حبس میں ایک سفر

کچھ سال پہلے کراچی سے ایک مہربان تشریف لائے ۔ جولائی کا مہینہ چل رہا تھا اور ساون کا موسم اپنے پورے جوبن پہ اترا ہوا تھا۔ جس رات وہ آئے بارش نے ادھم مچائے رکھا ۔ چھت پہ اترنے والے موٹے موٹے قطروں کی دھما دھم سے اگرچہ ان کی  نیند میں خلل تو پڑتا رہا لیکن وہ فطرت کے دلدادہ انسان تھے اور اتنی وافر مقدار میں بارش سے خوب لطف اٹھا رہے تھے۔ کہتے تھے کراچی میں

Read more

سیلاب اور گناہ

خدا را اس قوم پر رحم کریں اور اسے افیون دے کر سلانے کی بجائے حکمرانوں سے سوال کرنا سکھائیں۔ ورنہ وہ پچاس پچاس روپے تقسیم کر کہ فوٹو سیشن کروائیں گے اور ثواب کما کر اپنی راہ لیں گے اور اپنے عالیشان محلات میں عبادات میں مصروف ہو جائیں گے۔

آدھے سے زیادہ پاکستان ڈوبا پڑا ہے اور ہم متقی اور پرہیزگار جو اپنے گھروں کی عافیت میں محفوظ ہیں ان گناہ گاروں کے مقروض ہیں کہ ہمارے گناہ بھی شاید وہ بھگت رہے ہیں جنہیں پہلے بھی دو وقت کی روٹی مشکل سے ملتی تھی۔ تو ان کی ڈھارس بندھائیے اور اور جس بھی تنظیم پر آپ کا اعتماد ہے اس کے ذریعے ان کی مدد کریں۔

Read more

خوشامد کا ہتھیار

جیسے انسان نے ہر شعبے میں نت نئی ایجادات کی ہیں ویسے ہی ہتھیا روں کی بھی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ نئے نئے طریقے اور مہارتیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہتھیار کی کاٹ کو تیز سے تیز تر اور اس درجہ مہلک کر دیا جائے کہ کوئی دوسرا آپ کے سامنے پر بھی نہ مارے۔ بات پتھر کے تراشے ہوئے بھالوں سے چلی اور تیر کمان سے ہوتی ہوئی میزائل اور راکٹ تک آ پہنچی۔ تلواروں کا زمانہ گزرا اورگولی

Read more

بدلتے موسم

بھادوں کے مہینے کے بعد گرمی کا زور ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسوج کے کچھ ہی دن گزرتے ہیں تو یہ تبدیلی سب سے پہلے رات کو نظر آتی ہے۔ تقریباٌ ایک پہر رات گزرنے پر پنکھے کی ہوا کے نیچے جسم کسمساتا ہے اور چادر اوڑھنے کو جی کرتا ہے۔ حبس اور پسینے سے بھر پور راتوں کے عذاب کے بعد ٹھنڈی ہوا کا یہ لمس ایک نہایت فرحت بخش احساس ہے جیسے کسی طویل قید سے نجات

Read more