سیلاب اور گناہ


پچھلی چند دہائیوں سے موسمیاتی تبدیلیاں وقتاً فوقتاً پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ کہیں خشک سالی کے وار جاری ہیں تو کہیں تباہ کن سیلاب قیامت برپا کر رہے ہیں۔

موسموں کی اس غیر معمولی شدت کی وجہ کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے جسے گلوبل وارمنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کی بنیادی وجوہات میں بڑا کردار کارخانوں اور ذرائع نقل و حمل میں استعمال ہونے والے ایندھن کا ہے اور اس کے ذمہ داروں میں ترقی یافتہ ممالک سر فہرست ہیں۔

اگر چہ گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں تو پاکستان کا حصہ اتنا قابل ذکر نہیں تاہم اس کے اثرات بھگتنے والوں میں سب سے پہلے نمبر پر پاکستان ہے۔ گرمی کی شدت اور دورانئے میں اضافے سے ہمارے شمال میں گلیشئر پگھل رہے ہیں یہ گلیشئر ہی پاکستان کے پانی کا منبع ہیں جو اس وقت شدید خطرے سے دو چار ہیں۔ بارشیں کبھی تو مہینوں نہیں ہوتی اور کبھی ہوتی ہیں تو اس شدت اور تواتر سے کہ دریا اور ندی نالے بپھر کر بستیاں کھلیان اور شاہراہیں ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔

حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بارے میں خدشات مون سون آنے سے پہلے سے ظاہر کیے جا رہے تھے۔ معمول سے زیادہ بارشوں اور سیلاب کی پیشین گوئی بھی کی جا رہی تھی تاہم کسی بھی حکومت کی طرف سے نہ تو کوئی پیش بندی کی گئی نہ ہی ہنگامی حالات میں ریلیف کے انتظامات کیے گئے۔

نوشتہ دیوار یہ ہے کہ اب اس طرح کے غیر معمولی موسمیاتی واقعات وقوع پذیر ہوتے رہیں گے اور شاید زیادہ ہوں گے۔ واحد راستہ ان کی پیش بینی اور ان کے اثرات سے بچنے کی منصوبہ بندی ہے۔

اس طرح کی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ دریاؤں اور برساتی ندی نالوں کو چھوٹے ڈیمز اور پشتوں سے محفوظ بنایا جائے۔ نشیبی علاقوں میں ہنگامی اطلاعی نظام قائم کیا جائے اور لوگوں کے بر وقت انخلا کے لیے ایک نظام ترتیب دیا جائے۔ ریلیف اور ریسکیو کا جامع اور بھرپور انتظام ہو اور اس مقصد کے لیے وسائل مختص کیے جائیں۔

جب تک یہ نہیں ہو گا یہ تباہی ہم پر برستی رہے گی۔

اب بنیادی بات تو یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب اختیار اس آفت کو آفت سمجھتے ہوئے اس سے نمٹنے کو تیار ہیں بھی یا نہیں۔ تو یقیناً وہ رسمی اعلانات اور نمائشی دوروں سے آگے نہ تو کچھ سوچتے ہیں اور نہ کرتے ہیں نہ ہی مستقبل قریب میں یہ ان میں سے کسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

بلکہ ایک صاحب تو اسے گناہوں کی سزا تعبیر کر رہے تھے اور صبر کی تلقین بھی فرما رہے تھے۔ کسی بھی تباہی اور بربادی کو گناہوں کی سزا قرار دینے والی افیم ہمارے ہاں بہت بکتی ہے۔ گویا جو ہو وہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہونا ہی تھا لہٰذا نہ کوئی سوال نہ کوئی مطالبہ۔ ایک اور سرخی جو آج کل گردش میں ہے کہ کوہ سلیمان ہمارے گناہوں پر رو رہا ہے۔

ان خدا کے بندوں سے کوئی یہ پوچھے کہ کوہ سلیمان کے دامن میں بسنے والے گڈریے کے گناہ اسلام آباد اور لاہور کے محل نشینوں سے زیادہ تھے جو کوہ سلیمان سے اترنے والے ریلے اس کی کل کائنات بہا لے گئے اور کل کائنات بھی کیا کہ چند بکریاں اور ایک جھونپڑی۔

ٹیڑھے میڑھے کھیتوں سے رزق کشید کرنے والے کسان کے بچے کیا اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کی نظروں کے سامنے پانی میں ڈوبے یا اس بے حس اشرافیہ کی لالچ اور ہوس کی وجہ سے جو ہر قرضہ اور امداد تو اس با بس غریب اور لا چار گناہگار کے نام پر لیتی ہے لیکن اس سے اس کا پیٹ نہیں اپنی تجوریاں بھرتی ہے۔

خدا را اس قوم پر رحم کریں اور اسے افیون دے کر سلانے کی بجائے حکمرانوں سے سوال کرنا سکھائیں۔ ورنہ وہ پچاس پچاس روپے تقسیم کر کہ فوٹو سیشن کروائیں گے اور ثواب کما کر اپنی راہ لیں گے اور اپنے عالیشان محلات میں عبادات میں مصروف ہو جائیں گے۔

آدھے سے زیادہ پاکستان ڈوبا پڑا ہے اور ہم متقی اور پرہیزگار جو اپنے گھروں کی عافیت میں محفوظ ہیں ان گناہ گاروں کے مقروض ہیں کہ ہمارے گناہ بھی شاید وہ بھگت رہے ہیں جنہیں پہلے بھی دو وقت کی روٹی مشکل سے ملتی تھی۔ تو ان کی ڈھارس بندھائیے اور اور جس بھی تنظیم پر آپ کا اعتماد ہے اس کے ذریعے ان کی مدد کریں۔

سیلاب بند باندھنے اور انہیں مضبوط کرنے سے تو شاید اپنی تباہی کم کر دیں ورنہ وہ بے گناہ کا گھر بھی ایسے ہی ڈھائے جیسے گناہ گار کا۔

Facebook Comments HS