ایلف شفق ایک ترک ناول نگار ہیں۔ وہ اپنے ناول ’دی فورٹی رولز آف لو‘ میں ایک مکالمہ تحریر کرتی ہیں : ’شمس تبریز کی جب ایک بھکاری حسن سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد اس کا نام دریافت کرتے ہیں۔ اس پر بھکاری قہقہہ لگاتے ہوئے گویا ہوتا ہے کہ مجھ جیسے انسان کے لیے بھلا نام کی کیا ضرورت ہے؟ شمس تبریز جواب دیتے ہیں کہ ہر کسی کا کوئی نام ہوتا ہے۔ خدا کے بھی تو ان گنت نام ہیں ؛ ہم تو صرف ننانوے جانتے ہیں۔ اگر خدا کے اتنے نام ہو سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان جو کہ خدا کا اظہار ہے وہ بغیر کسی نام کے ہو؟‘
ماہرین زبان کا یہ ماننا ہے کہ زبان کا ایک اہم استعمال چیزوں، لوگوں، جگہوں وغیرہ کو نام دینا ہے۔ انسان کی پیدائش پر والدین اس کا نام رکھتے ہیں جس سے وہ پکارا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تاہم اپنے اصلی نام کی بجائے کچھ اور کہلوانا پسند کرتے ہیں جیسے کچھ آرٹسٹ، لکھاری اور شعراء اپنے لیے بالترتیب اسٹیج نیم، قلمی نام اور تخلص کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنی محبت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے کوئی نک نیم یا عرف تجویز کر لیتے ہیں۔
Read more