عمران خان: نیویارک سے کچھ عینی شہادتیں
یہ اکتوبر 1994 کی آخری رات سے متصل رات تھی، ایسٹوریا نیو یارک کے ورلڈ مینر ہال میں چند لمحے پہلے ایک بھر پور محفل سجی ہوئی تھی، ایک درمیانی قدوقامت کا گھنگریالے بالوں والا شخص سٹیج پر اپنی باتوں سے لوگوں کو محظوظ کر رہا تھا۔ آخر میں اس نے حاضرین سے ایک خیراتی ادارے کے لئے عطیات کی اپیل کی تو نقد چیکس اور وعدوں کے انبار لگ گئے۔ جب اس شخص کی اپیل پر حاضرین نے اپنی جیبیں الٹ دیں تو گویا یہ اس محفل کا اختتام تھا۔
شرکائے محفل ایک ایک کر کے چلے گئے تو میرے ساتھ ہال کے سامنے اردو ٹائمز کے مالک اور ایڈیٹر خلیل الرحمٰن میرے دیرینہ ساتھی اور دوست اقبال کھوکھر اور شاید کوئی ایک آدھ اور شخص کھڑا تھا، اور ہمارے بیچ چند لمحے پہلے سٹیج سے اترنے والے دلدار پرویز بھٹی تھے، جو اپنے چٹکلوں سے ہمیں ہنسا رہے تھے۔ اقبال کھوکھر سے دلدار پرویز بھٹی کا لاہور سے ایک دیرینہ تعلق تھا دلدار پرویز بھٹی ماضی کے حوالے سے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔
یہ سر راہے محفل کئی گھنٹوں تک طویل ہوتی گئی میرے جیسے لوگوں کے لئے کھڑا رہنا دوبھر ہو گیا لیکن دلدار پرویز بھٹی کی گفتگو کا آبشار پوری آب و تاب کے ساتھ بہہ رہا تھا۔ جب سپیدۂ سحر کے آثار نمودار ہونے لگے تو ہم نے بادل نخواستہ رخصت لی، دلدار پرویز بھٹی اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے اصرار پر ایک پاکستانی ہوٹل (ریستوران) کچھ کھانے پینے اور پھر اپنے عزیز کے گھر آرام کرنے چلے گئے۔ ہم سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے اور دیر سے سونے کی وجہ سے اگلی صبح دیر تک سوتے رہے۔
دوسرے روز دن چڑھے اٹھ کر میں اردو ٹائمز کے دفتر گیا تو یہ ناقابل یقین اور انتہائی اندوہناک خبر ملی کہ دلدار پرویز بھٹی کا انتقال ہو گیا ہے۔
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
گمان تک نہ ہوا، وہ بچھڑنے والا ہے
دفتر میں ایک ٹیلی فون آیا اور ایک صحافی دوست نے بتایا کہ دلدار پرویز بھٹی شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے آئے ہوئے تھے لیکن عمران خان دلدار پرویز بھٹی کے جسد، خاکی کو پاکستان لے جانے میں کوئی مدد نہیں کر رہے تو ایک ناقابل یقین سا جھٹکا لگا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بعد میں اس بات کی اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تصدیق ہوئی، جب دلدار پرویز بھٹی کے بھتیجے نے فون پر بتایا کہ دلدار پرویز بھٹی کی میت پاکستان لے جانے میں عمران خان نے کوئی تعاون نہیں کیا اور اس وقت جب میت کو جہاز پر لے جایا جا رہا ہے، عمران خان دور ایک کونے میں اپنی گوری گرل فرینڈ کے ساتھ خوش وقتی میں مصروف ہیں۔
یہ ناقابل یقین بھی تھا اور انتہائی تکلیف دہ بھی، ہم میں سے اکثر کرکٹ کے سابق مایہ ناز کپتان سے اس بے حسی کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ خبر کو مرچ مسالہ لگا کر شائع کیا تو اس سے عمران کی ذات کے ساتھ ساتھ شوکت خانم ہسپتال کی شہرت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس لئے میں نے خبر کو نہ تو نمک مرچ لگایا نہ زیادہ نمایاں کیا۔ اگرچہ بعد میں کئی دیگر ذرائع سے خبر کی تصدیق ہو گئی۔ اس پر بھی عمران خان کے مقامی حامیوں نے شکوہ شکایت کی لیکن حقائق کو جھٹلا نہ سکے۔
بہت عرصہ تک بھٹی مرحوم کے اہل خانہ کی شکوہ شکایت کی خبریں آتی رہیں پھر یہ خبر آئی کہ شوکت خانم ہسپتال میں ایک وارڈ اور ایک ریسرچ سینٹر کو دلدار پرویز بھٹی مرحوم سے موسوم کر دیا گیا ہے۔ خبر میں ایسی کوئی تفصیل نہیں تھی کہ اس سے دلدار پرویز بھٹی مرحوم کے پس ماندگان کو کیا فائدہ ہو گا؟ اور اس کے بعد اس وارڈ اور ریسرچ سینٹر کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی۔ خدا جانے شوکت خانم ہسپتال کے کسی وارڈ پر اب بھی دلدار پرویز بھٹی مرحوم کے نام کی تختی لگی ہے یا کئی دوسری تختیوں کی طرح اسے بھی اکھاڑ پھینکا گیا ہے؟
اس واقعے کے ایک عرصے بعد میرے ساتھ کام کرنے والے ایڈیٹر ایم آر فرخ نے مجھے لاس اینجلس ٹائمز کا ایک تراشہ دکھایا جس میں سیتا وائٹ کیس کی تفصیل چھپی تھی۔ ایم آر فرخ کھوجی ذہن کا نوجوان تھا اس کے والد فاتح فرخ میرے روزنامہ مساوات لاہور کے ساتھی تھے۔ میں نے اسے خبر کا ترجمہ کر کے خبر بنانے کو کہہ دیا۔ خبر میں سیتا وائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی 1988 میں عمران سے ملاقات ہوئی۔ اور عمر ان سے اس کی 1991 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ سیتا وائٹ لارڈ گورڈن وائٹ کی بیٹی تھیں۔
خبر کے مطابق عمران خان کے اس حقیقت سے انکار پر سیتا وائٹ نے قانونی راستہ اختیار کیا۔ سیتا وائٹ کی وکیل گلوریا ایلفرڈ تھیں جنھوں نے یہ کیس بہت مہارت سے لڑا۔ جب عمران خان ڈی این اے ٹیسٹ کرانے سے بھاگ گئے تو لاس اینجلس کی عدالت نے عمران خان کو ٹیریان جیڈ وائٹ کا بائیو لاجیکل باپ قرار دے دیا۔ سیتا وائٹ اور ان کی وکیل نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخاب لڑنے اور قوم کی قیادت کے شوق پورے کرنے سے پہلے خان کو باپ کی ذمہ داریاں نبھانا چاہئیں۔ ہم نے خبر کے ساتھ لاس اینجلس ٹائمز کا تراشہ بھی چھاپ دیا تھا اس لئے اس خبر پر عمران کے عاشقوں کی طرف سے کچھ زیادہ شدید رد عمل ظاہر نہیں ہوا۔
چند مہینے بعد عمران خان کو نیویارک کی پاکستانی کمیونٹی میں لانچ کرنے کی کوشش ہوئی۔ پاکستان کے ایک بزعم خود بڑے اخبار کے میگزین کے نمائندے نے مین ہیٹن کے کشمیر ریستوراں میں ایک اجتماع کا اہتمام کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس میں عمران خان کے اس وقت کے دوست اور مشیر اور آج عمران کے شدید مخالف محسن بیگ بھی شامل تھے یا نہیں۔ محسن بیگ سے میری ملاقات کشمیر ریستوراں کے مالک جناب خالد شاہین بٹ نے کرائی تھی۔ محسن بیگ کوئی نیوز ایجنسی لانچ کرنے جا رہے تھے اور بٹ صاحب کا خیال تھا کہ میں ان کے ساتھ شاید کام کر سکوں لیکن محسن بیگ کا کہنا تھا کہ ان کا پراجیکٹ اس لیول کا نہیں کہ اس میں تنخواہ پر دوسرے لوگوں کو شامل کیا جائے۔
بہر حال جب کشمیر ریستوراں میں اس اجتماع کا اعلان ہوا تو میرے مرحوم دوست مسلم نیوز کے مالک اور ایڈیٹر جناب مظاہر نقوی نے مجھے کہا کہ عمران لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے اور کچھ صحافی اس کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اردو ٹائمز کے جس شمارے میں سیتا وائٹ والی خبر چھپی تھی وہ کشمیر ریستوراں والے اجتماع میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ میں نے دفتر جاکر دیکھا تو اس خبر والے محض دو تین شمارے مل سکے۔ مظاہر نقوی مرحوم نے کہا کہ اس خبر کو ایک پوسٹر کی طرح چھاپ لیتے ہیں اور اسے عین اجتماع کے وقت وہاں رکھ دیں گے۔
مرحوم نے ٹیبلوائڈ سائز پر اس خبر کے پوسٹر اپنے اخبار کے پریس سے چھپوا لئے۔ اجتماع والے دن ہم نے ایک یلو کیب کرائے پر لی اور پوسٹر اس میں رکھ کر کشمیر ریستوراں 42 سٹریٹ مین ہیٹن پہنچ گئے۔ ہم نے ٹیکسی ڈرائیور کو کچھ اور رقم پیش کی اور اسے کہا کہ وہ نیچے جناح ہال (جو نیچے تہہ خانے میں واقع ہے اور اس کا افتتاح میاں نواز شریف نے کیا تھا) میں یہ پوسٹر رکھ دے۔ اس نے بنڈل اٹھایا اور ریستوراں میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہ بھاگتا ہوا آیا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور ٹیکسی بھگا لی، ہم تو پہلے ہی ٹیکسی میں اس کا انتظار کر رہے تھے۔
ہم نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے بتایا کہ بنڈل تو اس نے ایک سائیڈ پر رکھ دیا کچھ لوگ پوچھنے لگے کہ یہ کیا ہے تو اس نے ایک دو پوسٹر ان کے ہاتھ میں دے دیے۔ اس کے ساتھ مجمعے میں بھگدڑ مچ گئی اور اس نے وہاں سے نکلنے میں خیریت سمجھی اور بھاگ آیا۔ اجتماع منتشر ہو گیا اور عمران کی باتوں کی بجائے پوسٹر اور سیتا وائٹ شرکا کا موضوع بن گئے۔
اب اس عینی شہادت کا ایک اور مرحلہ آتا ہے۔ عمران خان کے بعض حامیوں نے اخبار میں خبر بھیجی کہ نصرت فتح علی خان کے گردے ختم ہو گئے ہیں اور اب وہ کبھی گا نہیں سکیں گے۔ ہم نے یہ خبر عمران خان کے ساتھیوں کے حوالے سے لگا دی۔ مرحوم نصرت فتح علی خان کے ایک عقیدت مند اور میزبان سلامت علی خان نے ہمیں کال کر کے بتایا کہ مرحوم کے گردے واقعی خراب ہیں لیکن اس کا ان کے گانے سے کوئی تعلق نہیں دراصل عمران خان اور نصرت فتح علی خاں میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اس لئے عمران خان کے لوگ ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں۔
سلامت علی خان نے کہا کہ نصرت فتح علی خان ایک پروگرام کے لئے لندن جا رہے ہیں، لندن جاتے ہوئے وہ نیویارک میں رکیں گے اور ایک محفل میں گائیں گے بھی، آپ خود نصرت فتح علی خان سے مل کر بات چیت کر لیں۔ نصرت فتح علی خان دوسرے روز ہی لٹل پاکستان کہلانے والے بروک لین نیو یارک میں پرفارم کرنے والے تھے ہمارے لئے تو یہ ایک سنہری موقع تھا ہم نے ہامی بھر لی اور دوسرے دن میں اور جناب خلیل الرحمٰن بروک لین کے لئے چل پڑے
راستے میں ٹریفک پھنسی ہوئی تھی اس لئے جب ہم بروک لین کے ریستوراں میں پہنچے تو پروگرام شروع ہو چکا تھا ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی لوگ دروازے میں بھی کھڑے تھے ہم بمشکل لوگوں کی بغلوں سے گھس کر اتنے اندر جا سکے کہ مرحوم نصرت فتح علی خان کی نظر ہم پر پڑ سکے، یہی ہوا ان کی نظر ہم پر پڑی اور انھوں نے اشارہ کیا کہ ہال والے ریستوراں کے ڈائیننگ ہال میں ان کا انتظار کریں ہم دروازے میں کھڑی بھیڑ سے بمشکل نکلے اور اور ملحقہ ڈائیننگ ہال میں جاکر بیٹھ گئے۔
مرحوم گا کر فارغ ہوئے تو سیدھے ہمارے پاس آئے ہم گلاب جامن کھا رہے تھے انھیں بھی پیش کیے تو انھوں نے ایک گلاب جامن اٹھالیا اور کھانے لگے ان کا مینیجر نہیں نہیں کرتا رہ گیا، خان صاحب آپ کی شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی اور آپ میٹھا کھا رہے ہیں۔ نصرت فتح علی خان نے کہا ان بھائیوں نے خلوص سے پیش کیا تو ناں نہیں کر سکا۔ (میں اس طویل انٹرویو کے مندرجات یہاں مختصراً پیش کرتا ہوں یہ انٹرویو نیو یارک میں بھی چھپا تھا اور پاکستان میں بھی شائع ہوا تھا۔)
میں نے مرحوم سے درخواست کی کہ عمرانی ٹولے کی پھیلائی خبروں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ مرحوم نے کہا میرے گردے خراب ہیں لیکن میں گلے سے گاتا ہوں گردوں سے نہیں۔ لندن والے پروگرام کے بعد میں انڈیا جا رہا ہوں گردوں کی ٹرانسپلانٹ کرانے کا انتظام ہو چکا ہے۔ میں نے دوسرا سوال کیا عمران خان سے کیا اختلافات ہیں۔ مرحوم نصرت فتح علی خان نے ان اختلافات کی یوں کہانی سنائی۔
”میں نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے کہاں کہاں اور کتنے پروگرام کیے میرا اللہ گواہ ہے۔ عمران میں وفا نام کی کوئی چیز نہیں ہے، میرا ایک مینیجر تھا جس پر میں اندھا اعتماد کرتا تھا، لیکن اس نے پیسوں میں ہیرا پھیری کی مجھے اس بات کا سخت صدمہ پہنچا کہ اس نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی میں نے اسے نکال دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ عمران خان کے آگے پیچھے پھر رہا ہے تو میں نے عمران خان سے کہا کہ یہ شخص بے ایمان ہے آپ اسے منہ نہ لگائیں اس نے میرا دل دکھایا ہے۔ عمران خان نے کہا نہیں نہیں میں اسے کیوں منہ لگاؤں گا۔ اگلے دن ایک پروگرام میں جب میں سٹیج پر گیا تو وہ بے ایمان مینیجر پہلی صف میں عمران خان کے ساتھ بیٹھا تھا، پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ عمران خان نے اسے اپنے پاس نوکری دے دی ہے۔”
نصرت فتح علی خان نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا ”میں نے کبھی پیسوں کی وجہ سے سٹیج پر جا کر گانے سے انکار نہیں کیا لیکن اس بات پر میں نے گانے سے انکار کر دیا۔ بڑی منت سماجت اور کچھ لوگوں کے بیچ میں آ جانے سے میں نے گایا لیکن مجھے عمران خان کے رویے سے شدید تکلیف پہنچی، میرا دل ٹوٹ گیا۔ عمران نے ہماری طویل رفاقت پر ایک کرپٹ شخص کا ساتھ دیا میرا خیال تھا کہ عمران خان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گا تو وہ مجھ سے معذرت ضرور کرے گا اور چور کے لئے بھی مجھ سے سفارش کرے گا تو میں عمران خان سے دیرینہ تعلقات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کروں گا۔ لیکن عمران خان نے اس پر کسی معذرت کی زحمت نہیں کی، اس طرح میں نے بھی عمران خان کو چھوڑ دیا۔“
اس کہانی کو سن کر پہلی بار مجھے اس امر کا احساس ہوا کہ عمران خان کو بدعنوان، بے ایمان، اور بد دیانت لوگوں سے خصوصی لگاؤ ہے۔ میں نے بار بار نصرت فتح علی خان مرحوم سے عرض کی کہ وہ لندن کے پروگرام کو چھوڑ کر گردوں کی ٹرانسپلانٹ کے لئے انڈیا چلے جائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ لندن والوں نے بڑا خرچہ کر رکھا ہے اگر میں نہ گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا اور وہ اپنی صحت کے لئے انڈیا جانے کو مؤخر کر کے لندن چلے گئے۔ نصرت فتح علی خان نے لندن والوں کو تو نقصان سے بچا لیا لیکن اس پروگرام کے بعد ان کے پاس انڈیا جانے کا وقت ختم ہو گیا اور وہ لندن میں ہی وعدہ نبھاتے ہوئے اللہ تعالٰی سے وعدہ نبھانے چل دیے۔
اس کے بعد مجھ پر عمران خان کی اصلیت کھل گئی۔ میں نے سیتا وائٹ پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ عمران دولت مند عورتوں کو گھیرتا تھا سیتا وائٹ ایک دولت مند عورت تو تھی لیکن اس کے باپ نے ایک ٹرسٹ بنا رکھا تھا جس سے اسے ایک محدود رقم ملتی تھی اس کا ایک سوتیلا بھائی بھی تھا جو اس کے ساتھ جائیداد میں شریک تھا، ٹرسٹ سے ملنے والی رقم سے بمشکل سیتا وائٹ کا گزارہ ہوتا تھا اس کا طرز زندگی جیسا تھا اسے برقرار رکھنے کے لئے وہ ہمیشہ مزید رقم کا تقاضا کرتی رہتی تھی۔ عمران خان نے جس امارت کی لالچ میں سیتا وائٹ کو پھانسا تھا وہ خواب پورا نہ ہوا تو ایک بچی پیدا کر کے اسے چھوڑ دیا سیتا وائٹ کینسر کی مریضہ، امیر باپ کی بیٹی، لیکن ایک مظلوم عورت تھی۔




