زندگی رکتی نہیں ہے

ہر انسان کی زندگی میں مختلف مراحل آتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو کسی خوش گوار احساس کے گرد پاتا ہے یا کسی مشکل میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اور زندگی جو کہ وقت کی لڑی میں پرو دی گئی ہے اسی وقت کے ادل بدل سے راحت یا زحمت کے لمحات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے وقت گزرتا چلا جاتا ہے ویسے ہی سکون یا بے سکونی کی ساعتیں بھی گزرتی چلی جاتی ہیں۔ دن پھرتے رہتے ہیں، حالات کروٹیں لیتے ہیں اور یوں زندگی اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
زندگی میں کبھی بھی یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ بس اب اس کے بعد کوئی امتحان نہیں آئے گا، کوئی مشکل درپیش نہیں ہو گی، کسی ابتلا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کسی سرخروئی کی امید نہیں، کسی آسانی کا امکان نہیں، کسی قرار کی توقع نہیں۔ زندگی دراصل اسی کشمکش کا نام ہے جس میں آس و یاس ہے، جس میں اعتبار و اندیشہ ہے، جس میں یقین و بے یقینی ہے۔
یہاں کچھ بھی آخری، مکمل، حتمی یا دائمی نہیں ہے۔ جیسے ہم کسی موبائل یا کمپیوٹر پہ کھیلی جانے والی گیم کے آخری لیول یا اسٹیج تک پہنچ جاتے ہیں ویسا زندگی میں بالکل بھی نہیں ہوتا۔ یہاں ایک لیول اپ کیا تو زندگی ایک نئے مرحلے کے ساتھ نمودار ہوتی ہے جہاں آزمائشوں اور آسائشوں کا ایک نیا سلسلہ دروازے پہ دستک دیتا ہے اور اپنے ہمراہ کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک نیا اور اچھوتا پیکج لیے ہوتا ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ لمحۂ موجود کی خوشی اور غم کی شدت ماضی یا مستقبل کی کسی خوشی اور غم کی نسبت کئی گنا ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سکھ کی گھڑیاں ہمیشہ کے لئے رک جائیں جو کہ نہیں رکتیں اور بعینہ دکھ کے پل کبھی لوٹ کہ نہ آئیں جو کہ آتے ہیں۔ زندگی اسی تغیر و تبدل کا نام ہے۔ یہ جتنا جلدی سمجھ آ جاتا ہے اتنا ہی اس دنیا میں اپنا سفر جاری رکھنے میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ زندگی تو چلتی چلی جاتی ہے، رکتی نہیں ہے!

