توشہ خانہ اور حکمرانوں کی لوٹ مار
قیام پاکستان کے بعد وزارت خارجہ میں توشہ خانہ بنایا گیا جسے 1973 ء میں کابینہ ڈویژن کے تحت کر دیا گیا تب سے کابینہ ڈویژن میں توشہ خانہ کا شعبہ چلا آ رہا ہے۔ صوبائی سطح پر ملنے والے سرکاری تحائف ایس اینڈ جی اے ڈی کے تحت کیبنٹ سیکشن کے پاس رکھے جاتے ہیں۔ قانون کے مطابق حکومت پاکستان کے اہم عہدیداران کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی رجسٹریشن کی جاتی ہے جس کے بعد ان تحائف کی قیمت کا تعین کر کے وہی شخص 15 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کر سکتا ہے جسے یہ تحفہ ملا ہو پہلا حق اس شخص کا تصور کیا جاتا ہے جسے تحفہ ملا ہو اگر کوئی شخص یہ رقم ادا کر کے تحفہ نہ لے تو پھر یہ تحفہ نیلام کر دیا جاتا ہے لیکن اس کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین ہی حصہ لے سکتے ہیں تاکہ یہ تحائف مارکیٹ میں فروخت نہ ہوں لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان نے یہ جرم سرزد کیا تو انہیں لینے کے دینے پڑ گئے وہ کچھ اشیاء کی 20 فیصد قیمت (توشہ خانے کی کم از کم مقرر کردہ قیمت ) ادا کر کے گھر لے گئے اور کچھ کی کوئی قیمت ادا ہی نہیں کی جس انہوں نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کی اشیا کی قیمت ادا نہیں کی کیونکہ قانون انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے۔ کچھ اشیاء کی 20 فیصد قیمت ادا کی گئی ہے۔ بعد ازاں انہوں ایک حکم کے تحت 50 فیصد رقم کی ادائیگی کر دی ایک سینئر اخبار نویس رانا ابرار خالد نے توشہ خانہ میں آنے والی اشیاء بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اسے توشہ خانہ میں آنے والے تحائف بارے میں یہ کہہ کر کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا گیا بلکہ ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا وہ باز آ جائے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
در اصل عمران خان نے کچھ قیمتی اشیا دوبئی کی مارکیٹ میں فروخت کر دی تھیں اس لئے وہ آخری وقت بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات چھپاتے رہے جب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان کو معلوم ہوا کہ ان کی عمران خان کو دی گئی قیمتی گھڑی کوڑیوں کے دام مارکیٹ میں فروخت ہو گئی ہے تو انہوں شدید ناراضی کا اظہار کیا پاکستان میں جب بھی کوئی حکمران یا اعلیٰ سرکاری افسر کسی سرکاری دورے پر بیرون ملک جائے اور اسے وہاں ملنے والے تحائف وطن واپس آ کر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی امر ہوتا ہے کیونکہ یہ تحائف کسی شخص کو انفرادی طور نہیں دیے جاتے بلکہ یہ ریاست کو اس کے نمائندے کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔ ہر ملک میں بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کا ڈسپوزل مختلف ہے۔ تاہم پاکستان میں باقاعدہ ایک طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔
سرکاری قوانین کے تحت سرکاری افسر، عوامی نمائندے یا مسلح افواج سے وابستہ کوئی بھی افسر سرکاری تحائف ظاہر کرنے کا پابند ہے۔ یہ تحائف فوری طور پر کابینہ ڈویژن کے تحت توشہ خانہ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں توشہ خانہ کو شہرت اس میں جمع کرائے گئے تحائف حکمرانوں کی جانب سے اونے پونے داموں اپنے گھروں میں لے جانے یا بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت سے ہوئی سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے غیرملکی تحائف لے جانے پر نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف مقدمات نیب کے حوالے کر دیے لیکن آج انہیں کچھ ایسی صورت حال کا سامنا ہے۔ ان پر جہاں تحائف کی قیمت ادا کیے بغیر لے جانے کا الزام ہے۔ وہاں تحائف کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو گوشواروں میں بروقت ظاہر نہ کرنے کے جرم میں ایک ریفرنس کا سامنا ہے جو ان کی نا اہلی کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر کوئی حکمران یا اعلیٰ افسر بیرون ملک ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع نہ کرائے تو اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ کیبنٹ ڈویژن ایسے تحائف کی قیمت کا تعین کر نے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے علاوہ ٹیکسلا میوزیم اور نیشنل کونسل آف آرٹس سے بھی تحفے کی نوعیت کے حوالے سے رجوع کر سکتی ہے۔ پرائیویٹ سطح پر بھی تحائف کی قیمت جانچ پڑتال کر سکتی ہے۔ قواعد کے مطابق ایسا تحفہ جس کی مالیت 30 ہزار روپے تک ہو۔ وہ تحفہ کسی قیمت کے بغیر ہی تحفہ وصول کرنے والے کو دیا جا سکتا ہے۔ اس سے زائد کے تحائف کو مجموعی مالیت کا 50 صد ادا کر کے لیا جا سکتا ہے۔ بظاہر تحائف کی قیمت کا تعین کرنے کا ایک میکنزم موجود ہے لیکن کیبنٹ ڈویژن کم از کم قیمت کا تعین ہی کرتی ہے۔
سینئر صحافی رانا ابرار خالد کو داد دیتا ہوں جس نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے حوصلہ نہیں ہارا جب کہ انہیں خوفزدہ اور ہراساں کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا عدلیہ تو توشہ خانہ کی لوٹ مار کے سخت خلاف تھی۔ ایک موقع پر تو اسلام ہائی کورٹ کے جج میاں گل اورنگ زیب نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ کہاں کا قانون ہے۔ تھوڑے سے پیسے دے کر قیمتی تحائف خود رکھ لئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس سال کے دوران جن جن حکومتی عہدیداروں نے تحائف لئے سب سے واپس لے کر عجائب گھر میں رکھے جائیں۔ تحفہ وزیر اعظم کا نہیں بلکہ ریاست کا ہوتا ہے۔ امریکہ میں جو شیلڈ پیش کی جاتی ہے۔ وہ اپنے گھر نہیں لے جائی جاتی بلکہ دفتر میں ہی لگی رہتی ہے۔ اسی موقع پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے گوئبلز نے نعرہ لگایا کہ میرا تحفہ میری مرضی ’یہ تحفہ وزیر اعظم کا نہیں بلکہ ریاست کا ہوتا ہے۔ رانا ابرار خالد نے پورا زور لگایا لیکن عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ان کو ملنے والے تمام غیر ملکی تحائف کی تفصیلات نہیں بتائیں جوں ہی ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تمام تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا عمران خان کی نا اہلی کے لیے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس میں کہا گیا ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ عمران خان نے پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی 6 ماہ میں 10 کروڑ روپے مالیت کے تحائف صرف 20 فی صد قیمت پر وصول کیے جب کہ کروڑوں روپے کی قیمتی گھڑیاں اور لاکھوں روپے مالیت انگوٹھیاں بھی انتہائی کم قیمت پر حاصل کیں ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے جو تحائف لئے ان میں 30 ہزار روپے کا ٹیبل میٹ، 30 ہزار روپے کا لاکٹ، ساڑھے 3 ہزار روپے کی ٹیبل واچ، ساڑھے 3 ہزار روپے کاٹی سیٹ، کارڈ ہولڈر اور پیپرویٹ اور 30 ہزار کے روپے پرفیومز اور عود کی لکڑی شامل ہے۔
ایک لاکھ 14 ہزار روپے مالیت کے مختلف قسم کے گلدانوں اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے مالیت کے 6 وال ہینگرز کی بھی کوئی قیمت ادا نہ کی گئی۔ 2 لاکھ 18 ہزار روپے قیمت والے 12 ڈیکوریشن پیسز کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔ توشہ خانے سے بغیر ادائیگی لیے جانے والے سامان میں ایک لاکھ 33 ہزار روپے مالیت کے 6 قالین بھی شامل ہیں۔ عمران خان 5، 5 ہزار روپے کے دو خطاطی کے فن پارے، ٹرک کا ماڈل، 20 ہزار کا لاکٹ اور 5 ہزار کا لیڈیز بیگ بھی بغیر ادائیگی بنی گالہ لے گئے اس کے علاوہ 20، 25 ہزار روپے مالیت کے خانہ کعبہ کے ماڈل، 6 ہزار کے بیت اللہ کی چابی کے ماڈل، مکہ کلاک ٹاور ماڈل کے علاوہ کھجوریں، 2 جائے نماز، 2 تسبیح اور 6 بوتل شہد پر مشتمل 2 بکس کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی ان اشیاء کی مالیت 29 ہزار 700 روپے ہے۔
ساڑھے 7 ہزار روپے مالیت کے سری لنکا سے آئے قیمتی پتھر اور تسبیح، 27 ہزار روپے کا شطرنج بورڈ اور 22 ہزار روپے کا نادر پیالہ بھی بغیر ادائیگی عمران خان کے گھر پہنچ گیا۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے۔ عمران خان نے 14 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کے تحائف کے بدلے صرف 3 کروڑ 81 لاکھ روپے ادائیگی کی۔ قیمتی گھڑیوں، پرفیومز، مردانہ و زنانہ کپڑوں، زیورات اور دیگر تحائف سے بھرے 3 کروڑ 10 لاکھ 400 روپے مالیت کے 6 بکسوں کے صرف ایک کروڑ 54 لاکھ 91 ہزار 450 روپے ادا کیے گئے۔
ان تحائف میں سے ایک عمران خان جب کہ باقی تمام سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو دیے گئے تھے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ساڑھے 8 کروڑ روپے کی گریف گھڑی صرف ایک کروڑ 70 لاکھ روپے، 15 لاکھ روپے کی رولیکس گھڑی 2 لاکھ 49 ہزار میں لی گئی۔ 56 لاکھ روپے کے کف لنکس، 15 لاکھ روپے کا پین اور 87 لاکھ روپے کی انگوٹھی کی صرف 20 فی صد ادائیگی کی گئی۔ 38 لاکھ روپے والی رولیکس گھڑی کے صرف 7 لاکھ 54 ہزار روپے، 19 لاکھ روپے کی گھڑی کے 9 لاکھ 35 ہزار ادا کیے گئے۔
اسی طرح 17 لاکھ 23 ہزار روپے کی رولیکس گھڑیاں، آئی فون، مردانہ کپڑے، قیمتی پرفیومز اور بٹوے کے صرف 3 لاکھ 38 ہزار 600 ادا کیے گئے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نے 32 ہزار روپے کا قالین صرف ایک ہزار روپے، ایک لاکھ 10 ہزار مالیت والا ڈنر سیٹ 40 ہزار جب کہ ایک لاکھ 20 ہزار مالیت کا ایک ڈنر سیٹ اور کف لنکس کی جوڑی صرف 45 ہزار روپے میں توشہ خانہ سے لے گئے۔ صادق و امین کا خطاب حاصل کرنے والے وزیر اعظم کے خلاف دائر ریفرنس کی تفصیلات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر صادق و امین ہے۔
عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کیس سے متعلق اپنا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی اثاثے نہیں چھپائے، ریفرنس بلاجواز اور بے بنیاد ہے۔ کیس کے سیاسی مقاصد ہیں۔ اگست 2018 سے دسمبر 2021 تک تمام اہم شخصیات کو 329 تحائف دیے گئے۔ مجھے اور میری اہلیہ بشری بی بی کو 58 تحائف ملے، 14 تحائف 3 کروڑ 80 لاکھ 76 ہزار روپے دے کر لیے، 30 ہزار روپے سے کم مالیت کے 44 تحفوں کی قیمت ادا نہیں کی، 4 تحائف 30 جون 2019 تک عمران خان کے پاس نہیں تھے۔ ان کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ تحائف کی ادا کی گئی 2 کروڑ 12 لاکھ 26 ہزار رقم اور فروخت کی آمدن 5 کروڑ 80 لاکھ روپے کو انکم ٹیکس میں ظاہر کیا، مالی سال 2019۔
20 کے دوران ذکر کردہ 3 تحائف آگے تحفے میں دے دیے تھے۔ اس وجہ سے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے گئے توشہ خانہ تحائف کو اثاثوں میں کبھی نہیں چھپایا گیا۔ الیکشن ایکٹ کے تحت نا اہلی یا جرمانہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا، ریفرنس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے۔ نہ ہی کیس قابل سماعت۔ سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کسی رکن کو 62 ون ایف کے تحت نا اہل نہیں کر سکتا، کابینہ ڈویژن کے آفس میمورینڈم کے مطابق 30 ہزار روپے مالیت تک کا تحفہ وصول کرنے والا بغیر ادائیگی کے رکھ سکتا ہے۔ 2021 / 22 کے حاصل کردہ 2 تحائف کو ابھی ٹیکس ریٹرن اور اثاثوں کی تفصیلات میں ظاہر کرنا ہے۔ ہر رکن کی دائر درخواست ریفرنس نہیں بن جاتی، سپیکر نے ریفرنس بھیجتے ہوئے 63 ون کے حوالے سے اپنا دماغ استعمال نہیں کیا الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کو 4 ماہ کے دوران عمران خان سے زیادہ قیمتی تحائف ملے ہیں۔ لیکن وزیراعظم نے ملنے والے غیرملکی تحائف گھر لے جانے کی بجائے مستقل طور پر توشہ خانے میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا فیصلہ ہے۔ اسے سیاسی مخالفین بے شک سیاسی ڈرامہ ہی کیوں نہ کہیں لیکن یہ بڑا حوصلے کا کام ہے۔ بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف اب عوام بھی دیکھ سکیں گے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ تحائف عوام کو دکھائے جائیں تاکہ دوست ممالک کی پاکستان سے محبت سے عوام آگاہ ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم ہاؤس میں غیر ملکی تحائف کے لیے جگہ مختص کر دی گئی ہے۔ بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے ہیں۔ توشہ خانے میں جمع کرائے گئے تحائف کی مالیت 27 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے توشہ خانے میں جمع کرائے گئے قیمتی تحائف انہیں خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران ملے تھے۔ تحائف میں ہیرے سے جڑی 2 قیمتی گھڑیاں بھی شامل ہیں۔ ایک گھڑی کی مالیت 10 کروڑ اور دوسری کی قیمت 17 کروڑ روپے ہے۔
وزیراعظم نے قیمتی قلم، انگوٹھی، کف لنک سمیت تمام تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دیے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے۔ خلیجی ریاستوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو عمران خان سے زیادہ مہنگی گھڑیاں تحفے میں دی گئی ہیں۔ شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ پنجاب 10 سال کے دوران ملنے والے تمام تحائف توشہ خانے میں جمع کراتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت نے 2019 میں ہی دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی، میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف غیرملکی تحائف کی انڈر پرائسنگ کے حوالے سے نیب میں تحقیقات شروع کروائی تھی اور ریفرنس احتساب عدالت میں بھجوایا تھا جو تا حال زیر سماعت ہے۔ اگر پچھلے حکمرانوں کے خلاف توشہ خانہ میں خیانت کا ریفرنس بن سکتا ہے تو بلاشبہ عمران خان کے خلاف بھی غیر ملکی تحائف کے حصول میں انڈر پرائسنگ کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے کے معاملے کی نیب تحقیقات کر سکتی ہیں۔ عمران خان کی طرف سے توشہ خانہ ریفرنس میں جمع کرائے گئے جواب پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی فل کورٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان کی معاونت حاصل کرے گی۔
تین سابق وزرائے اعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس قائم کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے صرف 15 فی صد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کی ہیں۔ نیب نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور قوانین کو نرم کیا۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو ستمبر، اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے بلٹ پروف بی ایم ڈبلیو 750، لیکسز جیپ اور لیبیا سے بی ایم ڈبلیو 760، گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں۔
مذکورہ ریفرنس کے مطابق سابق صدر فوری طور پر ان گاڑیوں کی اطلاع دینے اور کابینہ ڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کرانے کے پابند تھے۔ لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا اور نہ ہی انہیں جمع کرایا گیا۔ نیب ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے طریقہ کار میں غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔
توشہ خانہ سے کسی حکمران نے اسے ملنے والا کوئی تحفہ قیمت ادا کیے بغیر حاصل کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہے بہتر یہ ہے۔ عمران خان نے نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف جو مقدمات بنائے ہیں۔ ان میں عمران خان کے خلاف بھی ایک اور مقدمہ کا اضافہ کر دیا جائے تاکہ توشہ خانہ سے کم قیمت پر تحائف لے جانے کے مقدمہ کا اکٹھے فیصلہ ہو۔

