عمران خان کو آرمی چیف نہیں، ایک تھانیدار کی تلاش ہے


عمران خان کے بیان پر ملک میں جو بحث ہونی چاہیے، وہ نہیں ہو رہی۔ غداری، کفر، مومن اور حب الوطنی چونکہ پسندیدہ کھیل ہے اس لئے بحث کا رخ بھی اس طرف ہے۔ سیاستدان تو ایک طرف، دانشور بھی وہ بحث نہیں اٹھا رہے جس کی ایک جمہوری معاشرے میں توقع کی جا سکتی ہے۔

باقی ہر طرف بحث یہ ہو رہی ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنی پسند کے جرنیل کو محب وطن گردانا جبکہ نواز شریف اور زرداری صاحب کے متوقع (فی الحال فرضی) جنرل کو غیر محب وطن۔ حالانکہ نیوٹرل اور سول سپرمیسی کی دہائی دینے والا عمران خان یہ کہہ رہا ہے کہ ان کے معیار حب الوطنی پر پورا اترنے والا جرنیل نواز شریف اور زرداری کی چوری پکڑے گا۔ آپ معاف کیجئے گا لیکن کیا آئین پاکستان ایک آرمی چیف کو کسی سیاستدان کی چوری پکڑنے کی ذمہ داریاں تفویض کرتا ہے؟ کیا جمہوری اقدار ایک سابق وزیراعظم اور شاید مستقبل کے بھی وزیراعظم کو اس عجیب منطق کی اجازت دیتی ہیں؟ کیا آرمی چیف کے سر پر خواہ مخواہ اور بن مانگے ایک ایسی ذمہ داری نہیں تھوپی جا رہی جس سے جان چھڑوانے کا اعلان فوج کی اعلی قیادت متعدد دفعہ کرچکی ہے؟

خان صاحب معاف کیجئے گا آپ جیسا منتشر الخیال (کنفیوزڈ) آدمی اس ملک کو کم ہی نصیب ہوا ہو گا۔ زبان کا پھسل جانا، اعداد و شمار حافظے سے محو ہو جانا، تقریر کرتے الفاظ اور خیالات میں ربط نہ رہنا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑے بڑے لوگوں سے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہو جایا کرتی ہیں۔ لیکن آپ کا نظریہ ہے کیا؟ آپ چاہتے کیا ہیں؟ قوم کو پہلے یہ بتائیے کہ آپ کا مطمح نظر ہے کیا؟ فوج سیاسی ہونی چاہیے یا غیر سیاسی؟ آیا فوج آپ کی ذات تک غیر سیاسی ہو اور باقی ساری سیاسی پارٹیوں کے لئے آپ اسے سیاست میں شامل رکھنا چاہتے ہیں؟ آپ کے بقول آپ کی 25 سالہ جدوجہد نے آپ کو سکھایا کیا ہے؟

آپ کی سیاسی جدوجہد، آپ کا کرزما، آپ کی خود پسندی، آپ کا مغرب کو سب سے زیادہ جاننا ایک طرف لیکن آپ جس طرح مسلح افواج کو سیاست زدہ کر رہے ہیں اتنا تو شاید چار آمروں نے بھی نہ کیا ہو گا۔ آپ مرضی کا جرنیل جو آپ کے اشارے پر آپ کے سیاسی مخالفین کو کچل دے، اس کے لئے اتاولے ہوئے جاتے ہیں۔ آپ دوسرے لفظوں میں اپنے آپ کو ایسی دیومالائی شخصیت سمجھ رہے ہیں جس کی طرف کوئی انگلی نہ اٹھائے لیکن وہ خود بغیر سوچے سمجھے جو مرضی کرتا چلا جائے۔

جج، جرنیل، آئی جی، بیوروکریٹ سب آپ کے حلقہ بیعت میں ہوں۔ آپ کے پاس سے جانے والا انسان کے مرتبے پر بھی نہ ہو لیکن آپ کے پاس آنے والا ہر ڈاکو چور، سادھو ہو؟ آپ کرکٹ میں نیوٹرل امپائر کی تعیناتی کا کریڈٹ لیں لیکن امپائر کی انگلی صرف اپنے حق میں اٹھنے کے خواہش مند رہیں لیکن دوسروں کے حق میں انگلی اٹھنے سے پہلے ہی صرف ان کی اپیل پر ہی امپائر کو متنازع کر دیں۔

ویسے آپ مغربی جمہوریت کو سب سے بہتر جاننے کے دعویدار کو خبر ہو کہ مغربی جمہوریت میں امپائر غیر جمہوری قوتیں نہیں، عوام ہوتے ہیں۔ انہی کی انگلی میں ہی طاقت ہوتی ہے۔ آپ کو یہ بھی خبر ہو کہ جمہوریت میں زرداری اور نواز شریف کی کرپشن پکڑنے کی آس آنے والے چیف آف آرمی سٹاف سے نہیں لگائی جاتی بلکہ ان اداروں کو مضبوط کیا جاتا ہے جن کو آپ کہتے ہیں کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا، میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ جی ان اداروں کو بھی جن کا آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ جوڈیشل افسر ہیں یا نہیں اور ہاں جن کے خلاف آپ ”کسی اور کے اشارے“ پر صدارتی ریفرنس بھجوا دیتے ہیں۔

یہ تحریر لکھ رہا تھا کہ اس دوران رضا ربانی صاحب کا بیان پڑھا۔ انہی سے توقع تھی۔ انہوں نے یہی بات کی ہے کہ ”عمران خان نے آرمی چیف کے کردار کو سویلین کے احتساب سے جوڑا، اس سے سابق وزیر اعظم کی آئین سے لاعلمی واضح ہے۔“

نوٹ: محترم پرویز رشید نے بھی کل ٹویٹ کی تھی کہ عمران خان آرمی چیف اور چیئرمین نیب کا فرق نہیں سمجھتے۔ (مدیر)

Facebook Comments HS