عشق، دل اور عقل

ہم اپنی زندگی میں عشق، دل اور عقل کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم ان کے معنی سے بے بہرہ ہیں مثال کے طور پر آپ کے کان میں یہ جملے تو ضرور سنائی دیے ہوں گے
وہ بڑے دل والا ہے۔
زبان کا گندا ہے پر دل کا اچھا ہے۔
اس کا دل تو بڑا کالا ہے۔
عقل نہیں تو موج ہی موج۔
جب ہم نے اس پر غور کیا تو اقبال کا یہ شعر ہمارے ذہن میں آیا
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
مشرقی روایات کے مطابق دل و عشق کو ہمیشہ عقل پر فوقیت دی گئی ہے۔ دل و عشق کے معنی یہاں اپنی ذات کو دوسروں کی خاطر قربان کرنا یا اس میں حصہ دار بنانا ہوتا ہے اور اس عشق کی اوج معلیٰ ”فنا“ ہے ذات کو مٹا دینا۔ یعنی دل والا ہے وہ ہے جو اپنی خوشی میں دوسروں کو شریک کرتا ہے اپنے منہ کا نوالہ دوسروں کو دے دیتا ہے عشق اور دل سے مراد اپنی ذات کی قربانی ہے۔ اقبال کا ایک شعر ملاحظہ ہو:۔
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد نہ ملا نہ حکیم
عقل مشرقی روایت کے مطابق اپنا فائدہ سوچنا ہے اپنی جان بچانا اپنی ذات اور اس سے منسلک لوگوں کو اپنا سمجھنا۔ مثال کے طور پر جو سپاہی میدان جنگ سے بھاگ آتے ہیں یا ہتھیار پھینک دیتے ہیں یا شکست تسلیم کر لیتے ہیں ان کو بزدل کہا جاتا ہے اور ان لوگوں کو پسند کیا جاتا ہے جو جنگ میں جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ اس لیے عقل کو ہمیشہ کم تر درجہ دیا گیا ہے۔ اس کو عیار مانا گیا ہے۔ جب کہ غور کیا جائے بنیادی طور پر ہر جاندار میں اپنی بقاء کی سب سے زیادہ آرزو ہوتی ہے اور اپنی جان بچانا قدرتی عمل ہے لیکن کیونکہ جب سپاہی اپنی جان بچائے گا تو دوسرے لوگوں کی کی جان خطرے میں ہوگی اس لیے ہر جگہ دل اور عشق کو بنیاد رکھنے کو کہا گیا ہے۔
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
اب مسئلہ وہاں بنتا ہے جب ہم مغربی فکر پڑھتے ہیں جہاں دل کو جذبات سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو میرا دل چاہے گا میں وہ کروں گا اور جذباتی فیصلہ کو یہاں غلط قرار دیا گیا ہے اور عقل کو یہاں منطق مراد لیا گیا ہے جس میں ہر فیصلہ کرنے کی کوئی خاص دلیل یا وجہ ہونی چاہیے ورنہ اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مغربی فکر میں نہ صرف دل اور عقل کے معنی مختلف ہیں بلکہ عقل کو دل پر فوقیت دی گئی ہے اس لیے جب عقل سے کام لینے کے لیے کہا جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ بندہ بڑا مطلبی ہے اس لیے عقل عقل کہتا رہتا ہے۔
جب کہ یہاں عقل سے مراد کسی بھی فیصلہ کو کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلو کے بارے میں پرکھنا اور فیصلہ کرنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے فیصلے سے جذبات کو مکمل طور پر علیحدہ نہیں کر سکتے وہ ساتھ ساتھ چلیں گے لیکن جذبات میں آ کر آپ بہہ نہ جائیں۔ اس لیے عقل سے کام لینے کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ جب ہمارے ہاں دل اور عقل دونوں معنی میں استعمال ہوتے ہیں یعنی مشرقی فکر کے مطابق بھی اور مغربی نظریہ کو سامنے رکھ کر جس کی وجہ سے اکثر لوگ الجھے رہتے ہیں کہ کون سے معنی ٹھیک ہیں کون سے غلط۔ مسئلہ ٹھیک اور غلط کا شاید نہیں ہے بلکہ اس شے کا ہے آپ کس فکر کو اپنی زندگی میں اپنائے ہوئے ہیں اور اہمیت دیتے ہیں پھر اسی فکر کے تحت ہی آپ الفاظ کو استعمال کرتے اور معنی سمجھتے ہیں۔

