جنوبی پنجاب: تم ہنسو گے یہ کمزور سی آواز ہے کیا


تونسہ سے ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک مسائل کے تھپیڑوں کی مار سہتا، جھریوں سے بھرے (یوں کہ ہر جھری درد و الم و مصائب کی داستانیں تہہ در تہہ قید کیے ہوئے ہو) چہرے والا ایک کمزور شخص سیلابی پانی کے جوہڑ سے پانی پی رہا تھا، اسی جوہڑ پر سے کچھ ہی فٹ دور بیٹھا ایک کتا بھی پانی پی رہا تھا۔ یہ مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔

قارئین کرام مسائل اور محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے جس کا ایک چھوٹا سا حصہ اس ویڈیو میں قید ہو کر سامنے آیا۔

جنوبی پنجاب میں مسائل کے جو انبار لگے ہیں ان پر لکھتے لکھتے میری عمر بیت جائے گی مگر ان مسائل کا احاطہ نہیں ہو پائے گا۔ اکثر تو دل میں بغاوت کی چنگاری سلگ اٹھتی ہے اور ان اشعار کے مثل کہ

دل چاہتا ہے،
آج کچھ ایسا لکھوں
لفظوں کی آہیں نکلیں
قلم سے لہو ٹپکے
کاغذ پر درد بکھرے
میری خاموشی ٹوٹے۔

میانوالی، مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان کی قاتل سڑکوں کی نذر ہونے والے ان ہزاروں نوجوانوں کی بے چین روحوں کا نوحہ لکھوں کہ جن کی مائیں، بہنیں اور بیوائیں آج بھی یہ سوال پوچھتی ہیں کہ کب تک ان کے لال، ان کے سہاگ ان سڑکوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟ بچپن میں جب بڑے قصے سنایا کرتے تھے کہ پرانے زمانے میں قحط سالی، نہریں خشک ہونے یا کسی بلا کو ٹالنے کے لیے کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو دلہن بنا کر بھینٹ چڑھایا جاتا تھا، یا پھر کسی کڑیل جوان کے خون کی بلی دی جاتی تھی۔

آج روزانہ کی بنیاد پر اپنے جوانوں کو ان سڑکوں کی بھینٹ چڑھتے ہوئے دیکھ کر یہ یاد آتا ہے کہ وہ کہانیاں تو دراصل ہمارا ہی نوحہ تھیں جنہیں ہمارے بڑے پرانے وقتوں کی کہانیوں کے کرداروں میں بیان کر کے اپنا جی ہلکا کرتے تھے۔

ہمیں طعنہ مارا جاتا ہے کہ چونکہ ہم (جنوبی پنجاب والے ) بجلی چوری کرتے ہیں ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ فرض، ہمیں فراہم کی گئی سروسز میں تاخیر ہم پر واجب ہے۔ ہماری ترجمانی کرنے والا کوئی نہیں وگرنہ تو صرف لاہور میں ہزاروں گلیوں کی نشاندہی کر سکتا کہ جہاں لائن مینوں کو تین سے پانچ ہزار (اے سی، نان اے سی نرخ) کنڈے، یونٹس میں ہیر پھیر کروایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہاں سروسز کا معیار جنوبی پنجاب کے زیرو لائن لاسز والی لائن سے ہزار گنا بہتر ہوتا ہے۔

ابھی پرسوں کا ہی قصہ بیان کر دیتا ہوں کہ دو پہر میں گھر سے نکل کر بازار کی طرف جا رہا تھا تو سکول کی چھٹی کے بعد بچے گھروں کو واپس جا رہے تھے اور ایک دوسرے کو سکول کا احوال سنا رہے تھے کہ آج تو برا حال ہو گیا، ہمارے سکول میں تو سارا دن بجلی ہی نہیں تھی۔ قارئین کرام یہ سکول جنوبی پنجاب کے بدقسمت شہر جام پور کی فیصل کالونی میں واقع تھا۔ جہاں کے ٹرانسفارمر کو ایک معمولی سی تکنیکی خرابی آئی، یہ تکنیکی خرابی دس منٹ میں ٹھیک ہو سکتی تھی، مگر اس کو دور ہونے میں تین دن لگ گئے۔ حالانکہ اس جگہ سے میپکو کا دفتر پیدل پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ یقین مانیں اس چھوٹے سے فالٹ کو ٹھیک کروانے کے لئے میپکو کے چیف سے لے کر ہر بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے ملازم کو منانے کے جتن پر ایک عدد کالم لکھا جاسکتا ہے۔

راجن پور کا شہر فاضل پور ڈوب گیا، ڈوبنے کی وجہ تھا شہر کے غربی حصے میں موجود ریلوے لائن میں پڑنے والا شگاف، اس شگاف سے سیلابی پانی تین دن تک گزرتا رہا مگر بیس منٹ کی مسافت پر واقع ضلعی ہیڈکوارٹر راجن پور اے کوئی مشینری اس شگاف کو پر کرنے کے لئے نہ پہنچی، یوں ڈیڑھ لاکھ کی آبادی بے گھر ہو کر ابھی تک کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ قارئین کر ان زیادہ نہیں بس دو سے تین کرینیں اور دس سے بارہ ٹریکٹر اس شگاف کو پر کر سکتے تھے اور یہ علاقہ دریائے سندھ سے میلوں دور ہے ورنہ تو چلو یہ بہانہ بھی قابل قبول ہوتا کہ دریا میں طغیانی کے سامنے بند نہیں باندھا جاسکتا تھا یا پھر کوئی اور راستہ تھا ہی نہیں۔

کیا ایسی صورتحال، لاہور، گوجرانوالہ یا فیصل آباد کے کسی گاؤں تک کو بھی درپیش ہوتی تو انتظامیہ کا یہی ردعمل ہوتا؟ کیا میڈیا ایسے مجرمانہ حد تک خاموش ہوتا؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا، ہمارے تو ڈوبنے کے ہفتوں بعد میڈیا کو خیال آیا۔ وگرنہ سب جے تو اعصاب پر شہباز گل سوار تھا۔ ابھی بھی ان علاقوں میں حالات یہ ہیں کہ مچھروں کی بھرمار ہے، وبائی امراض نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، سبزیاں، آٹا من و سلوی بن چکا ہے۔ سوئی گیس تو یہاں ہے نہیں، ایل پی جی یہاں سونے کے بھاؤ مل رہی ہے۔

اب یہ سوچیں کہ چاروں طرف پانی سے گھرا متاثرہ شخص یا اس سے ملحقہ آبادی چولہا جلائے تو کیسے جلائے؟ لکڑیاں تو گیلی جگہ پر جل نہیں سکتیں، مگر اس ساری صورتحال میں انتظامیہ کا تو نام و نشان ہی نہیں پایا جاتا کہ ان سب مسائل کو ریگولیٹ کرے۔

لاہور بیٹھے ہوئے سیلابی صورتحال کی جو ویڈیوز اور حالات سامنے آئے اس میں کئی دفعہ دل میں اس سارے سسٹم سے بغاوت کرنے اور اپنا حق چھین کر لینے کے خیالات آئے۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کچھ نہ کر پانے کی بے بسی ہی تو ہوگی کہ جس میں کئی بغاوتوں نے جن لیا۔ میں تو بزدل ہوں شاید میں حق چھیننے کے لئے ہتھیار تو نہ اٹھا پاؤں مگر میں اپنی کمزور آواز میں مصائب و الم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہوں جو اٹھاتا رہوں گا۔ مولانا عامر عثمانی کی نظم بغاوت وسیب کے نوجوانوں کے لئے پیش کیے دیتا ہوں

آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے

آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے

جبر و سفاکی و طغیانی کا باغی ہوں میں
نشۂ قوت انسان کا باغی ہوں میں

جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون
ظلم و عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون

تشنگی نفس کے جذبوں کی بجھانے کے لئے
نوع انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون

ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے
ان سے ہر سانس میں تحریک بغاوت ہے مجھے

تم ہنسو گے کہ یہ کمزور سی آواز ہے کیا
جھنجھنایا ہوا، تھرایا ہوا ساز ہے کیا

جن اسیروں کے لیے وقف ہیں سونے کے قفس
ان میں موجود ابھی خواہش پرواز ہے کیا

آہ! تم فطرت انسان کے ہمراز نہیں
میری آواز، یہ تنہا میری آواز نہیں

انگنت روحوں کی فریاد ہے شامل اس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اس میں

تہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اس میں

اسکی یلغار میری ذات پے موقوف نہیں
اسکی گردش میرے دن رات پے موقوف نہیں

ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار رسوا سر بازار تو کر سکتے ہو

اپنی قہار خدائی کی نمائش کے لئے
مجھے نذر رسن و دار تو کر سکتے ہو

تم ہی تم قادر مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسم انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں

آہ یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے

ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے

سخت دشوار ہے انسان کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پے مکمل ہونا

Facebook Comments HS