کو بھی رگیدنے لگتے ہیں، اس طرح اپنا سکون اور اپنی خوشیاں بھی کھو بیٹھتے ہیں۔
” تم تو ایسے ہی ہو۔ میری تو آپ سنتے ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ لڑتے ہی رہتے ہیں۔ یہ لوگ تو جاہل ہیں۔ عورتیں بے وقوف اور بے وفا ہوتی ہیں۔ مرد ظالم اور دھوکے باز ہے۔ پاکستانی فراڈیے ہوتے ہیں۔ عرب عیاش ہیں۔ یہودی عیار ہیں۔ وغیرہ“
یہ اور ایسی جرنلائیزڈ اسٹیٹ مینٹس ہم سب نے سن رکھی ہوں گی۔ روزمرہ زندگی میں اکثر استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بری صرف تب لگتی ہیں جب ہمارے کسی رویہ اور عمل پر ایسا کہا جائے۔ ”تم تو ہو ہی ایسے۔ تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو“ لیکن دوسروں کے لیے استعمال کرتے ہوئے یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بھی ہم جیسا انسان ہی ہے۔ اک جذباتی وجود، نازک احساسات رکھنے والی خوبصورت و منفرد تخلیق۔
معاملات اور چیزوں کو ہر وقت جرنلائیزڈ انداز میں دیکھنے سے ذہن ناکارہ، فرد نکما اور سماج منتشر سا ہو جاتا ہے۔ رشتوں میں دراڑیں، تعلقات میں خرابی اور سماج سے اجنبیت میں اس رویے کا بڑا حصہ مشاہدے میں آتا ہے۔
کسی کی غلطی پر، کسی کے ایک نوعیت کے جرم پر یا کسی فکر و فن سے نسبت پر انسان کے بارے میں یہ تصور کر لینا کہ ”فلاں تو ہے ہی ایسا“ یا ”یہ تو ہوتے ہی ایسے ہیں“ ، ایک انتہائی بدصورت اور نقصان دہ رویہ ہے کہ اس سے سوچ پر تالے پڑ جاتے ہیں، نئے خیالات کو راستہ نہیں ملتا، مسائل کا حل تلاشنے کی سکت نہیں رہتی۔ انسان رائج تصورات کا اسیر اور موجود کنوؤں کے گرد گھومتا رہتا ہے۔

