ویل ڈن ٹیم افغانستان


ہر قوم کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ سرحد کے اس پار کا سچ سرحد کے اس پار جھوٹ ہے۔ جب کہ اس پار کا سچ اس پار کذب ہے۔ بنگالیوں کا اپنا سچ ہے افغانیوں کا اپنا، اسی طرح پاکستانیوں اور بھارتیوں کا بھی اپنا اپنا سچ ہے۔ سچ شاید ایک موضوعی چیز ہے۔

کل کے میچ کے بعد ایک سوال پھر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ افغانیوں کو ہم نے ہر مشکل وقت میں پناہ دی۔ ہمارے مسلمان بھائی ہو کر بھی وہ آخر ہمیں دشمن کیوں خیال کرتے ہیں۔ بنگلہ دیشی جو کہ کل تک ہمارے بھائی تھے۔ جنہوں نے ہمارے شانہ بشانہ یا شاید ہم سے بڑھ کر تحریک پاکستان کا علم تھاما تھا۔ جو پاکستان بنانے کا ہراول دستہ تھے وہ ہمارے دشمن کیوں بن گئے؟ کیوں انہوں نے پاکستان توڑ دیا؟ کیوں کرکٹ کے میدان میں پاکستان سے ہار زندگی موت کا مسئلہ ہے؟ کیوں کھیل کھیل نہیں رہتا، میدان جنگ بن جاتا ہے؟

ان نفرتوں اور عداوتوں کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔ جب کوئی جرنیل کہے کہ ہمیں انسان نہیں زمین چاہیے۔ جب بنگالیوں کو حقیر سمجھا جائے۔ ان پر کالا اور ٹھگنا ہونے کی پھبتی کسی جائے۔ ان کو کیلے کے پتے پر چاول اور مچھلی رکھ کر کھانے کا طعنہ دیا جائے۔ جب انہیں ایک بوجھ سمجھ کر جان چھڑانے کی ترکیبیں سوچی جائیں، تو پھر ایسے ہی رویے جنم لیتے ہیں۔ تاریخ ان بنگالی بچوں اور بچیوں کو بھی پڑھائی جاتی ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے اکہتر میں اور اس سے پہلے ہم سے کیا سلوک روا رکھا تھا تو ان کے دل میں محبت کے پھول تو نہیں کھلیں گے نفرت کا الاؤ ہی دہکے گا۔

اسی طرح افغانستان میں بھٹو نے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے نام پر افغان طلبا کو اسلحہ فراہم کیا۔ مرد مومن مرد حق نے وہاں پر لڑنے کے لئے مدرسوں میں انسانی بم تیار کیے۔ ہمارے قابل احترام ادارے نے ڈالر کمانے کے لئے مدرسوں کے طلبا کو تربیت اور اسلحہ دے کر افغانستان میں بھڑکتی آگ کا ایندھن بننے کے لیے دھڑادھڑ برآمد کیا۔ ان کے اندرونی معاملات میں پل پل مداخلت کی۔ اور ان کا ملک اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے نام پر تباہ و برباد کرنے میں اپنا حسب مقدور حصہ ڈالا۔ تو پھر کیوں نہ ان کے دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہوں۔ کیوں وہ ہمیں اپنا دوست سمجھیں۔

حیرت تب ہوتی ہے جب پاکستانی بڑی معصومیت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ بنگالی اور افغانی ہمیں اپنا دشمن کیوں گردانتے ہیں۔ کیوں ہمارے ساتھ کھیلتے ہوئے ہار اذیت کی اس حد سے پار لے جاتی ہے کہ آنسو ہی تھمنے میں نہیں آتے۔ تو اس معصومیت پر پیار نہیں غصہ آتا ہے۔ ہائے اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنی خوبصورتی سے کھیلنے پر ان کو شاباش دی جاتی۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ انہیں سراہا جاتا نہ کہ ان پر پھبتیاں کسی اور جگتیں ماری جاتیں۔ میمز بنائے جاتے، اس سے فاصلے اور دل میں کدورت بڑھ تو سکتے ہیں۔ فاصلے کم نہیں ہو سکتے۔

آصف اور فاروقی جیسے واقعات کوئی پہلی دفعہ کرکٹ کے میدان میں نہیں ہوئے۔ سب ٹیموں کے درمیان ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ باؤلر اگر مار کھا رہا ہو اور میچ پھنسا ہوا ہو اور باؤلر اچانک وکٹ لے لے تو وہ کئی دفعہ بلے باز کے قریب جاکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خوشی مناتا ہے۔ اور کئی دفعہ انگلی سے باہر جانے کا اشارہ بھی کر دیتا ہے۔ اسی طرح بلے باز اگر چھکا مارے تو وہ باؤلر کو چڑا لیتا ہے۔ پرساد اور عامر سہیل کا بڑا مشہور واقعہ ہے۔ جس میں پرساد کو چوکا مار کے عامر سہیل نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے چڑایا اور اس سے اگلی گیند پر پرساد نے اس کو آؤٹ کر کے ہتک آمیز انداز میں خوشی منائی۔

دل بڑا کریں اور افغان ٹیم کو ان کے بہترین کھیل پر خراج تحسین پیش کریں کہ ایک چھوٹی اور ناتجربہ کار ٹیم ہونے کے باوجود انہوں نے دنیائے کرکٹ کی ایک بہترین ٹیموں میں سے ایک کو تقریباً ہرا ہی دیا تھا۔ رقابت کے جذبات محبت کر کے اور محبت بانٹ کر ہی ختم کیے جا سکتے ہیں نہ کہ طعن و تشنیع اور جگتوں سے۔ بطور ایک عام پاکستانی کے نہ تو ہم ماضی کی غلطیوں کو سدھار سکتے ہیں نہ مستقبل کے فیصلوں میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ کھل کر شاباش دے دیں۔

ویل ڈن ٹیم افغانستان۔
! کیپ اٹ اپ

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ویل ڈن ٹیم افغانستان

  • 09/09/2022 at 6:43 شام
    Permalink

    یہ کچھ لوگ افغان پاکستان کی تاریخ 75 کے بعد سے کیوں شروع کرتے ھیں آذادی کے بعد جو افغان رویہ و حرکات تھی اسپر بھی روشنی ڈالیں۔

    • 10/09/2022 at 7:06 شام
      Permalink

      Well said dear

Comments are closed.