ایشیا کا نیا چیمپیئن کون؟


سنسنی خیز ٹورنامنٹ ہمیں بہت سے شاندار اور نہ بھولنے والے لمحات دے کر آج اختتام پذیر ہونے جا رہا تھا۔

فاتح کون ہو گا یہ فیصلہ کرنے کے لیے دونوں نوجوان کپتان مسکراتے ہوئے میدان میں اترے اور بھارت و افغانستان کے دلوں پر بجلیاں گراتے ہوئے مصافحہ کیا، یہ انتہائی قیمتی ٹاس پاکستان نے جیتا اور اپنے دوست ملک سری لنکا کے بیٹوں کو بلے بازی کی دعوت دی۔

گیند شاہین شاہ کے جانشین نسیم شاہ کے ہاتھ میں تھی اور سامنا کر رہے تھے ان فارم بلے باز مینڈس تو ذرا سوچیں کہ کیا ہوا ہو گا؟

جی جی بالکل درست سمجھے

نسیم شاہ کی شاندار ان سوئنگ اور مینڈس کی وکٹیں امارات کے صحرا میں بکھر گئیں، پہلے ہی اوور میں وکٹ لینا پاکستان باؤلنگ کی روایت ہے، وسیم اکرم ہو یا محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی ہو یا اب نسیم شاہ! دنیا ان کا پہلا اوور دیکھنے کے لیے رک سی جاتی ہے۔

حسنین کا استقبال دو چوکوں سے ہوا تو حارث کو آزمانے کا فیصلہ کیا گیا اور 147 کلو میٹر کی رفتار سے پھینکی گئی گیند کو۔ جب ہوا میں اچھالا گیا تو ببر سے بابر نے الٹے قدموں پر بھاگتے ہوئے ایک شاندار کیچ تھام کر بتلا دیا کہ آج ہم کچھ نیا کریں گے۔

میدان میں ایک بار پھر سے ساحر علی بگا کی آواز گونج رہی تھی
پاکستان زندہ باد

سری لنکا محض 23 پر دو اہم ترین کھلاڑی گنوا چکا تھا، اور پاور پلے کے چار اوورز ہو چکے تھے البتہ سری لنکا کی جانب سے ڈی سلوا کی کور شاٹس دیکھنے لائق تھیں۔

البتہ دوسری جانب سے حارث راکٹ کی 151 کلو میٹر کی رفتار سے آتی گیند شاید گونا تھلانکا کو نظر ہی نہ آئی اور بیلز کی بتیاں روشن ہوئیں، سری لنکن کے چہرے بجھ گئے، سبز ہلالی پرچم بلند تھا، پاکستانی شائقین مسکرا رہے تھے اور میچ کی ڈرائیونگ سیٹ اب پاکستان نے سنبھال لی تھی۔

پاور پلے کے اختتام پر سکور 42 رنز تھا اور تین وکٹیں گر چکی تھیں، یہ پاکستان کا عمدہ آغاز تھا۔

اب چچا افتخار کو ٹورنامنٹ میں پہلی بار گیند بازی کے لیے متعارف کروایا گیا تو پہلے ہی اوور میں ”خطرے ناک“ نظر آنے والے ڈی سلوا کا شاندار ریٹرن کیچ پکڑ کر گویا سری لنکا پر لنکا ہی ڈھا دی۔

گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دینے کو شاداب آئے تو سبھی جھوم اٹھے کیوں کہ سری لنکا کا کپتان کلین بولڈ ہو چکا تھا، سبھی یکجان ہو کر کھیل رہے تھے اور ان کے بولڈ ہونے کا غم بھارت میں منایا جا رہا تھا۔

راجا پکسا اور ہاسارنگا کی پارٹنر شپ جب ففٹی پلس ہو گئی تو ایک بار حارث راکٹ رؤف کو لانچ کیا گیا جنہوں نے دو شاندار چوکے وصول کرنے کے بعد انتقام ڈن کر لیا، رضوان نے ایج کر کیچ کیا اور یوں پاکستان نے کچھ سکھ کا سانس لیا۔

آخری چار اوورز کا آغاز ہوا تو نسیم شاہ نے سولہ رنز دیے اور یوں دو شاندار چھکوں کی بدولت سکور 136 ہو گیا تھا۔

سری لنکا نے حارث کے آخری اوور میں لیگ بائی کا ایک چوکا بٹورا مگر پاکستان تب تک میچ پر اپنی گرفت کمزور کر چکا تھا، پہلے خوشدل نے رن آؤٹ چانس ضائع کیا تو اگلی ہی گیند پر شاداب نے کیچ ڈراپ کر دیا۔ راحت علی، سعید اجمل، حسن علی اور آج شاداب خان

میچ پاکستان کی گرفت سے نکل رہا تھا۔ انیسویں اوور کی آخری گیند پر کیچ ڈراپ+چھکے کی وجہ سے حسنین کا ایک عمدہ اوور ضائع ہو گیا۔ سری لنکا 19 اوورز میں 155 رنز پر پہنچ چکا تھا اور ابھی ایک گیند باقی تھی۔

راجا پکسا کا دوسرا کیچ شاداب کے ہاتھوں سے گر چکا تھا اور یہ پاکستان کے لیے کچھ اچھا سائن نہیں تھا، آج پاکستان کے بہترین فیلڈر کا بدترین دن تھا، شاداب خان، ایک مس فیلڈ جس میں گیند سر پر لگی اور پھر دو کیچ بھی چھوٹ گئے۔

راجا پکسا کے آخری دو گیندوں پر چھکا اور چوکا۔ سری لنکا نے کمال کر دیا، 58 رنز پر پانچ آؤٹ ہو جانے کے بعد چھ وکٹوں پر 170 رنز کے ساتھ اننگز مکمل

گیم مکمل طور پر آن ہے اور پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 171 رنز درکار ہیں۔

بھانوکا راجا پکسا ایک مرتبہ امپائر کے فیصلے کی وجہ سے بچے اور پھر ان کے دو کیچ بھی چھوٹے۔ وہ 45 گیندوں پر 71 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے واپس آئے ہیں۔ قسمت کے بل بوتے پر بہترین اننگز

#اب۔ دیکھتے۔ ہیں۔ پاکستان۔ اپنی بلے بازی میں کیا گل کھلاتا ہے

Facebook Comments HS