بڑھاپا، انحصار اور پشتون ولی


میں پچھلے چودہ سال سے مسافر ہوں گھومنا پھرنا اب تو جیسے زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ اس وقت بھی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں میں نیو کیسل سے لندن کی ٹرین پر سوار ہوں۔ دو ہزار سترہ میں، مجھے جرمنی منتقل ہوئے تیسرا مہینہ تھا کہ ایک شام اپنی دوست پروفیسر ہائی کے کو بتا رہا تھا کہ میں جو ایک خاص قسم کے بالوں کا کلر استعمال کرتا ہوں اس کو ملائشیا سے منگوانے کے لئے کتنے جتن اٹھانے پڑتے ہیں تب اس نے ایک سادہ سا سوال کیا ”تم اپنے بال کیوں کلر کرتے ہو؟

“ کچھ سوال انسان کو نہ صرف سوچنے بلکہ عمل کرنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں ہائی کے کا سوال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ میں نے غور کرنا شروع کیا اور یاد آیا کہ کوئی پندرہ سال پہلے میرے بڑے بھائی کے وکیل دوست جو ان کے استاد بھی تھے انہوں نے ایک دن سرگوشی میں کہا تھا کہ تمہارے بھائی کے بالوں میں ”سفیدی“ دیکھ کر دکھ ہوا۔ میں نے ہائی کے کے سوال پر غور کرنا شروع کیا اور مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس اپنے بالوں کو رنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں میرا پسندیدہ کلر نیلا ہے کالا نہیں اور میں چونکہ ایک پروفیسر ہوں نہ کہ فلمی اداکار تو مجھے جوان نظر آنے کی بھی ضرورت نہیں اور میں بڑھتی عمر کو دکھ بھی نہیں سمجھتا سو میرا بالوں کو رنگ کرنا ایک غیر فطری عمل ہے اور میں نے بالوں کو رنگ کرنا چھوڑ دیا۔

میں نے یہ بھی سوچنا شروع کر دیا کہ لوگ بڑھتی عمر کو دکھ کیوں سمجھتے ہیں خاص کر ہمارے پشتون۔ پشتون کے لئے ”کمزور ہونا اور کمزور دکھنا“ ایک المیہ ہے۔ پشتونوں کی اس نسل کو اپنی بد قسمتی اور پچھلے نسلوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا ہے ایک طرف بزرگوں کے قبائلی روایات اور جائیدادوں کے تنازعات کا بوجھ دوسری طرف نئی نسل کے دور حاضر کے تقاضے ؛ یہ نسل ایک سینڈوچ نسل ہے جس کو ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

دور حاضر کے تقاضے تو کبھی حکومت کو ٹیکس اور کبھی بچوں کے اسکول کو فیس کی صورت میں ادا کر کے پورا کرنا سہل ہے لیکن جائیداد کے تنازعات اور قبائلی روایات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اس نسل کو ”توقعات“ کو پورا کرنے کی ٹریننگ لینی پڑتی ہے۔ دنیا کے مشکل کاموں میں ایک مشکل کام دوسرے انسان کی توقعات پر پورا اترنا ہے ؛ اور پشتونوں کی توقعات، بدل کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ پشتون ولی میں ”بدل“ ایک خاص جز ہے پشتون نا صرف اپنے ساتھ کیے گئے ظلم و زیادتی کو بمعہ سود لوٹاتے ہیں بلکہ کسی کے احسان اور مدد کو اپنے اوپر دنیا کا سب سے بڑا بوجھ سمجھتے ہیں خاص کر اگر یہ احسان اپنے کسی تربور (چچا زاد یا رشتہ دار) کا کیا ہوا ہو پشتون معاشرے میں، کیے گئے احسان کو اگر دن میں پچاس بار بھی دہرانا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا جس کے دو لیکن خاص فطری ردعمل ہوتے ہیں ایک، دوسرے کے احسان کو لینے سے گریز کیا جاتا ہے دوسرا، اگر کسی پر انحصار کر کے اس کا احسان لینا پڑے تو اس کو جتنی جلدی ممکن ہو ایک بوجھ کی طرح اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عمر کے بڑھنے اور بوڑھا ہونے کی صورت میں دوسروں پر انحصار بڑھ جاتا ہے شاید اس لئے بھی بڑھتی عمر کو بالوں میں کلر کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن معاشرے کو جڑے رکھنے میں انحصار کا بہت بڑا کردار ہے دوسروں پر انحصار آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ معاشرے میں بقا کے لئے ضروری ہے کہ آپ دوسروں کے حالات سے اپنے آپ کو باخبر رکھیں وہ جو آپ کے نزدیک ہیں جن پر آپ کو ماضی میں انحصار تھا ان کی مدد کریں کل آپ کو ان کی ضرورت تھی آج ان کو آپ کی ضرورت ہے۔

اس وقت جب کہ ہمارا ملک موسمی حالات میں تبدیلی اور سیلاب سے نبرد آزما ہے تو ایک سبق یہ بھی ہے کہ وہ اقوام جو ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہیں ایک دوسرے کو ساتھ رشتے نباتی ہیں وہی اپنے اردگرد کے ماحول کا بھی خیال رکھ سکتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی سیکھنا ہے کہ اپنے اور دوسروں کے توقعات کو کنٹرول کیسے کرنا ہے۔ ہماری اس اور نئی نسل کو سیکھنا ہے کے وعدہ وعید وہی کریں جس کو پورا کر سکیں۔ چلیں کنگز کراس نزدیک ہے باقی پھر سہی۔

Facebook Comments HS