عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی ضرورت


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ترقی یافتہ صنعتی ممالک کو احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ صنعتی فضلے کے اخراج کی بدولت ماحولیاتی تابکاری بڑھانے اور کاربن کے پھیلاؤ کے ذمہ دار وہ ہیں۔ ان کی یہ بات بجا ہے کہ پاکستان ایک فیصد بھی کاربن فٹ پرنٹ کا باعث نہیں۔ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی آلودگی کی وجہ سے دنیا موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہے اور اس عمل سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں جو سیلاب آ رہے ہیں اس کی بڑی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے سبب گلیشئرز کا پگھلنا ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا قدرت سے جنگ میں کردار آٹے میں نمک برابر بھی نہیں لیکن وہ ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہا ہے۔ انتونیو گوتریس نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کی خاطر کیے گئے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں تباہی سے نمٹنے اور بحالی و تعمیر کے کام کو شروع کرنے کے لیے عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کی اپیل بھی کی ہے۔ ہمارے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو چاہیے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان کے بعد یہ مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پوری شدت سے اٹھائیں کہ پاکستان بڑے صنعتی ممالک کے پھیلائے گئے فضلے کے سبب شدید تباہی سے دوچار ہو چکا ہے۔

لہذا امیر ممالک کا فرض بنتا ہے کہ نہ صرف پاکستان کو قرض کی مد میں مہلت دیں بلکہ تعمیر نو کے کام میں بھی بھرپور تعاون کریں۔ یہ وقت سستی جذباتیت دکھانے کا نہیں ہمارے میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرے کہ آپ کی وجہ سے ہم بحران کا شکار ہیں اور اگر ہمیں عالمی قوتوں نے مدد فراہم نہ کی تو سیلاب کا پانی اترنے کے بعد بھی تباہی تھمے گی نہیں اور متاثرہ علاقوں کے لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو جائیں گے۔

پوری دنیا میں سیلاب کی تباہی دیکھ کر پاکستان کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہو رہی ہے لیکن حب الوطنی کے خود ساختہ علمبردار ہمارے کچھ سیاستدان اتنے پتھر دل ہو چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کی دشمنی میں عالمی برادری کی امداد رکوانے کے لیے ہر حربہ اختیار کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ ملکی معیشت کا حال ان کے سامنے ہے کہ اس میں تعمیر نو کا بار اٹھانے کی کتنی سکت ہے۔ پورے ملک میں سترہ لاکھ مکانات گر چکے ہیں اور آٹھ لاکھ مویشی مر چکے ہیں۔

سب سے زیادہ تباہی ملک کے دیہی علاقوں میں ہوئی ہے۔ دیہاتی علاقوں میں مال مویشی کے سوا غریبوں کا کوئی معاشی سہارا نہیں ہوتا، جو مویشی کسی طرح ڈوبنے سے بچ بھی گئے ہیں ان کو کھلانے کے لیے چارہ بھی دستیاب نہیں رہا۔ بڑے شہروں میں رہنے اور اپنے تئیں حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے والے اس کرب کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس غریب کے سر کی چھت چھن چکی ہو اور معاشی سہارا بھی ہاتھ سے نکل گیا ہو اس کا کیا حال ہو گا؟ جلسوں کی روشنی اور سوشل میڈیا کی چکاچوند سے باہر نکل کر یہ لوگ دیکھیں تو علم ہو کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور نہروں کے کنارے لاکھوں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان کے نیچے موجود ہیں۔

اگرچہ بڑی حد تک ریلیف کا کام شروع ہو چکا ہے مگر اصل مستحقین کو کوئی امداد اب تک نہیں ملی۔ بہت سے علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کے پاس کچھ کھانے کو نہیں۔ چاروں طرف سے گندے پانی میں گھرے لوگوں کو پیاس بجھانے کے لیے پینے کے قابل صاف پانی بھی میسر نہیں اور آلودہ پانی پینے کے سبب وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں۔ ہر دوسرا شخص ملیریا، ڈینگی، پیٹ یا جلد کی بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ خدانخواستہ صورتحال یہی رہی تو بڑی تعداد میں انسانی اموات ہونے کا خدشہ ہے۔

پہلے ہی حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کے لیے اپنے پیاروں کو دفن کرنا مشکل ہے کیونکہ قبرستان تک پانی میں ڈوبے ہیں۔ سندھ کی نوے فیصد فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے ان تمام علاقوں کی معیشت کا دار و مدار زراعت سے حاصل ہوئی آمدن پر ہے۔ سیلاب سے محفوظ بڑے شہروں میں رہنے والے تصور نہیں کر سکتے کہ کاشتکار طبقے کی اس وقت کیا حالت ہے اور وہ کن مصائب میں مبتلا ہے۔ زرعی پیداوار متاثر ہونے سے ان علاقوں میں صرف کسان ہی نہیں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ عوام اسی لیے پانی اترنے کے بعد بھی مستقبل سے متعلق خدشات میں مبتلا ہیں۔ جس وسیع رقبے پر سیلاب کا پانی موجود ہے اور جس رفتار سے سیلابی پانی کے لیے راستہ بنانے کا کام ہو رہا ہے لگتا نہیں دو ماہ میں بھی پانی اتر جائے گا۔ کپاس اور گنے کی فصل نقد آور تصور ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں سارے سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لوگ ان فصلوں کی آمدن پر تکیہ کرتے ہیں۔ پانی میں ڈوبنے سے کپاس کی فصل مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور گنے میں بھی کیڑا لگنا شروع ہو چکا ہے۔

دس پندرہ روز مزید گنے کی فصل ڈوبی رہی تو وہ بھی خراب ہو جائے گی۔ نومبر کے مہینے میں گندم کی بوائی ہوتی ہے۔ اکتوبر تک تک اگر زرعی زمینوں سے پانی مکمل طور پر نہیں نکل سکا تو گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکے گی۔ یعنی جو خوش قسمت سیلاب میں ڈوب کر مرنے سے بچ جائیں گے لا محالہ اگلے سال وہ قحط اور بھوک میں مبتلا ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق حالیہ سیلاب سے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے اور ظاہر ہے یہ ابتدائی تخمینہ ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو گا۔ اتنی بڑی رقم سیاسی استحکام اور عالمی برداری کی اعانت کے بغیر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔ ان حالات میں بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی سر توڑ کوشش میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کا سوشل میڈیا ونگ حسب روایت جھوٹے پراپیگنڈے اور جعلی تصاویر کے ذریعے عالمی امداد رکوانے کے لیے کوشاں ہے۔

عمران خان اور ان کے فالوورز کے دل و دماغ میں کروڑوں تباہ حال لوگوں کے لیے کتنی فکر ہے یہ سب پر عیاں ہو چکا ہے۔ دو صوبوں میں عمران خان صاحب کی حکومت ہے اور آئے روز سرکاری وسائل سے وہ جلسے کر رہے ہیں لیکن سیلاب متاثرین کی داد رسی کے لیے ان کے پاس وقت ہے اور نا ان کی صوبائی حکومتوں کے پاس وسائل۔ سیاسی افراتفری کے اس ماحول میں عالمی سطح پر ہمارا کیا تاثر جائے گا اور کوئی ہماری مدد کے لیے کتنا سنجیدہ ہو گا، یہ عمران خان صاحب کا مسئلہ نہیں۔

ان کی بلا سے سب بھاڑ میں جائے وہ کسی صورت اقتدار میں واپس آ جائیں۔ اس مقصد کی خاطر وہ ان اداروں کو دھمکانے اور بلیک میل کرنے سے بھی باز نہیں آ رہے جو انہیں اقتدار میں لائے اور اب تک ڈھیل دینے میں مصروف ہیں۔ عمران خان سے توقع رکھنا فضول ہے اداروں کو ہی سوچنا چاہیے کہ یہ چند جماعتوں کی حکومت کا نہیں پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی ذہن میں ہونا چاہیے کہ آج عمران خان کی سرکشی برداشت کرلی گئی تو کل کوئی اور چار پانچ ہزار افراد اکٹھے کر کے ریاست کو بلیک میل کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS