کم ظرفی اور اعلی ظرفی


ایک دو لوگوں کے ساتھ ملنا ہوا، خوب گپ شپ اور ہنسی مذاق ہوئی۔ اپنی طرف سے ممکن حد تک انھیں عزت و احترام سے نواز کر رخصت کیا۔ بعد میں ایک دوست نے حیرانی سے پوچھا،

بھائی، یہ لوگ تو آپ کے سخت ناقد ہیں اور آپ کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، لیکن ان کے ساتھ آپ کے رویے نے تو مجھے حیران کر دیا۔

میں نے جواباً کہا کہ ششدر کرنے والی بات تو ان کا عمل ہی رہا کہ پیٹھ پیچھے مخالفت، نفرت، غیبت اور بہتانات تک، لیکن سامنے آتے ہی یہ ”محبتیں“ اور اظہار ”عقیدت“ ۔ اسی کا نام دورنگی ہے۔

”لوگ دلوں میں نفرتیں لے کر کس قدر سادگی سے ملتے ہیں“
یاد رکھئے،

اگر لوگوں کی سوچ، عمل، رویوں اور نفسیات کے مطابق رد عمل آپ بھی دینا شروع کریں گے تو بالکل تنہا ہی رہ جاؤ گے کیونکہ یہ تو معاشرے کا عام چلن ہے اور عمومی مزاج ہے۔

لوگوں کو ہر دو حوالوں سے موضوع گفتگو بنوانا، اسے مجرم ٹھیرانا، سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا اور آگے اس کی تشہیر کرنا، یہ تو معاشرتی نفسیات کا باقاعدہ حصہ بلکہ ایک کلچر تشکیل پا چکا ہے۔

یہ ہر گز بھی لازمی نہیں کہ ہر بات کو دل پہ لیا جائے اور اپنے مزاج کو بگاڑنے اور ترش رویوں کو پروان چڑھانے کا سبب بنا دیا جائے۔

بس جو لوگ دو رنگی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں وہ مسلسل نظروں سے گرتے چلے جاتے ہیں۔

”کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمیں ان کی چالاکیاں اور مکاریاں سمجھ نہیں آتیں لیکن انھیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ خاموشی سے ہماری نظروں سے گرتے چلے جاتے ہیں“

کتے گاڑی کے پیچھے پیچھے بھاگ کر بھونکتے چلے جاتے ہیں لیکن نہ گاڑی میں سوار ہوسکتے ہیں اور نہ رکوا سکتے ہیں اور نہ گاڑی کو چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ یہ ان کا مقصد ہوتا ہے لیکن بھونکنا ان کی عادت ہوتی ہے۔ گاڑی منزل مقصود کی طرف چلی جاتی ہے اور یہ پیچھے رہ کر اپنے آپ کو چاٹنے میں مگن ہو جاتے ہیں۔

”میچورٹی اور وقار کی خاص حد یہ ہے کہ بہت سارے منفی لوگوں اور متعصبین کو نظر انداز کر کے پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔“

منافقین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا جو رویہ اور عمل رہا ہے وہ جینے کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

باوجود اس کے رسول اللہ ﷺ کو منافقین کا بھی پتہ تھا اور ان کی شر انگیزیوں، دسیوں، چالبازیوں، تعصب، نفرت اور خباثتوں کا بھی علم تھا لیکن وہ برابر مجالس رسول میں بھی آتے رہے اور مسجد میں بھی لیکن رسول اللہ نے موقع کی مناسبت سے ان کے ساتھ معاملہ کیا اور اسے سرعام مطعون نہیں کیا حتی کے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابئی کے جنازہ بھی پڑھایا اور بہت سارے منافقین کے نام بھی راز میں رکھ کر آشکار نہیں کروائے۔

کم ظرف اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پست ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ اعلی ظرف اپنے کردار، وسعت قلبی، اعتماد اور حسن اخلاق کی وجہ سے برتر ہوتے جا رہے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS