یوکرین جنگ: روس کے نقصانات پیوتن کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟

سٹیو روزنبرگ - ریشیا ایڈیٹر، ماسکو


پیوتن
جب سے یہ جنگ شروع ہوئئ ہے یہ واضح نہیں ہے کہ پیوتن کیا سوچ رہے ہیں
آپ عمومی طور پر توقع کرتے ہیں کہ روس کے سرکاری ٹی وی پر چلنے والے پروگرام میں روس یوکرین جنگ میں کریملن کی کامیابیوں کا ڈھول پیٹا جائے گا۔

مگر اتوار کو نشر ہونے والے پروگرام کا آغاز ایک بہت ہی غیر معمولی اعتراف کے ساتھ کیا گیا۔

سنجیدہ دکھائی دینے والے پروگرام اینکر دمتری کیسلیو نے یہ اعتراف کیا کہ ‘ اگلے محاذ پر جاری (یوکرین میں) سپیشل آپریشن کے دوران یہ ہفتہ مشکل ترین رہا ہے۔’

‘یہ خاص طور پر خارخیو کے محاذ پر بہت مشکل رہا جہاں دشمن فوج کے دستے نے ایک حملے میں ہمارے (روسی) فوجیوں کو شکست دیتے ہوئے انھیں ان شہروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا جنھیں پہلے آزاد کروایا گیا تھا۔’

‘آزاد’ کو ‘قبضہ’ پڑھا جائے۔ ماسکو نے ان علاقوں پر مہینوں پہلے قبضہ کیا تھا مگر یوکرینی افواج کے بجلی بن کر گرنے کے جوابی حملے کے بعد روسی افواج نے شمال مشرقی یوکرین کا کافی حصہ کھو دیا ہے۔

اب بھی روسی میڈیا حالات کو اپنے جوانوں کی بہادری بنا کر پیش کر رہا ہے اور سرکاری طور پر خارخیو کے علاقے میں جو کچھ ہوا ہے اسے ‘پسپائی’ کے طور پر نہیں بتایا جا رہا ہے۔

‘روسی وزارت دفاع نہ ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ روسی افواج بولاکلیا، کیوپانسک اور آئزم کے علاقوں سے بے عزت ہو کر نکلی ہے۔’

سرکاری اخبار روزیسکایا گزٹا کے تازہ ترین شمارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘وہ بھاگے نہیں تھے۔ یہ ایک پہلے سے منصوبہ بند تنظیم نو تھی۔’

روس کے شام کے اخبار ’ماسکوسکی کوسوملیٹس‘ میں عسکری تجزیہ کاروں نے ایک مختلف نظریہ پیش کیا ہے کہ ‘ یہ پہلے ہی واضح ہے کہ ہم نے دشمن کو کمزور جانا۔ (روسی فوجوں) نے ردعمل دینے میں وقت لیا اور تب تک نقصان ہو چکا تھا۔۔۔اس کے نتیجے میں ہمیں شکست ہوئی اور ہم نے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی اور اپنے فوجی دستوں کو پسپائی کا کہا تاکہ وہ گھیرے میں نہ آ سکیں۔’

اس ‘شکست’ نے روس نواز سوشل میڈیا چینلز اور ‘محب وطن’ روسی بلاگرز میں غصے کو جنم دیا ہے، جنھوں نے اپنی فوج پر غلطیاں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

چیچنیا کے طاقتور رہنما رمضان قادریوف کا بھی یہ ہی کہنا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ‘اگر آج یا کل حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تو میں وزارت دفاع کی قیادت اور ملک کی قیادت سے بات کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا تاکہ انھیں زمینی حقائق کی وضاحت کی جاسکے۔ یہ بہت دلچسپ صورتحال ہے۔ یہ حیران کن ہے۔’

ولادیمیر پیوتن کی جانب سے یوکرین پر بھرپور حملے کے حکم کو چھ ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔

اور اس کے بعد سے مجھے یاد ہے کہ روسی سیاستدانوں، مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ٹی وی پر یہ پیشین گوئی کی تھی کہ جسے کریملن اپنا ‘خصوصی فوجی آپریشن’ کہتا ہے، وہ دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد یوکرینی عوام روسی فوجیوں کو آزادی دہندگان کے طور پر خوش آمدید کہیں گے، اور یوکرین کی حکومت تاش کے پتوں کی طرح گر جائے گی۔

مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

اس کے برعکس چھ ماہ سے زیادہ عرصے میں اس جنگ کے دوران روسی فوج اپنے قبضہ کیے علاقے ہار رہی ہے۔

لہذا ایسے سب میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سب کے ولادیمیر پیوتن کے لیے سیاسی اثرات و نتائج مرتب ہوں گے؟

روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے 20 سال سے زیادہ عرصے تک، روسی اشرافیہ میں ایک فاتح کے طور پر سے شہرت حاصل کی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو مشکل ترین حالات سے نکالنے والا، اور ناقابل تسخیر کے طور پر پیش کیا ہے۔

مگر 24 فروری کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہو گئی۔

گذشتہ چھ ماہ کے حالات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صدر پیوتن کا یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ ایک بڑی غلطی تھی۔ تیزی سے فتح حاصل کرنے میں ناکام، روس ایک طویل، خونریز جنگ میں پھنس گیا، اور اسے شرمناک شکست کا ایک سلسلہ برداشت کرنا پڑا۔

جب ایک آمرانہ رہنما کی ناقابل تسخیریت کی چمک ختم ہو جاتی ہے، تو یہ مذکورہ رہنما کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ولادیمیر پیوتن کو روس کی تاریخ کا علم ہو گا۔ یہ ماضی کے روسی لیڈروں کے لیے اچھا ختم نہیں ہوا جنھوں نے جنگیں لڑیں لیکن جیت نہ سکے۔

جاپان کے ہاتھوں روس کی پہلی شکست کی وجہ سے روس میں 1905 میں پہلا انقلاب رونما ہوا تھا۔

جنگ عظیم اول میں عسکری ناکامیوں نے 1917 کے انقلاب روس کی راہ ہموار کی اور زار روس کا دورہ اقتدار اختتام پذیر ہوا۔

تاہم عوامی طور پر صدر پیوتن کبھی شکست تسلیم کرنے پر اس جنگ کو ختم نہیں کریں گے۔

پیر کے روز ان کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے کہا: "[روس کا] خصوصی فوجی آپریشن جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ابتدائی طور پر طے کیے گئے تمام اہداف پورے نہ ہو جائیں۔"

جو ہمیں دوسرے اہم سوال کی طرف لاتا ہے: مسٹر پیوتن آگے کیا کریں گے؟

آپ کو یہاں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنے کے لیے سخت دباؤ پڑے گا جو جانتا ہے کہ ولادیمیر پیوتن کیا سوچ رہے ہیں اور منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فوجی اور انٹیلی جنس سربراہوں سے کتنی درست معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

لیکن یہاں دو چیزیں ہیں جو ہم جانتے ہیں: روسی صدر شاذ و نادر ہی غلطیاں کرنے کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور وہ شاذ و نادر ہی یو ٹرن لیتے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے ہمیں پہلے ہی اس بات کے آثار نظر آرہے ہیں کہ میدان جنگ میں ناکامیوں کا الزام یوکرائن کی مغربی حمایت پر لگایا جا رہا ہے۔

روسی سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ نیٹو کی حمایت سے کیف نے جوابی حملہ کیا۔

ایک اور تکلیف دہ سوال ہے جو کئی مہینوں سے پس منظر میں ہے: اگر وہ روایتی ہتھیاروں کے ذریعے فتح حاصل نہیں کر سکتا تو کیا صدر پیوتن جوہری ہتھیاروں کا سوچیں گے؟

چند روز قبل ہی یوکرین کے فوجی سربراہ ویلیری زلوزنی نے خبردار کیا تھا: "بعض حالات میں روسی مسلح افواج کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا براہ راست خطرہ ہے۔"

فی الحال کریملین میں خوف و ہراس کے کوئی کھلے آثار نہیں ہیں۔ روسی سرکاری ٹی وی زیادہ مثبت لگ رہا ہے۔ وہ یوکرائن کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی میزائل حملوں کو "خصوصی کارروائی میں ایک اہم موڑ" قرار دے رہا ہے۔

جہاں تک کریملین کے رہنما کا تعلق ہے، گزشتہ ہفتے جب یوکرین سے یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ روس علاقہ کھو رہا ہے- ماسکو میں ایک پرسکون نظر آنے والے ولادیمیر پیوتن ایک نئے فیرس وہیل (ہنڈولے) کا افتتاح کر رہے تھے جو یورپ میں سب سے اونچا ہے۔

روس کے صدر اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ماسکو کے نئے بگ وہیل کی طرح ان کا "خصوصی آپریشن" بھی ان کے حق میں ہو جائے گا.

یہ بھی پڑھیے

یوکرین کی فوج کا تین گنا علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعویٰ

یوکرین کے آسمانوں کو کنٹرول کرنے کی جنگ

روس اور یوکرین کی فوجی طاقت کا موازنہ: ’یوکرین بہت مشکل صورت حال میں ہے‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments