ملکہ الزبتھ۔ کیا تیرا بگڑتا جو نہ ’مرتی‘ کوئی دن اور


ملکہ الزبتھ کیا فوت ہوئیں، برطانیہ میں گویا بھونچال آ گیا۔ چلو انگریزوں کی تو ملکہ تھی، وہ سوگ منائیں تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن ہم جیسے غریب ملک کیوں ملکہ کی وفات پر ہلکان ہوئے جا رہے ہیں! اور انگریزوں نے بھی حد ہی کردی ہے، ملک میں دس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، اس دوران یونین جیک سر نگوں رہے گا، پورے ملک میں توپوں کی سلامی دی جائے گی، گھنٹیاں بجائی جائیں گی اور دنیا بھر میں عوام کے لیے تعزیتی کتب رکھی جائیں گی جن میں وہ ملکہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کریں گے۔ میں نے ایسی کوئی تعزیتی کتاب پاکستان میں تو نہیں دیکھی، شاید برطانوی سفارت خانے میں ہو لیکن وہاں تک میری رسائی نہیں، اگر مجھے موقع ملتا تو میں اس میں لکھتا کہ ملکہ معظمہ کی ناگہانی وفات پر بے حد افسوس ہے، ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی، فقط زندگی کی 96 بہاریں ہی تو دیکھی تھیں، پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے، حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے، وغیرہ وغیرہ۔

بی بی سی نے بھی ملکہ کی وفات پر جس طرح کی کوریج کی ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا ملکہ کے دم سے ہی چل رہی تھی اور اب ملکہ معظمہ وفات پا گئی ہیں تو وقت گویا تھم گیا ہے۔ ذرا بی بی سی کی خبروں کے عنوانات ملاحظہ فرمائیں۔ ’ملکہ الزبتھ دوم کی موت، وہ لمحہ جب تاریخ رک گئی۔ وہ انڈیا کی مہارانی نہیں تھیں مگر انڈیا میں کروڑوں لوگوں کی ملکہ تھیں۔ وہ لمحات جب ہمیں ملکہ الزبتھ کی حس مزاح دیکھنے کو ملی۔ ملکہ کے غم نے دونوں بھائیوں، ولیم اور ہیری کو متحد کر دیا۔ ملکہ الزبتھ، بالمورل سے آخری سفر کا آغاز، میت کے احترام میں عوام سڑکوں پر۔ ملکہ الزبتھ، فرض کے احساس پر مبنی ایک طویل زندگی کا نام۔ ملکہ کے کورگی کتے، انہوں نے ملکہ کا دل کیسے جیتا۔ گھوڑوں اور گھڑ دوڑ سے لگاؤ رکھنے والی ملکہ الزبتھ۔‘ یہ فقط چند سرخیاں ہیں، مکمل کوریج اس سے کہیں زیادہ ہے۔

باقی دنیا بھی ماتم کرنے میں پیچھے نہیں رہی، واشنگٹن میں امریکی پرچم سر نگوں کی گیا، پیرس میں ملکہ کی یاد میں آدھی رات کو ایفل ٹاور کی روشنیاں گل کر دی گئیں، برازیل، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک نے ملکہ کی وفات کا غم منایا اور تو اور پاکستان نے بھی ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ملکہ کی وفات پر اس قدر ’سرکاری غم‘ کیوں منایا جا رہا ہے، شاید دولت مشترکہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے بعض ممالک کے لیے ملکہ کی موت کا ماتم کرنا ضروری ہو!

ملکہ معظمہ 70 برس تک برطانیہ کی حکمران رہیں، 15 برطانوی وزرائے اعظم انہوں نے بھگتائے، کروڑوں پاؤنڈ کی جائیداد کی مالک تھیں، ایک ایسی زندگی انہوں نے گزاری جو شاید کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا، اب کیا موت کا فرشتہ ان کی روح محض اس لیے قبض نہ کرتا کہ وہ برطانیہ کی ملکہ تھیں؟ چند دہائیوں پہلے تک ہمارے ہاں دیہات میں یہ رواج تھا (شاید اب بھی کہیں ہو) کہ جب کوئی شخص اس طرح کی طویل اور خوشحال زندگی گزار کر فوت ہوتا تھا تو اس کے مرنے پر خوشی منائی جاتی تھی کہ بندہ اپنے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کی خوشیاں دیکھ کر مرا ہے۔ اصولاً بکنگھم پیلس کو خوشی کے شادیانے بجانے چاہئیں کہ ان کی ملکہ ایک بھرپور زندگی گزار کر فوت ہوئیں مگر شاہی خاندان کو دیکھ کر تو یوں لگ رہا ہے جیسے وہ ملکہ کی میت سے چمٹ کر بین کریں گے اور شہزادہ چارلس یوں دہائی دے گا کہ ’کیوں اتنی جلدی چھوڑ کر چلی گئیں اماں، اب ہم تمہارے بغیر کیسے رہیں گے، میں ہیری اور ولیم کو کیا بتاؤں گا کہ تمہاری دادی کہاں ہیں! ‘ ویسے میرا شہنشاہ چارلس کو مشورہ ہے کہ اپنی والدہ کی قبر کے لیے سنگ مر مر کا کتبہ میانی صاحب سے بنوائیں اور اس پر لکھوائیں : ’آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے، سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔ ‘

ملکہ برطانیہ کی وفات پر سب سے دلچسپ ٹویٹ جو میری نظر سے گزری وہ کراچی کے ایک نجی اسکول سے متعلق تھی جس میں اسکول کے لڑکے لڑکیاں سیاہ رنگ کا ماتمی لباس پہن کر ملکہ کی موت کا غم مناتے ہوئے نظر آئے۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا لیکن پھر میں نے غور سے ان تصاویر کو دیکھا تو مجھے پس منظر میں ملکہ کی تصویر بھی نظر آئی جس کے سامنے یہ تمام بچے سوگوار انداز میں یوں کھڑے تھے جیسے ملکہ معظمہ نہیں بلکہ ان کی پھوپھی فوت ہوئی ہو۔ نہ جانے یہ کس جینئس کے ذہن کی اختراع تھی کہ اسکول کے بچوں کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر ماتمی لباس پہنا کر باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا جائے! خیر، بندہ نجی شعبے کو کیا الزام دے، یہاں تو سرکاری سطح پر بھی ملکہ برطانیہ کی موت کا سوگ منایا گیا ہے۔

بندہ پوچھے بھلا ملکہ نے پاکستان کے لیے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا یا ہماری ملکہ سے کون سی ایسی دلی وابستگی تھی کہ ہم ان کی موت پر یوں سوگ کا اعلان کریں؟ ملکہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ تھیں، وہ برطانیہ جس نے ہندوستان پر حکومت کی۔ کیا ملکہ نے برطانیہ کو متحدہ ہندوستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کا حکم دیا تھا، کیا انہوں نے کبھی اس بات پر تاسف کا اظہار کیا تھا کہ تاج برطانیہ کے دور میں بنگال میں قحط سے لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، کیا ملکہ معظمہ کو جلیاں والا باغ میں ہونے والے قتل عام پر معافی مانگنے کی توفیق ہوئی تھی، کیا ملکہ کو اس بات کا علم تھا کہ برطانوی فوج نے ہندوستان پر حکمرانی کرتے ہوئے گوجرانوالہ شہر پر بمباری بھی کی تھی جس میں بے گناہ شہری مارے گئے تھے، کیا ملکہ کو اندازہ تھا کہ جس سلطنت کا تاج وہ سر پر سجائے پھرتی تھیں اس سلطنت نے کس طرح مختلف ممالک پر قبضہ کر کے ان ملکوں کے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور انہیں بد ترین نسل پرستی کا نشانہ بنایا؟

سوالات کی یہ فہرست طویل بھی ہو سکتی ہے مگر ہم شاہی خاندان کے احترام میں فقط یہیں تک رہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس یہ ہمت کریں گے کہ وہ تاج برطانیہ کے دور میں ہندوستان پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کے ازالے کے لیے برطانوی حکومت پر زور ڈالیں۔ ویسے یہ میری خوش فہمی ہے، ایسا کچھ نہیں ہو گا، وہ برطانیہ کے شہنشاہ ہیں کوئی پرولتاری انقلابی نہیں!

(یہ کالم آج 15 ستمبر 2022 کو Independent Urdu میں شائع ہوا)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 359 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments