کیا ہمارے مسائل کی ذمہ دار سرمایہ داریت ہے؟


کوئی بھی نظام اپنی فعالیت اور نتائج کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ دنیا میں دو قسم کے نقاد ہوتے ہیں ایک جو ثقافتی دائرے کے دروں رہتے ہیں دوسرے جو ثقافتی دائرے کے بیرون رہتے ہیں۔ نظریہ نظام سے ایک الگ چیز ہے تاہم نظام نظریے سے کٹا ہوا نہیں ہو سکتا، نظریے کا عملی پہلو نظام کی شکل میں واضح ہوتا ہے۔ سرمایہ داریت کو مجھ سمیت ہر وہ شخص برا کہتا ہے جو معاشرے میں سرمائے کی غیر مساویانہ تقسیم، مارکیٹ اکانومی کی چالاکیاں، مصنوعی کساد بازاری اور من چاہے معاشی فوائد کا حصول، ملٹائی نیشنلز کا سماجی بیانیوں پر اثر انداز ہونا اور نظریاتی ممالک کے بنیادی قضایہ پر قدغن لگانا وغیرہ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

لیکن ہمیں غور سے جائزہ لینا ہو گا کہ کیا یہ سب واقعتاً سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ممکن ہوا یا اس کے پیچھے کچھ اور عوامل ہیں۔ ہمارے ایک دانش ور دوست اکثر اپنی گفتگو میں سرمایہ داریت کے فوائد اور احسانات کا ذکر کرتے دکھائی دیتے تھے اور میں دل ہی دل میں انہیں کوستا رہتا تھا کہ سماجی تقسیم کے بنیادی ہرکارے سے انہیں کتنی محبت ہے۔ تاہم مجھے ان کی باتیں صداقت محسوس ہوتی محسوس ہوئیں جب مجھے ’سلووائی یی یک ”جسے ہمارے عہد میں فلسفے کا ایلوس پریسلے کہا جاتا ہے اور درست کہا جاتا ہے، کو سننے کا موقع ملا۔

وسطی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے سے ملک سلووینیا سے تعلق رکھنے والا یہ بڑا دماغ جو بنیادی طور پر کمیونسٹ تھا، کہ منہ سے جب سرمایہ داریت کی توصیف سنی تو بات کچھ کچھ سمجھ میں آئی۔ سلو وائی یی ییک کا کہنا ہے کہ سرمایہ داریت اس کے نزدیک ایک اخلاقی مذہب کی طرح ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آئیڈیل سرمایہ داریت کسی بھی جگہ پیداوار اور ترقی کا باعث بنتی ہے۔ اور خوشی کا براہ راست تعلق سرمائے سے ہے۔ یاد رہے اسی لیکچر میں یی ییک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنیادی طور پر وہ اینٹی کیپیلٹسٹ ہے باوجودیکہ سرمایہ داریت کم از کم اس نظام سے کہیں بہتر ہے جو سرمایہ داریت کے مقابلے میں آیا تھا ظاہر ہے اس کا اشارہ سوویت یونین اور کیمونیزم کی ناکامی کی طرف تھا۔

خاک سار سمجھتا ہے کہ سرمایہ داریت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسلحے کی ایجاد کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس کی فعالیت کا تعلق اس سے حاصل کیے جانے والے نتائج پر منحصر ہے۔ اگر ناسا اور دیگر تحقیقی ادارے اربوں کھربوں روپے خرچ کی ایک غیر ضروری ( یہ ایک اینٹی کیپٹلسٹ نظریہ ہے ) تحقیقی مشن پر خرچ کرتے ہیں، جنہیں زمینی سطح پر استحصال شدہ انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا تو انہیں عدم متوازن سرمائے کی تقسیم کا ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

کیا انسان کو بہتر نظام زندگی مہیا کرنے کے لیے سرمایہ داریت کی خدمات کو سراہا نہیں جانا چاہیے؟ دیکھیے کیپیٹل ازم بطور نظریہ اور بطور نظام کو باہم نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ نظریہ بہر حال انسانی ترفع کے نزدیک لگتا ہے، مقامی حکومتیں بھلے کسی بھی نظام کے تابع ہوں سرمایہ داریت نے انہیں ایک آئیڈیل نظام اور سہولیات کی شکل میں رہنمائی کی۔ اس نظام کو اپنانے کی بجائے اس نظام کی فعالیت اور نتائج سے بہت کچھ سیکھا جا نا چاہیے۔

تاہم عالمی بینک کی اور دیگر مالیاتی اداروں کی سیاست اور ان کی کم زور ملکوں کے داخلی معاملات میں غیر ضروری پیش قدمی کو سرمایہ داریت کو بطور نظریہ کے چیلنج نہیں کیا جانا چاہیے مقامی حکومتوں کی کم زور معاشی حکومتوں اور نظام حکومت کا تعلق داخلی کم زوری سے ہی جوڑنا چاہیے نہ کہ عالمی سرمایہ داروں کی سیاست سے۔ سرمایہ داریت کو برا بھلا کہنا ایک طرح سے اپنی داخلی ناکامیوں کے لیے اسکیپ ہیچ تلاش کرنا ہی ہوتا ہے۔ سرمایہ داریت کے خلاف شاید بہت کچھ فکشن کی مد میں آتا ہے تاہم یی ییک کے طرح میں بھی سرمایہ داریت کے خلاف ہوں۔

Facebook Comments HS