سیلاب کی تباہ کاریاں اور بجلی کے بم

آئی ایم ایف سے ڈالر لینے کی مجبوری میں حکومت نے بے حسی کی تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ ادھر پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور ادھر پورے پاکستان کی بے بس عوام پر بجلی کے بلوں کی صورت میں ناقابل یقین عذاب مسلط کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ٹی وی سکرینوں پر آ کر اعلان فرمایا کہ ماہ اگست کے بلوں میں گھریلو صارفین اور زرعی صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مدد میں ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ یہ ناجائز ٹیکس بجلی پیدا کرنے والی سرمایہ داروں کی ملکیتی کمپنیوں کی جیبوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں چلا جاتا ہے۔
ان کمپنیوں کے مالکان کا ہر حکومت میں اثر و رسوخ رہتا ہے اور یہ ساری حکومتوں سے فوائد اٹھاتے رہتے ہیں اور اس کا ملبہ گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں پر گرتا ہے۔ اسی دوران ان کے مشیر خزانہ نے زخموں ہر نمک چھڑکتے ہوئے یہ اعلان فرمایا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس معاف نہیں بلکہ ڈیفر کیا گیا ہے اور یہ اگلے چھ ماہ میں صارفین سے ریکور کیا جائے گا۔ یعنی اگلے مہینوں میں عوام کو اور بھی ہوش ربا قسم کے بل وصول ہوں گے۔
کسانوں کو بجلی پر دی گئی جی ایس ٹی کی سبسڈی بھی ختم کر دی گئی ہے اور ان پر فکسڈ چارجز بھی ڈال دیے گئے ہیں جس سے پاکستان کے ان وسیع و عریض علاقوں میں جہاں نہری پانی نہیں ہے زراعت کا پیشہ جاری رکھنا ناممکن بنا دیا گیا ہے اور اب کسان وہاں فصلیں لگانے کی بجائے فیکٹریوں میں مزدوری کریں گے یا کسی چھوٹے موٹے کاروبار کے لئے شہروں کا رخ کریں گے۔ زرعی کاشت کا رقبہ کم ہونے سے غذائی بحران جنم لے گا اور مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا۔
پیٹرول ڈیزل، بجلی، گیس، اشیائے خورد و نوش سمیت ہر چیز اتنی مہنگی ہو چکی ہے کہ عوام کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اپنا نظام زندگی کس طرح چلائے۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں لوگوں کے مال مویشی مر چکے ہیں اور گھر گر چکے ہیں ان کے لئے بھی بجلی کے بلوں میں کسی رعایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ضلعی سطح پر سیلاب متاثرین کے لئے لائی گئی امداد تقسیم کرنے کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے اور اکثر حقیقی متاثرین جو عموماً روڈز سے اور شہروں سے دور ہوتے ہیں وہاں تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔
غیر ملکی امداد کا استعمال کیسے ہو گا اگر تاریخ دیکھیں تو یہ امداد بھی خورد برد کر لی جاتی ہے۔ یعنی آخر میں سیلاب سے متاثرین غربت کی انتہائی سطح پر چلے جائیں گے اور ان میں سے کئی روزگار کی تلاش میں پھر شہروں کا رخ کریں گے جہاں پہلے ہی حالات خراب ہیں۔ سیاسی کھیل اس بڑی ٹریجڈی کے دوران بھی نہیں تھم سکا۔ سیاستدان ان متاثرین کے ساتھ فوٹو سیشن کروانے میں مصروف ہیں مگر ان کو اپنے پاؤں پر پھر سے کھڑا کرنے کے لئے کسی کے پاس نہ تو کوئی پلان ہے اور نہ کسی کے پاس اتنا وقت۔
کیا اربوں کی غیر ملکی امداد کو ان متاثرین کو مویشی مہیا کرنے کے لئے استعمال کرنے کا کوئی پلان ہے یا نئے گھروں کی تعمیر کے لئے کوئی منصوبہ ابھی تک سننے میں آیا ہے؟ ان سیلابی تباہ کاریوں کی ایک بڑی وجہ ماحول کی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماحول کی بدترین تبدیلی کے ذمہ دار وہ امیر ممالک ہیں جو بہت زیادہ کاربن ماحول میں چھوڑتے ہیں مگر اس کا خمیازہ پاکستان جیسے غریب ملکوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان امیر ملکوں نے ابھی تک آگے بڑھ کر اس طرح کی امداد کا اعلان نہیں کیا جس طرح کی ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی مگر اس آفت کا واحد سبب نہیں ہے۔ دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد بارہ سال کے عرصہ میں یہ چوتھی حکومت ہے مگر کسی نے بھی ان قدرتی آفات سے بچاؤ اور سیلاب کی صورت میں کم سے کم نقصان پہنچنے کے لئے کوئی مربوط کوشش نہیں کی۔ آبادی کا ایک طوفان ہے جس کو روکنے کی آج تک کسی نے سعی نہیں کی۔ بنگلہ دیش جب ہم سے الگ ہوا تو اس کی آبادی ہم سے زیادہ تھی مگر انھوں نے آبادی پر کنٹرول کیا خواتین کو با اختیار بنایا جس سے ان کے وسائل ہم سے بڑھ گئے اور آج ان کا شمار تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ایشین ٹائیگرز میں ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں کوئی ایسی لانگ ٹرم سوچ نظر نہیں آتی سیاستدان بس اس کوشش میں ہوتے ہیں کسی طریقے سے الیکشن جیت کر حکومت بنا لیں اور ان کی تمام تر پالیسیاں آنے والے الیکشن کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔
لوگوں نے کچہ کے علاقوں میں دریائی زمینوں میں بستیاں بنا دی ہیں، سڑکوں اور دوسرے پختہ سٹرکچرز کے بننے سے آبی گزرگاہوں کے قدرتی راستوں کو تہس نہس کیا گیا ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ہے۔ قدرتی آبی گزرگاہوں کے ختم ہونے سے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہو گئے جس سے یہ سب نقصان ہوا ہے۔ اگر آبادی کو کنٹرول کیا جاتا تو یہ کچی پکی بستیاں بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لوگ شہروں اور قصبوں میں یا پرانے قدیم گاؤں میں جو قدرتی طور پر اونچی جگہ پر ہوتے وہاں قیام پذیر رہتے۔
اس طرح سوات ڈویژن میں دریائے سوات کے کناروں کے بالکل اوپر ہوٹل بنائے گئے جو پانی کے تیز ریلوں میں بہہ گئے۔ سیاسی تقسیم کی حالت یہ ہے کہ اب جماعتیں اس مشکل وقت میں اکٹھے ہونے کی بجائے باہم دست و گریباں ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے جو آل پارٹیز کانفرنس بلائی اس میں ایک بڑی جماعت پی ٹی آئی کو مدعو نہیں کیا گیا اگر کر بھی لیتے تو اس پارٹی نے شرکت نہیں کرنا تھی۔ یہ ہماری سنجیدگی کا عالم ہے تو بیرونی دنیا تک کیا پیغام جائے گا اور حالات کی سنگینی کا اندازہ کیسے ہو گا۔

