انوار زیدی، کچھ یادیں


”ساتھی انجمن محبان وطن دوبارہ فعال کرنے کی کوشش جاری ہے“
”آج ایک دار المطالعہ کا آغاز ہو گیا ہے“

”ڈاکٹر رشید حسن خان میموریل کلینک کے سلسلہ میں ساتھیوں سے ملاقات ہے، کوشش ہے کہ ڈاکٹر ساتھیوں کا تعاون مل جائے“

”این ایس ایف کے کونسل سیشن کے لئے ساتھیوں نے لاہور بلایا تھا، وہاں جا رہا ہوں“
”فیصل آباد میں پرانے کسان ساتھیوں سے ملاقات ہے، ایک ہفتہ کے لئے وہاں قیام رہے گا“
”این ایس ایف کے پرانے ساتھی ڈاکٹر نصیر کا انتقال ہو گیا، ان کی تدفین میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں“

”اردو بازار کے راستے میں بس میں ہوں، فلاں ساتھی نے سورج پہ کمند منگوائی تھی، اردو بازار سے لے کر ان تک پہنچانی ہے“ (نوٹ: فلاں ساتھی کے پاس کار اور ڈرائیور ہمیشہ موجود رہتا ہے )

”تین دن سے تیز بخار تھا، آج کچھ ہوش آیا ہے تو ایچ آر سی پی کے دفتر میں ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں، ویگن میں سگنل بہت خراب ہے، آپ کی آواز صاف نہیں سنائی دے رہی“

”غیاث بابا کی طبعیت بہت خراب ہے، آج ان کی عیادت کے لئے گیا تھا، ہمیں اپنے پرانے ساتھیوں کی خبر گیری کا کوئی نظام بنانا چاہیے“

”عبدالوہاب بلوچ سے بہت عرصہ ہو گیا ملاقات ہوئے، کل ان سے ملنا ہے“
”عبدالحئی نے سورج پہ کمند کے لئے یادداشتیں لکھی ہیں، آپ تک کیسے پہنچائی جائیں“
”ساتھی آپ کب کراچی پہنچے، میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں، کچھ اہم معاملات میں مشورہ چاہیے“

ستمبر 2017ء میں کراچی کے ایک سفر کے دوران، پہلی ملاقات کے بعد سے شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہو جب کم از کم دو یا تین بار انوار زیدی سے ٹیلی فون پر گفتگو نہ ہوتی ہو، نہ ہی ایسا ہوا کہ کبھی وہ گھر پر آرام کرتے ہوئے ملے ہوں، یا تو وہ کہیں جا رہے ہوتے تھے یا کہیں سے آرہے ہوتے تھے، یا ہم خیال ساتھیوں کی کسی نشست کے منتظر ہوتے۔ گھر پر ان کی موجودگی کا مطلب صرف یہ ہوتا کہ آج ان کی طبعیت اس قدر خراب ہے کہ وہ چلنے پھرنے کی بھی ہمت نہیں پا رہے۔

کافی عرصہ بعد یہ پتہ چلا کہ برسوں سے ان کا کوئی مستقل گھر بھی نہیں تھا، کبھی ایک اور کبھی دوسرے واقف یا دوست کے ساتھ قیام ہوتا۔ نئی کراچی کے پرانے دوستوں اور محلہ داروں کے دروازے ان کے لئے کبھی بند نہ ہوئے، لیکن وہ کسی کے لئے مستقل بوجھ بھی نہیں بننا چاہتے تھے۔ بیٹی کی شادی کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے بعد ، ان کے سیلانی پن میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان سے ہر دوسرے روز گفتگو کا یہ سلسلہ گزشتہ برس ان کے فالج کا شکار ہونے تک جاری رہا۔

انوار زیدی سے پہلا تعارف کلیم درانی کی وساطت سے ارتقا انسٹیٹیوٹ کے دفتر میں ہوا تھا۔ میں سورج پہ کمند کی پہلی جلد کی تکمیل میں مصروف تھا اور این ایس ایف کے ایسے پرانے کارکنوں کی تلاش میں تھا جو اپنی یادداشتوں کے ذریعہ میرے کام میں مددگار ہو سکیں۔ کلیم درانی نے ارتقا کے دفتر میں یہ کہہ کر بلوایا کہ این ایس ایف نئی کراچی یونٹ کے ایک پرانے ساتھی یہاں موجود ہیں، آپ کو ان سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ پہلی ملاقات سے ہی ہمارے درمیان احترام اور محبت کا ایک گہرا رشتہ قائم ہو گیا، کم از کم زیدی صاحب نے یہ رشتہ قائم رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔

کراچی قیام کے دوران جب بھی ملے، اتنی محبت اور عزت سے پیش آئے کہ محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بہت پرانی واقفیت ہے، بسوں اور ویگنوں میں سفر کرتے ہوئے ہر اس شخص سے ملنے کے لئے بے چین رہتے جن کے بارے میں ان کا

حسن گمان تھا کہ یہ اب بھی اپنے نظریات سے مخلص ہیں۔

انوار زیدی 1973ء میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان، کراچی شاخ کے خزانچی اور 1974ء میں جوائینٹ سیکریٹری منتخب ہوئے، اس سے قبل وہ نئی کراچی یونٹ اور گورنمنٹ کالج ناظم آباد کے یونٹ سیکریٹری کے فرائض بھی سرانجام دے چکے تھے، لیکن این ایس ایف سے ان کی وابستگی کا سفر اسکول کے زمانے سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ وہ کراچی کی ایک مضافاتی بستی نئی کراچی کے رہائشی تھے۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی نچلے درمیانی اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔

سن ساٹھ کی دہائی میں اس پسماندہ علاقے میں این ایس ایف سے منسلک ایک سماجی تنظیم انجمن محبان وطن نے اپنی سماجی خدمات کا آغاز کیا جس میں غریب طلباء کے لئے ایک ٹیوشن سنٹر کا قیام بھی شامل تھا۔ انجمن محبان وطن کے سرکردہ منتظمین میں ایوب عثمانی، سید ستار حسین اور محمد اقبال جیسے سینئر ترقی پسند کارکنان شامل تھے جبکہ ٹیوشن سنٹر میں تعلیم دینے والے موسی رضا پاشا، نعیم آروی، احتشام صدیقی، نظار حسین وغیرہ خود بھی این ایس ایف کے سینئر کارکنان رہے تھے۔

انوار اس وقت اپوا بوائز اسکول میں زیر تعلیم تھے اور خود بھی اس ٹیوشن سنٹر کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہیں ان کا تعارف ترقی پسند نظریات اور این ایس ایف سے ہوا۔ نئی کراچی یونٹ نہ صرف این ایس ایف کا سب سے منظم علاقائی یونٹ تھا بلکہ اسے کراچی شاخ کا بازو شمشیر زن بھی سمجھا جاتا تھا۔ این ایس ایف سے اپنی وابستگی کے دوران انہوں نے 1973 اور 1975ء میں دو بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

انوار اپنی زندگی کے آخری سالوں میں سوشل میڈیا پر بہت متحرک تھے۔ سیاسی موضوعات پر ان کی تلخ نوائی کئی بار دوستوں کی ناراضگی کی وجہ بھی بنی لیکن وہ اپنی رائے کے اظہار میں ہمیشہ دو ٹوک رہے۔ ترقی پسند تحریک کے سابقہ کارکنان کی خبر گیری کرنا ان کے معمولات میں تھا اور مجھ سے بات چیت کے دوران وہ اکثر اس بات پر شاکی رہے کہ تحریک نے اپنے ان جاں نثار کارکنوں کو برے وقتوں میں فراموش کر دیا۔ وہ ان کارکنوں کے حالات زار کو سوشل میڈیا پر بھی اپنی تحریر کا موضوع بناتے، جس میں ان کا درد واضح طور پر جھلکتا تھا۔

ان کا انداز تحریر بہت پر اثر اور منفرد تھا۔ کاش کہ وہ اپنی قلمی صلاحیت کو یکسوئی سے استعمال کرتے تو یقیناً ان کا شمار ادب برائے زندگی کی ترجمانی کرنے والے اچھے لکھاریوں میں ہوتا۔ میرے اصرار پر انہوں نے اپنی یادداشتیں اپنے منفرد انداز میں لکھنی شروع کیں جس کی ایک قسط ”ڈوبتی ابھرتی یادیں“ کے عنوان سے ہم سب میں شائع بھی ہوئی لیکن اپنی گوناگوں دلچسپیوں کے باعث وہ اس سلسلہ کو جاری نہ رکھ سکے۔

اسی طرح سماجی موضوعات پر بہت پر اثر مختصر کہانی نویسی کا سلسلہ بھی وہ جاری نہ رکھ سکے۔

ان کی اپنی صحت ہمیشہ ان کی آخری ترجیح رہی۔ وہ بلڈ پریشر کے عارضہ کا شکار تھے، لیکن غالباً دوائی کی پابندی اور کھانے پینے کی احتیاط ان کے رہن سہن کے انداز میں ممکن نہ تھی۔ میرے بے حد اصرار پر وہ ایک دو بار ڈاکٹر امین بیگ سے معائنہ کروانے گئے لیکن علاج کے معاملہ میں ثابت قدم نہ رہے۔ جس دن ان پر فالج کا حملہ ہوا اسی دن ان کا فون آیا تو ان کی زبان لڑکھڑا رہی تھی، لیکن ان کا اصرار تھا کہ ایسا صرف دانتوں میں آ کر زبان زخمی ہونے کے باعث تھا۔

وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے تیار نہ تھے۔ ہمارے پرانے ساتھی عبدالحئی بہت مشکل سے انہیں ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو فالج کے حملہ کی تصدیق ہوئی۔ اگلا مرحلہ انہیں ہسپتال لے جانا تھا، مسلسل انکار کے بعد بالآخر ایدھی اسپتال جانے کے لئے راضی ہوئے، لیکن دو مرتبہ آئی ہوئی ایمبولنس واپس کردی، تیسری کوشش بہ مشکل کامیاب ہوئی۔ داخل ہوتے ہی ڈس چارج پر اصرار بڑھتا گیا۔ اسی دوران پیشاب کے انفیکشن کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے پر ان کی صاحبزادی اور داماد بمشکل انہیں اپنے ساتھ لے جانے پر راضی کرسکے۔

اپنی زندگی کا آخری سال انہوں نے اپن بیٹی، داماد اور نوزائیدہ نواسی کے ساتھ گزارا، فالج کے اثرات کے باعث وہ وہیل چئیر اور بستر تک محدود تھے لیکن ان کی صاحبزادی اور داماد نے ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ خوراک اور علاج کا بھی پورا خیال رکھا گیا۔ لیکن شاید ان کی سیماب صفت شخصیت، اس ٹھہراؤ کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کر سکی۔ 27 اگست کو ان کی صاحبزادی اور عبدالحئی صاحب کے پیغامات سے ان کے انتقال کی خبر ملی۔

الوداع ساتھی انوار زیدی، ستمبر میں آپ سے ملنے کی خواہش اب خواہش ہی رہے گی۔
اور آخر میں انوار زیدی کی ایک غیر مطبوعہ تحریر

بے نقاب

غریب عورت راشن کا ڈبہ لے کر گھر پہنچی
نقاب اتارا۔
اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی۔

بچے خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔
بیٹی نے پوچھا :
” ماں۔ یہ راشن کہاں سے ملا؟“

” ایک بڑے آدمی نے دیا ہے؟“
” بڑا آدمی؟“ بیٹی نے چونک کر پوچھا۔
” ہاں۔ بہت بڑا آدمی۔ فوج، سپاہی، ادارے، سب اس کے ماتحت ہیں۔“

بیٹی حیرانی سے بولی۔
” اتنے بڑے آدمی نے اتنا چھوٹا سا پیکٹ دیا؟“
ماں نے اثبات میں سر ہلایا۔
” ہاں۔ بیٹا۔ صرف عہدہ بڑا تھا اس کا۔ “

بیٹی چپ ہو گئی۔ سوچتی رہی۔ پھر بولی۔
” کسی کو پتا تو نہیں چلا اماں۔ کہ تم یہ خیرات کا راشن لائی ہو؟“
ماں نے انکار میں سر ہلایا۔
” نہیں۔ میں نے نقاب لگایا ہوا تھا۔ تصویر کھنچی تو میرے حجاب نے میرا چہرہ چھپا لیا۔“

بیٹی تڑپ گئی۔
” اماں۔ تمہیں شرم نہیں آئی۔ خیرات لیتے وقت تصویر کھنچواتے ہوئے۔“
ماں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا۔
” نہیں بیٹا۔ اسے بھی نہیں آئی۔ میں تو نقاب میں تھی۔ وہ بے نقاب ہو گیا۔

Facebook Comments HS