پل پل رنگ بدلتا پاک بھارت کرکٹ میچ


کل پاکستان نے ٹاس جیتا اور بھارت کو بلے بازی کی دعوت دی، جسے روہت اور راہول نے خوشی سے قبول کیا۔ نسیم ہو یا حسنین یا پھر گیند بازی کے لیے آیا حارث۔ تینوں گیند بازوں کو دھویا اور رج کے دھویا، شاندار پل شاٹ پر روہت کا چھکا ہو یا ایکسٹرا کور پر راہول کا سکسر۔

پانچ اوورز میں بلیو شرٹس کی نصف سنچری مکمل ہوئی تو پہلے گیند بازی کا فیصلہ تب تک پاکستان کے خلاف جاتا نظر آ رہا تھا اور پھر روہت نے حارث کی سلو گیند کو عوام کے درمیان بھیجنے کی کوشش ناکام ٹھہری اور خوشدل نے شاندار کیچ تھام کر ہم سب کے دل خوش کر دیے۔

کوہلی آئے تو بھی رنز بننے کی رفتار میں کمی واقع نہ ہوئی، کپتان کی نظر انتخاب شاداب پر پڑی تو اس نے مایوس نہ کیا اور راہول کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے کچھ سکھ کا سانس لینے دیا، اسی دوران عالمی نمبر ایک بننے کے لیے پر تولنے والے سوریا کمار آئے تو پہلی گیند پر چوکا لگایا اور خطرے ناک ہونے کا اعلان کیا مگر وہ شاید یہ بھول چکا تھا کہ یہ ہانگ کانگ کا باؤلنگ اٹیک نہیں ہے جس کو دو سو پلس کے سٹرائیک ریٹ سے مار مار کر دنبہ بنا دیا تھا۔ آصف علی کے ہاتھوں میں نواز کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تو ان کو یقیناً سمجھ آ گئی ہو گی کہ معیاری گیند بازی کسے کہتے ہیں۔

اب کوہلی کو پنت نے جوائن کیا مگر تب تک پاکستان میچ میں واپس آ چکا تھا۔ رنز بننے کی رفتار میں کمی آئی۔

بلیو شرٹس کی سنچری دسویں اوور میں مکمل ہوئی تو ایک بڑے ٹوٹل کی امید بن چکی تھی۔ مگر یہاں سے شاداب و نواز کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ بھارت کے بلے بازوں کو نہ صرف باندھ کر رکھا بلکہ اسی دوران پنت، پانڈیا اور ہودا کی وکٹیں حاصل کر کے بھارت کی بڑے ٹوٹل تک پہنچنے کی سعی کو ناکام بنا دیا، کوہلی کا بلا رنز اگلتا رہا اور آخری اوور میں 44 گیندوں پر 60 رنز بنا کر رخصت ہوئے، فخر کی خراب فیلڈنگ کے باعث آخری دو گیندوں پر دو چوکے بھارت نے بٹورے تو تب تک سکور بورڈ پر 181 کا مجموعہ درج ہو چکا تھا۔ اوور آل پاکستان کی فیلڈنگ قابل تعریف رہی۔ نواز کا عمدہ کیچ یا آصف علی کا کوہلی کو ڈائریکٹ ہٹ پر رن آؤٹ یہ سبھی قابل دید تھا۔ شاداب و نواز کی عمدہ باؤلنگ کی ایک بار پھر تعریف۔

اب پاکستان کی باری شروع ہوئی تو پہلے اوور میں ہی دو چوکے بٹور کر بتلا دیا کہ بلے بازی ہو گی پازیٹو مگر کپتان بابر کی ناکامی کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ بشنوئی کی ایک ہلکی سی باؤنس لیتی ہوئی گیند شرما کے ہاتھوں میں پہنچی تو پاکستان کو ایک زبردست جھٹکا لگ چکا تھا۔ کوئی بات نہیں کپتان! تمہاری پشت پر ہم سب کھڑے ہیں۔ فارم روٹھتی رہتی ہے۔ مگر کلاس ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تم جلد ہی واپسی کرو گے۔

فخر آئے تو ہم بھول چکے تھے کہ یہ وہی فخر ہے جس پر زمانے بھر کو فخر ہوا کرتا تھا۔ 18 گیندوں پر 15 رنز بنا کر اعتماد سے عاری باری کھیلی اور پاکستان کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چلتے بنے۔ چتر چالاک چاہل نے یہ وکٹ حاصل کی اور پھر پالیسی سازوں نے تجربہ کرتے ہوئے مشکل حالات سے ملک کو نکالنے کے لیے ”نواز“ کو بھیج دیا جنہوں نے شاندار چوکا لگایا اور پھر پانڈیا کو ایک جاندار چھکا جڑ دیا۔

ہم سب جان چکے تھے کہ بلاشبہ نواز ہی اس ملک کی آخری امید ہے۔ میدان میں کسی ”نور جہاں“ کی ضرورت تھی جو پاکستانی کھلاڑیوں میں آگ لگا دے اور وہ کھل کر کھیلنا شروع کر دیں۔

دس اوورز کے اختتام پر پاکستان کا سکور محض 76 رنز تھا اور اب باری کو گیئر لگانے کی ضرورت تھی جو رضوان نے وقفے کے بعد پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر بتلا دیا کہ ابھی امید باقی ہے۔ ابھی میچ باقی ہے۔ دوسری جانب نواز اپنا کام بہت اچھے سے کر رہے تھے اور بارہویں اوور میں سکور 96 ہو چکا تھا۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے اور ساحر علی بگا کی خوبصورت آواز میں نغمہ دوبئی کے میدان میں موجود پاکستانی تماشائیوں کے اندر امید جگا رہا تھا جوش و ولولہ بڑھا رہا تھا۔

کھائی ہے قسم، کھائی ہے با خدا
سن لے دشمن سدا، یہ وطن ہے سدا

ہر دل کی آواز
دل دل کی آواز
پاکستان زندہ باد

رضوان کی نصف اور پاکستان کی کامل سنچری مکمل ہوئی تو پاکستان ہدف کے تعاقب میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ نواز سر جھکائے اپنا کام کر رہا تھا۔ رضوان کا بلا بھی چل رہا تھا اور لیٹ کر میچ دیکھنے والا سعیدی بیڈ روم سے نکل کر ٹیرس پر جا پہنچا تھا۔ 29 گیندوں پر ان دونوں کے درمیان نصف سنچری کی شراکت مکمل ہو چکی تھی۔

‏قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے اور کامیابی انہی کو ملتی ہے جو آگے بڑھ کر روند ڈالنا جانتے ہوں، پانڈیا کا باؤنسر نواز کے بلے کا اوپری کنارہ لیتا ہوا وکٹ کیپر کے سر سے چوکے کے لیے روانہ ہوا تو میدان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ نواز کے اوور میں دو چوکے اور پاکستان 14 اوورز میں 119 رنز پر پہنچ چکا تھا۔

اگلا اوور شروع ہوا تو نواز کی سلوگ سویپ پر ایک نہیں دو بار گیند باؤنڈری لائن کراس کر چکی تھی۔ پالیسی سازوں کا تجربہ کامیاب ہو چکا تھا کہ کپتان اگر ناکام ہو تو پھر ملک بچانے نواز ہی آئے گا۔ دوسری طرف رضوان بھی چہل قدمی کرتے ہوئے چہل کو گیند بازی سکھا رہے تھے۔ میدان میں آگ لگ چکی تھی۔ بلیو شرٹس کے شائقین مایوس ہو چکے تھے اور دوبئی کا میدان۔

جیتے گا بھئی جیتے گا
پاکستان جیتے گا

کا نعرہ خون گرما رہا تھا۔ آخری پانچ اوورز میں پاکستان کو 47 رنز درکار تھے۔ 8 وکٹیں ہاتھ میں تھیں اور پاکستان کچھ کر دکھانے کا عزم کر رہا تھا۔

روہت شرما نے گیند بھووی کو تھمائی تو نواز کو باہر جانا پڑا، چھکا لگانے کی کوشش ناکام رہی اور 20 گیندوں پر 42 رنز کی ایک شاندار، جاندار اور تگڑی باری نے میچ پاکستان کی طرف جھکا دیا تھا۔ ان کی اس باری سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے پچھلے میچ کے ہیرو شاہ جی کی آمد ہو چکی تھی۔

پاکستان کو آخری چار اوورز میں جیت کے لیے 42 رنز درکار تھے اور سعیدی گنگنا رہا تھا۔

‏رضوان توں آخری ایں
تیڈے بعد قیامت اے

یہ سطور لکھ ہی رہا تھا کہ رضوان 51 گیندوں پر 71 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا۔ مقابلہ اب برابری کی سطح پر تھا۔ پاکستان کو 3 اوورز میں 35 رنز درکار تھے اور آصف کے ساتھ خوشدل شاہ کریز پر تھے۔

آج آصف کو اپنی ذمہ داری نبھانی تھی۔ آج آصف کو اپنے اوپر کی گئی سرمایہ کاری حلال کرنی تھی۔ روزانہ پریکٹس میچ میں 150 چھکے لگانے والے آصف علی کے لیے کہ ایک سنہری چانس تھا کہ وہ چار پانچ چھکے آج لگا ہی دے۔

وائیڈ گیند پر جب آن فیلڈ ایمپائر نے ناٹ آؤٹ دیا بھارت نے ریویو لے لیا اور تیسرے ایمپائر نے کافی دیر بعد ناٹ آؤٹ دیا، اس بیچارے کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود جا کر الٹرا ایج والے سکیل کو انگلی مار دے، بھارت کی مکمل سپورٹ کر رہا تھا یہ بندہ۔

میچ میں ایک اور ڈرامہ در آیا جب ارشدیپ نے آصف علی کا ایک انتہائی آسان کیچ ڈراپ کر دیا، یہ کیچ چھوڑا یا میچ چھوڑا؟ یہ تو چند لمحوں بعد علم ہونے والا تھا مگر پاکستان کے لیے صورتحال تسلی بخش نہیں تھی۔ دو اوورز میں 26 رنز درکار تھے اور کسی غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت تھی۔

بھونیشور کی سلو گیند کو لارڈ آصف علی نے 93 میٹر لمبا چھکا اور خوشدل نے چوکا مار کر عوام کے درمیان بھیجا تو پاکستان پھر سے میچ میں واپس آ چکا تھا۔ لارڈ آصف علی نے اس اوور کی آخری گیند کو پھر سے ہوائی راستے سے باؤنڈری میں بھیجنا چاہا مگر ایک ٹپہ کھا کر گیند باؤنڈری لائن کراس کر گئی۔ 19 رنز بٹور کر پاکستان نے میچ کو اپنی طرف جھکا لیا، آخری اوور میں سات رنز درکار تھے۔

بھارت کے چہرے اتر چکے تھے۔ سلو اوور ریٹ کی پنالٹی لگ چکی تھی اور پاکستان جیت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ آصف کا ایک اور چوکا اور پاکستان کو بس دو رنز درکار تھے کہ آصف علی ایل بی ڈبلیو قرار، پاکستان نے ریویو لیا مگر بے سود۔

اب دو گیندوں پر دو رنز چاہیے تھے۔ کیا میچ سپر اوور کی طرف جا رہا تھا؟ کیا مزید ڈرامہ باقی تھا؟

جی نہیں۔

یارکر کی کوشش ناکام ٹھہری اور افتخار نے فل ٹاس بناتے ہوئے سٹریٹ ڈرائیو پر شاٹ لگا کر ہدف پورا کر لیا۔ الحمدللہ۔ پاکستان۔ ہمیشہ زندہ باد۔

رضوان اور نواز کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ آصف علی کی مختصر باری بھی نہایت عمدہ رہی۔ ‏بھارت نے پاکستان کو پانچ وکٹ سے ہرایا تھا۔ پاکستان نے بھی پانچ وکٹوں سے ہرا کر حساب برابر کر دیا۔ ایک اور بہت شاندار مقابلہ۔

Facebook Comments HS