منٹو سے ملاقات
کافی عرصہ ملاقات نہ ہونے پر ہم منٹو صاحب سے ملاقات کے لئے نکلے کہ شاید کہیں نظر آ جائیں۔ پاک۔ ٹی۔ ہاؤس مال روڈ بھی گئے کہ شاید سگریٹ سلگائے بیٹھے ہوں مگر نظر نہیں آئے، لیکن جون ایلیا صاحب بیٹھے زندگی کی پی ہوئی سگریٹ کے آخری کش لے رہے تھے، کہنے لگے آپ لوگ چائے پیو، میں زہر پی رہا ہوں۔
وہاں سے اٹھے تو اردو بازار جانا ہوا، اولڈ بک ہاؤس گئے جو کہ تہہ خانہ میں ہے۔ زمین پہ نیچے کتابوں کی ترتیب سے لگی لائن سے ایک کتاب اٹھائی تو کیا دیکھا کہ منٹو صاحب نیچے کتابوں میں چھپے بیٹھے ہیں اور مجھے کہتے ہیں یار کتاب رکھ دو مجھے چھپا رہنے دو، یہ زمانہ مجھے مارنے کی گھات لگائے بیٹھا ہے۔
میں نے سوال کیا کیوں؟ بولے کہ زمانے کی حقیقت لکھنے کی وجہ سے۔
”لوگ سوچنا پسند نہیں کرتے، کیوں کہ وہ سوچیں گے تو نتائج پر پہنچیں گے اور نتائج ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتے۔ یہ لوگ اپنی حقیقت سے دور بھاگنا چاہتے ہیں اور اسی لیے پریشان ہیں“ ۔
میں نے منٹو صاحب سے گلہ کیا کہ سچ بولنے کے متعلق کیا لکھ گئے ہو، خود بھی خوار ہو گئے اس زمانے میں اور ہمارا بندوبست بھی کر آئے ہو، بھلا گھٹن کے ذہنی ماحول میں کہاں کوئی حقیقت پسند ہے۔ آج کل ہم لڑکوں کے گرد گھیرا تنگ ہے، جو لوگ مجازی جاگیرداری چاہتے ہیں، وہ ہم سے تنگ ہیں کہ یہ کہاں سے نکل آئے ہیں۔
چلو خیر منٹو صاحب آپ کی بات مان کہ سچ تو بولا مگر اس معاشرے میں 95 ٪ لوگ ناراض کر لیے، اب اس کام کو سلجھانے کے لئے کچھ لکھ بھیجیے، اتنے میں کہتے ہیں کوئی دیکھ لے گا اب جاؤ یار کیا بکے جا رہے ہو کیا لکھ بھیجوں، تمھارے الجھائے ہوئے سچ کو سیدھا کرنے کے لئے!
تو پہلے کیا کر آیا ہوں، یہی تو لکھا کر آیا ہوں۔ تم لوگوں کے ہاتھوں ساری الجھائی ہوئی حقیقتوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہی تو لکھا تھا اور کیا کیا تھا میں نے! میرے ساتھ کیا سلوک کیا تم لوگوں نے کہ آج میں اس نوبت تک پہنچا ہوں کہ یہاں گھٹن میں سانس لے رہا ہوں۔ میں نے کہا باہر بھی لوگ اسی گھٹن کا شکار ہیں۔ کہتے ہیں لیکن مجھے کوئی دکھ نہیں، پہلے بھی ہم ایسے ہی چھپ چھپا کر رہ کر آئے ہیں۔
میں اب کچھ نہیں لکھ کر دوں گا۔ تم لوگوں میں سچ سننے کی ہمت ہی نہیں حالانکہ میں نے سچ لکھا تھا اور نہ ہی تم لوگوں میں یہ صلاحیت تھی کہ سچ کو بیان کر سکو۔ میں نے کہا جناب ہم نے بڑے سلیقے سے سچ بتایا، کہتے ہیں یہی تو مسئلہ کرتے ہو۔ سچ میں تمیز نہیں ہوتی اور تم ان لوگوں سے بات کرتے ہو ”جو اصل میں بدتمیز ہیں مگر تمیز سے بات کرتے ہیں“
ایک طریقہ ہے جو مجھ سے تو نہیں ہو پایا۔ سچ میں تھوڑی منافقت شامل کر کے ٹرائی کرو، یہ لوگ پسند کرتے ہیں، پھر مجھے بتانا۔
میں یہاں کتابوں کے نیچے چھپا پڑا ہوں، مالک کو پتہ بھی نہیں اور میں کرایہ بھی نہیں دیتا۔
رفو چکر ہو جاؤ اب یہاں سے۔


