برہنہ سچائی، جو کنویں کی تہہ میں جا چکی ہے


سرکاری سکول کی استانی جب بھی ذرا سستانے کے موڈ میں ہوتیں تو مجھے کلاس کے آگے کھڑا کر کے خود کہیں نکل جاتیں اور اگلے کئی گھنٹے کلاس کے سب بچے کورس کی شکل میں یہ نظم دہراتے رہتے۔

اردو کی پہلی یا دوسری کتاب میں اسمعیٰل میرٹھی کی وہ نظم مجھے آج تک یاد ہے، نظم تھی؛
”سچ کہو ہمیشہ سچ“

جہاں سچ کے پرچار سے استانی صاحبہ کی انا کو تسکین ملتی، وہیں وہ اپنے ضروری و غیر ضروری کام بھی نپٹا آتیں۔ کچھ بچپن کی معصومیت اور کچھ مسلسل دہرائی کا اثر، یہ نظم مجھے کچھ یوں یاد ہو گئی کہ اس کے اشعار ہر وقت دماغ میں گونجتے رہتے۔

نصاب مرتب کرنے والوں کا مقصد بھی یقیناً یہی رہا ہو گا کہ راست گوئی جیسے دلیرانہ وصف کو ابتداء سے ہی بچوں کے مزاج کا حصہ بنا کر انہیں جھوٹ اور جھوٹ بولنے والے سے دور رہنے کی عادت ڈال دی جائے۔

سادہ لوحی کا زمانہ تھا، سچ کا پرچار جچتا بھی تھا۔ لیکن اب جب کبھی کوئی بزرج مہر سر عام حق، سچ، انصاف، دیانت داری اور ایمان داری کا علم بلند کرتا دکھائی دیتا ہے تو بچپن کے دور کی وہ بے ضرر اور معصوم شرارتیں آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کسی ہم جولی سہیلی کو پنسل دینے سے انکار کا بہانہ تراشہ تھا، جب ماں سے چھپ کر برف کا گولا کھانے سے ہونٹوں پہ پڑے سستے رنگ کے داغوں کو رگڑ رگڑ کر مٹایا تھا۔ وہ معصوم سی خلش کہ ہائے! میں نے جھوٹ کیوں بولا۔ کیا اب واقعی میرا منہ کالا ہو جائے گا؟

جھوٹ سے وہ نفرت کہ ایسی کسی خطا کے بعد دن میں کئی بار صابن سے رگڑ رگڑ کر منہ دھونا کہ اگر میرے چہرے کی سیاہی کسی نے دیکھ لی تو؟

چلتے چلتے رک کر آئینہ دیکھنا کہ سیاہ رنگ اب بھی باقی ہے یا تطہیر کے لیے مزید دھلائی رگڑائی کی ضرورت ہے۔

یہ تو خیر اس بچپن کی بات تھی، جسے بیتے ہوئے بھی مدت گزر چکی۔ لڑکپن تک بھی معاملات اس نہج پر نہیں پہنچے تھے۔ تب تک سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک واضح لکیر موجود تھی اور دکھائی بھی دیتی تھی، جسے پار کرنے کی ہمت کبھی نہیں ہوئی۔

عمر بڑھی، ایسے میں جب خرد نے دماغ میں جڑ پکڑ لی تو آہستہ آہستہ اس خیالی لکیر کا رنگ پھیکا سا پڑنے لگا۔ اب دماغ کے پاس دل کو زیر کرنے کے لیے مضبوط دلائل کے ذخیرے کی ضرورت اکثر رہنے لگی۔ دکھائی دینے لگا کہ جھوٹ بری شے ہے مگر بلا وجہ کا سچ بول کر خود کو مصیبت میں ڈال لینا بھی کوئی ایسی عقل مندی تو نہیں ہے۔

ایسے میں یہ دلیل بھی وزنی ہے کہ ہر کسی کا سچ الگ ہے۔ جس طرح زندگی کو میں نے پرکھا، جانا اور دیکھا، میرا سچ بھی اسی قدر مکمل ہے، جو ضروری نہیں دوسروں کے دکھائی دینے والے سچ سے میل کھاتا ہو۔

ہماری ذات کی حد تک تو بات بہت آسان اور سادہ ہے کہ ہمارا سچ ہماری ترجیحات اور طبعی رجحانات کی شکل ہے۔ مثال کے طور پر کسی بات یا اصول کو صرف اس لیے سچ سمجھ لینا کہ اسے ہمیشہ سے سچ مانا جاتا رہا ہے۔ اگر شواہد اسے غلط بھی ثابت کر رہے ہوں تو ضعیف العتقادی اور حد سے بڑھی عقیدت ایسی تمام شہادتوں کو یکسر مسترد کر دیتی ہے، جیسے کسی بڑے بزرگ کی بات پر اندھا یقین کر کے اسے سچ مان لینا۔ اسی طرح کسی بات کو اس لیے سچ مانا جاتا ہے کیوں کہ ہماری رائے میں وہ بہت معقول ہوتی ہے اور اسے دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے سچ کی تجرباتی بنیاد نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر ارتقاء کا نظریہ کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جا سکتا مگر فی الحال اسے سچ مانا جاتا ہے۔ ایسی بات اس لیے بھی سچ مان لی جاتی ہے کیوں کہ جتنی دفعہ بھی تجربہ دہرایا جائے، ہر بار نتیجہ وہی آتا ہے۔ جیسے آگ کا گرم ہونا، برف کا ٹھنڈا ہونا وغیرہ وغیرہ۔ جب نئے اور بہتر مشاہدات یا وضاحت سامنے آ جائے تو پرانے خیال کو مسترد کر کے نئے خیال کو سچ مان لیا جاتا ہے۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے، جب سماجی زندگی میں اپنے سچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو کوئی ہمارے سچ پر ایمان نہ لائے اس پر کفر و غداری کے فتوے اور کہیں ان دیکھی سازش پر شک اور اکثر صورتوں میں اپنی اپنی سچائی کے پرچارک، ہجوم کے ہاتھوں اختلاف رائے کا اظہار کرنے کی گستاخی کرنے والے کے خلاف اجتماعی انصاف، کہیں ”سر تن سے جدا“ کی دھمکی اور اگر مد مقابل کم زور اور اکیلا ہو تو دھمکی کو عملی جامہ بھی پہنا دیا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں معاشرتی اقدار کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے، جس میں اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کو داخل کرنا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ایسے میں سب سے دشوار اپنی ذات سے سچ بولنا ہے۔ مگر یاد رہے کہ آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس دور ابتلاء میں اگر سچ کہیں ہے بھی تو صرف لولا لنگڑا، چیتھڑوں میں لپٹا ہوا اور ادھورا کہ جس کا سامنا ہم میں سے کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ ہم دکھائی دیتی حقیقتوں کو ناپ تول کر اپنی سہولت اور آسانی کے سانچے میں فٹ کرنے لگے ہیں۔

جو تو پورا آ جائے وہ قابل قبول، باقی جھوٹ قرار دے کر مسترد۔ آدھا سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے تئیں اس مذہب کے پیرو کار ہیں کہ جو یہ کہے کہ مومن میں ہر عیب ہو سکتا ہے مگر نہ وہ جھوٹ بول سکتا ہے اور نہ کسی کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن پورا سچ یہ ہے کہ ہمارے ہر قول میں جھوٹ اور ہمارے ہر فعل میں دھوکا ہے۔

جھوٹ اور سچ میں جاری اس کشمکش میں رہتے مجھے اب بچپن کی معصوم خطاؤں پر ہنسی آتی ہے۔ مجھے سچ اور جھوٹ سے متعلق البرٹ موہلر کی وہ کہانی یاد آ گئی، جو انہوں نے اپنی کتاب ’ہیل انڈر فائر‘ میں لکھی ہے۔

انیسویں صدی کی اس کہاوت کے مطابق ایک دن سچائی اور جھوٹ آپس میں ملتے ہیں۔ جھوٹ سچائی سے کہتا ہے کہ دیکھو! ”آج موسم کس قدر حسین ہے۔“ سچائی شک کی نگاہ سے آسمان کی طرف دیکھتی ہے لیکن دیکھتے ہی واہ کہہ اٹھتی ہے، اس دن موسم واقعی بہت شاندار تھا۔

سچ اور جھوٹ کافی وقت ایک ساتھ گزارتے ہیں۔ آخر کار ان کا گزر ایک کنویں کے قریب سے ہوتا ہے۔ جھوٹ سچائی سے کہتا ہے کہ دیکھو تو سہی! ”کنویں کا پانی کس قدر شفاف ہے، آؤ ہم نہاتے ہیں۔“ سچائی دوبارہ جھوٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن جب وہ پانی کا جائزہ لیتی ہے تو پانی واقعی میٹھا، شفاف اور تازہ ہوتا ہے۔ جھوٹ اور سچائی دونوں کپڑے اتارتے ہیں اور کنویں میں نہانا شروع کر دیتے ہیں۔

جھوٹ اچانک کنویں سے چھلانگ لگاتا ہے اور سچائی کے کپڑے پہنتے ہوئے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سچائی غصے سے باہر نکلتی ہے اور جھوٹ کو تلاش کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ اپنے کپڑے واپس لے سکے۔

شہر میں لوگ برہنہ سچائی کو توہین آمیز نظروں اور غصے سے دیکھتے ہوئے اپنا رخ دوسری طرف کر لیتے ہیں۔ لاچار برہنہ سچائی واپس آتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کنویں کی تہہ میں چلی جاتی ہے۔

لیکن تب سے جھوٹ سچائی کے کپڑے پہنے ہوئے دنیا میں آزاد گھوم رہا ہے۔ یہ معاشرے کی ضرورتوں کو بھی پورا کر رہا ہے کیوں کہ دنیا یہ چاہتی ہی نہیں کہ اس کا کبھی دوبارہ برہنہ سچائی سے سامنا ہو۔

Facebook Comments HS