آپ بہت ٹچی ہیں!


راولپنڈی صدر میں بینک روڈ پہ واقع ایک گارمنٹس کی دکان پہ اکثر و بیشتر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ اس دن جب دکان میں داخل ہوا تو سامنے کھڑے سیلز مین کو کچھ تگ و دو کے بعد پہچاننے میں کامیاب ہوا۔ بغور دیکھنے پہ پتہ چلا کہ یہ تو وہی موصوف ہیں جن سے یہاں ملاقات ہوتی ہے۔ اب کی بار مگر ان کے چہرہ کے خدو خال کچھ مختلف دکھائی دے رہے تھے۔ معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ یہ سب کارستانی جناب کے حجام کی ہے۔ دو روز قبل ہی حجام نے ہمارے پیارے سیلز مین کی بالشت بھر داڑھی پہ اپنے ہاتھ صاف کیے تھے جو کہ اب ان کے چہرے کے ساتھ لگی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ کہنے لگے کہ یہ میری خواہش کے برعکس ہوا ہے، میں نے اسے صرف معمولی تراش خراش کا کہا تھا مگر اس نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا، انتہائی نا معقول انسان ہے وہ۔

کچھ ہی روز گزرے کہ مجھے اپنے ہیئر ڈریسر کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ دوران گفتگو میں نے دریافت کیا کہ یہ کرتا بہت پیارا لگ رہا ہے آپ پہ، کہاں سے خریدا ہے؟ کہنے لگا کہ یہ درزی سے خود بنوایا ہے اور ایسے ڈیزائن کے کرتے سلے سلائے دستیاب نہیں ہوتے۔ بات کی تفصیل میں جاتے ہوئے کہنے لگا کہ مگر مجھے تین، چار مرتبہ جا کے اپنے درزی کے ساتھ الجھنا پڑا کیونکہ پہلے اس نے میرا کرتا خراب کر دیا تھا اور بار بار جا کے مجھے سمجھانا پڑا کہ مجھے اس طرح کی چیز چاہیے۔ بتانے لگا کہ میرا درزی مجھے سے خاصا نالاں رہتا ہے کہ یار تمہاری تسلی ہی نہیں ہوتی میرے کام سے، عجیب انسان ہو تم۔

ان دونوں وقوعوں کا بیان اپنے گناہ گار کانوں سے سننے کے بعد من ہی من میں ایک عجیب سی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وجہ اس کی قطعاً یہ نہیں تھی کہ حجام اور درزی نے بالترتیب ان دونوں کے کام خراب کیے، انہیں تنگ کیا بلکہ خوشی اس بات کی تھی کہ ان دونوں حضرات کی میرے بارے میں رائے یہ تھی کہ یہ اپنے کام کے حوالے سے بہت ٹچی ہوتا ہے گویا بال کی کھال اتارتا ہے۔ کپڑے خریدنے ہوں یا بال، داڑھی کی تراش خراش کرانی ہو، باریکی میں جا کے مین میخ نکالے بغیر اس کی تسلی نہیں ہوتی۔

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ کم و بیش ہر انسان ہی اپنے کسی نہ کسی حوالے میں ٹچی ضرور ہوتا ہے اور جو نہیں ہوتے ان کو بالآخر ہونا پڑ جاتا ہے!

Facebook Comments HS