کلام اقبال کی عصری معنویت
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کہا تھا
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
”شیکسپیئر“ نظم میں مندرجہ بالا شعر شیکسپیئر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ صاحب نے رقم کیا تھا مگر دیکھا جائے تو ان کا یہ شعر خود ان پر بھی صادق آتا ہے۔ علامہ اقبال کی وفات کو ایک صدی ہونے میں چند ہی برس باقی ہیں لیکن آج بھی ان کے کلام کو اسی شد و مد سے پڑھا جاتا ہے۔ انھیں نے مختلف نظریات بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے مثلاً: زندگی کیا چیز ہے، سلطنت کس کو کہتے ہیں، جہاد کیا ہے، مرد مومن، تصور عشق، تصور خودی، جمہوریت و ملوکیت کے بارے میں جو لکھا جو کہا وہی ان کو جہان رنگ و بو میں آفاقیت کے طرف لے آیا کہ آفاقیت و عصری معنویت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے نظریہ حیات بارے ایک شعر دیکھیے کہ جو آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھی تر و تازہ نظر آتا ہے۔ نظم ”خضر راہ“ میں لکھتے ہیں
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگی
اسی طرح سلطنت کے بارے میں اپنے آفاقی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صرف اور صرف خدا کی ذات کو ہی حاکم اعلی تصور کرتے ہیں یقیناً یہ نظریہ عصری صورت حال میں بھی یکساں کارگر ہے۔ لکھتے ہیں :
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمران ہے اک وہی باقی سب بتان آزری
اقبال کی شاعری بارے بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اتنی ہی وسعت ہے جتنی کائنات میں۔ بہت سارے شعرا و ادبا نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں مگر اقبال کا یہ اختصاص ہے کہ ان کے نظریات میں توازن پایا جاتا ہے اور یہی ان کو آفاقیت عطا کرتا ہے۔ اقبال نے نظریہ حیات پیش کرتے ہوئے بھی توازن سے کام لیا ہے وہ ہمیں ”حال“ پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں نہ کہ ماضی و مستقبل کے حسین جھروکوں میں غوص زن ہیں۔ اقبال کی شاعری کو جو ایک اور شے آفاقیت عطا کرتی ہے وہ پرانی روایات کو نئے انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ ہے۔ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے بھی لکھا تھا کہ ایک بات جو اقبال کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ پرانی روایات کو اس طرح برتتا ہے کہ ان کا مفہوم بدل جاتا ہے اور ان میں نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔
اقبال کا ایک اور اہم تصور ”عشق“ ہے جس میں ہمیں بھر پور انداز میں عصری معنویت ملتی ہے۔ وہ عشق کو زندگی کے لیے لازمی جذبہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عشق ہی وہ رستہ ہے جس کے ذریعے انسان منزل حقیقی یعنی خداوند متعال سے وصل کر سکتا ہے اور جس دل میں عشق کی تڑپ نہیں ہے اسے نا مکمل قرار دیا گیا ہے۔ عشق ہی وہ جذبہ ہے جسے کبھی موت نہیں آ سکتی بالکل اسی طرح جس طرح اقبال کے نظریہ عشق کو موت نہیں آئی اور آج بھی یہ عشاق کو رہنمائی عطا کر رہا ہے اسی طرح جیسے آج سے ساٹھ یا ستر برس قبل کر رہا تھا۔
عشق کو علامہ صاحب نے ”دم جبرائیل“ کہا ہے، عشق کا مستی کہا ہے، عشق کو نور حیات کہا ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”مسجد قرطبہ“ خاص مقام رکھتی ہے۔ مسجد قرطبہ کو انہوں نے کہا ہے کہ تیرا وجود عشق سے ہے اور عشق کو خدا کا رسول کہا ہے، عشق کو خدا کا کلام کہا ہے اور عشق کو نار حیات کہا ہے۔ ”مسجد قرطبہ“ میں لکھتے ہیں :
عشق کے مضراب سے نغمہ تار حیات
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات
اقبال کا کلام عصری معنویت رکھتا ہے اس میں اور بہت ساری وجوہات کے ساتھ سفر یورپ کو بھی خاص دخل ہے، سفر یورپ نے آپ کی شاعری میں انقلاب برپا کیا۔ آپ نے وہاں کی ثقافت و معاشرت اور سیاست کا بغور مطالعہ کیا تو پتا چلا کہ ہم جس نظام کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ تو کھوکھلا ہے اس کی تو بنا دیں کچی مٹی سے بنی ہیں جو کسی بھی وقت دھڑم سے نیچے آ گرے گا۔ یورپ سے واپسی پر اقبال نے مختلف نظریات بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا عشق، زندگی، خودی اور وقت کی اہمیت بارے انہوں نے ایسے آفاقی نظریات پیش کیے جو آج کے سماج پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ رقم طراز ہیں :
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثات
سلسلۂ روز و شب اصل حیات و ممات
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثبات


