دل اور دماغ کا مکالمہ


دماغ: ارے میاں دل، تم تو ازلی جذباتی واقع ہوئے ہو۔

دل: اجی دماغ صاحب، اس میں قباحت ہی کیا ہے؟ مطلق دماغ کے ساتھ زندگی بسر کرنا بھی تو ممکن نہیں ہے۔ یہ دنیا دو جمع دو چار تو نہیں ہوتی ناں۔ انسان میں اگر جذبات نہ ہوں اور ان کا اظہار کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو ایک پتھر، مشین یا روبوٹ اور انسان میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟

دماغ: مان لیا، انسان اور مشین میں فرق ہے پر تم تو جذبات کو اس قدر بڑھاوا دے دیتے ہو کہ جنونیت کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہو۔ جس کے بعد بس اپنی ذات ہی اولین اور اپنے نظریات ہی حتمی نظر آتے ہیں اور ان کے حصول کی خاطر ہر کوشش جائز معلوم ہوتی ہے۔

دل: میں مانتا ہوں کہ میری وجہ سے جنونیت پھیل سکتی ہے مگر تم بھی اپنا کام نہیں کرتے ناں جس کے سبب میرا غیر ضروری اور بے جا استعمال عمل میں آتا ہے۔ تم نے اگر خود کو استعمال کرتے ہوئے اس دنیا میں موجود لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی، بدن ڈھکنے کے لیے کپڑا، اور سر چھپانے کے لیے مکان دیا ہوتا اور سب کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہوتا تو آج کوئی مجبور اور بے چین ہو کر دائرے سے باہر نکلنے کی نہ سوچتا۔

دماغ: اچھا، مجھے یہ بتلاؤ کہ یہ سائنس کی بنیاد کس نے رکھی؟ میں نے ہی تمہاری اوسط عمر بڑھائی۔ بیماریوں کے علاج میں سہولت بخشی۔ تمہیں وسائل کے مسائل سے نبٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، اور مشینری کی ایجاد کو ممکن بنایا۔

دل: سائنس تو ایک علم ہے اور میں نے تو کبھی کسی علم کی نفی نہیں کی ہاں البتہ اسی علم کو استعمال کرتے ہوئے تم نے ایٹم بم سمیت تمام تر مہلک ہتھیار بھی تو بنائے جو آن کی آن بستیاں نگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انسانیت کو جذبات سے عاری کر کے اس مارا ماری کا راستہ کس نے دکھایا ہے؟ کس نے مائٹ از رائٹ کا قانون لاگو کر رکھا ہے؟ اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی بھی انسانوں کو آپس میں لڑنے کی ترغیب نہ دیتا۔

دماغ: یہ میں ہی ہوں جس نے دنیا میں فلسفی اور دانش ور پیدا کیے جنہوں نے دنیا کے مسائل حل کرنے میں رہنمائی کی۔ سیاست دان پیدا کیے جنہوں نے ریاستوں کے معاملات دیکھے اور گتھیاں سلجھائیں۔ سبھی باہم دست و گریباں افراد و اقوام کو مذاکرات کی میز پہ بٹھا کے ان کے درمیاں امن و آشتی قائم کی۔

دل: اور یہ میں ہی ہوں جس نے شاعر، ادیب، آرٹسٹ، گلوکار، پینٹرز پیدا کیے۔ تمہارے بھاری بھر کم، کثیف اور بوجھل پن سے نجات حاصل کرنے اور کچھ دیر خود کو دنیا و ما فیھا کے جھنجھٹوں سے آزاد کرنے کے لیے میں نے فنون لطیفہ کو متعارف کروایا۔ جہاں ہر کوئی اپنے من کی بات، اپنے جذبات اور احساسات کو اظہار کر کے لائٹ محسوس کر سکتا ہے۔ اسی لیے تو اسے لطیف کہا جاتا ہے اور تمہیں کثیف۔ لطیف یعنی باریک، ہلکا، صاف شفاف، عمدہ، پر لطف، خوبصورت وغیرہ اور تمہیں کثیف یعنی بوجھل، میلا، گھنا، ٹھوس، بدصورت وغیرہ۔

دماغ: اور یہ بھی تو تمہارا ہی کیا دھرا ہے ناں کہ لوگ سکون سے اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کہ تم بیچ میں کود پڑتے ہو اور اچھے بھلے معلوم ہونے والے انسان بھی رات کو دن اور دن کو رات بنائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے ارد گرد کی ذرا پروا نہیں رہتی۔ اور تمہارے ہاتھوں مجبور محض کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔

دل: اور جب کبھی میں تمہاری روش اختیار کروں یا تمہارے راستے پہ چلنے کی کوشش کروں تو لوگ مجھے پتھر دل کہنے لگ جاتے ہیں اور جب میں اپنے راستے پہ گامزن ہوتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھو کتنا درد مند دل ہے یہ۔

دماغ: تم تو اوور سینسیٹیو واقع ہوئے ہو۔

دل: تم بھی تو انتہائی بے حس واقع ہوئے ہو اور ویسے میں بے حس ہونے کی بجائے نہایت حساس ہونے کو بہتر خیال کرتا ہوں۔ اور نہیں تو جو تم نے مجھے اور میرے جذبات کو ایک طرف رکھ کے بظاہر فقط عقل کو استعمال کرتے ہوئے احساس سے عاری لوگ، قومیں اور نسلیں تیار کی ہیں جو انسانیت کی بجائے قومیت کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے قطعہ زمین کے ارد گرد ایسی نہ نظر آنے والی باڑ لگا دی ہے جسے عبور کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان اس کرہ ارض پہ بلا روک ٹوک کہیں بھی جا سکتا تھا، بآسانی مختلف لوگوں سے مل سکتا تھا اور وہاں کے موسم اور کھانوں سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔

دماغ: وقت اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے میں انسانوں کو نئے راستے، زاویے اور رخ سجھاتا ہوں اور یوں وہ درپیش الجھنوں سے نبرد آزما ہو کر بالآخر سرخرو ہوتے ہیں۔

دل: بس، بس، اگر میں نہ ہوں تو انسان تو دوسرے دن خودکشی کر کے اپنا بوریا بستر گول کر بیٹھیں۔ یہ میں ہی ہوں جو انہیں امید دلاتا ہوں، ڈھارس بندھاتا ہوں، حوصلہ دیتا ہوں۔ وگرنہ تم تو لوگوں کو پاگل خانے تک چھوڑ کے آتے ہو۔ کبھی سنا کے آج تک کسی کو دل کی وجہ سے کسی پاگل خانے داخل کروایا ہو، کیوں کہ دماغ سے سوچ سوچ کر وہ بسا اوقات کوئی بھی راستہ تلاشنے سے یکسر قاصر رہتے ہیں۔

دماغ: دیکھو میں ایک جملہ کہتا ہوں اور تم پورے پورے پیراگراف لکھ مارتے ہو، کیوں کہ تم عقل سے نہیں دل سے کام لیتے ہو۔

دل: دیکھو مجھے تمہاری طرح اتنی کیلکولیشنز، ناپ تول اور حساب کتاب نہیں آتا۔ میں جو محسوس کرتا ہوں بیان کر دیتا ہوں۔ اب دیکھو ناں جیسے تم تو کالے، نیلے، پیلے، سرخ سبھی رنگوں کو بس ایک ہی طرح کا رنگ خیال کرتے ہو مگر یہ میں ہوں جو ان رنگوں کے ساتھ جذبات جوڑتا ہوں اور لوگ اپنے آپ کو ان رنگوں کے ساتھ جڑتا دیکھ کے خوش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ گلاب کا رنگ محض ایک رنگ نہیں بلکہ پیار، محبت اور احساس کی ترجمانی ہے۔

دماغ: چلو، ایک اور سوال ہے۔ یہ بتاؤ محبت دل سے کی جاتی ہے یا دماغ سے؟

دل: ظاہر ہے محبت دل سے کی جاتی ہے۔ چاہے اس کا حوالہ کچھ بھی ہو۔ یہ لازمی نہیں کہ ہر انسان کو محبت ایک ہی طرح سے اپیل کرے بلکہ یہ مختلف طبیعتوں کے حامل انسانوں کو بہت ہی مختلف انداز سے اپروچ کرتی ہے۔ جب کوئی ہمیں اچھا لگتا ہے تو ہم اسے اپنانا چاہتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے یا اس کا ہو جانے کے لیے انتہائی اخلاص کے ساتھ ہم ہر حد تک جانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

دماغ: دل سے کی جانے والی محبت میں یہ بھی تو ہوتا ہے کہ تم جلد باز اور بے صبرے ہو جاتے ہو، غیر حقیقت پسند ہو جاتے ہو، خود سے زیادہ کسی دوسرے کا احساس تمہیں کھائے جاتا ہے، اور غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لیتے ہو اور اخیر میں شکستہ دل لیے بیٹھ رہتے ہو۔

دل: تو تمہارا کہا مان کے بھی تو انسان محض عقلی فیصلے کر کے ساری ساری عمر دو اجنبیوں کی طرح بے رنگ اور ایک بے مزہ سی زندگی گزار دیتے ہیں جہاں پیسے، عہدے، خاندان، فرقے، مذہب، قومیتیں اور نہ جانے کیا کیا جوڑ دیکھ کے رشتے طے کیے جاتے ہیں اور نہیں دیکھا جاتا تو طبیعتوں کا میلان، دلی وابستگی اور قلبی جھکاؤ اور لگاؤ۔

دماغ: او ہو، بھئی دل، یہ محبت تو کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک نظام ہے دنیا کا جس میں مختلف لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ادارے کی بنیاد رکھتے ہیں جسے فیملی کہا جاتا ہے۔ اور ارتقاء انسانی کا ایک مرحلہ، طریق کار ہے جسے انسانوں نے ایک لمبے عرصے سے اپنا رکھا ہے۔

دل: زندگی کو عقلی بنیادوں پہ سنوارنے کی بھیڑ میں بسا اوقات انسان اپنی ذات کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور جب تلک اسے احساس ہوتا ہے بہت دیر ہو چلی ہوتی ہے۔ اور یہ جو تم خود کو بہت ہی ناگزیر اور اہم سمجھتے ہو تو بات یوں ہے کہ اہم سے غیر اہم ہونے میں محض غیر کا فاصلہ ہے یعنی تین حروف کی دیر لگتی ہے۔

دماغ: بس، میرا دل نا اب تم سے واقعی میں اچاٹ ہو رہا ہے۔
دل: اچھا، یار، تم بھی اور زیادہ میرا دماغ نہ کھاؤ۔
دماغ: ویسے یہ ہم نے کیا بول دیا اوپر، ہاہاہا۔

دل: ادھر دیکھو، میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ جیسے ہر مرد کے اندر ایک عورت اور ہر عورت کے اندر ایک مرد ہوتا ہے اور ہر مرد و عورت کے اندر ایک بچہ ہوتا ہے، اسی طرح ہر دماغ کے اندر ایک دل اور ہر دل کے اندر ایک دماغ چھپا بیٹھا ہوتا ہے جو اسے حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔

دماغ: ویسے، ایک بات ہے، اگر دیکھا جائے تو ہم دونوں کے درمیان یہ ایک مستقل جنگ، کشمکش، فرکشن، تناؤ، کھینچا تانی ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لیتی۔ اب ایسے میں کیا کرے کوئی؟

دل: یار دماغ، تم میری بات سنو ذرا، دنیا کے سب کام اکیلے دماغ یا پھر اکیلے دل سے تھوڑی ہوتے ہیں۔ یارا کیا ہماری coexistence ممکن نہیں؟ کیوں نہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ لیے چلیں، جہاں جس کی ضرورت ہو، جس سے کام لینا آسان ہو اس کو کام میں لائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں اور انسانوں کو ایک خوش گوار زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں۔

Facebook Comments HS