’بات معیشت سے شروع ہوگی اور انتخابات تک جائے گی‘


پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 2013 ء کے انتخابات کے وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ نگران حکومت کے زمانے میں کی گئی تعیناتیاں، بھرتیاں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے بارے میں فیصلہ کیا جائے، یعنی وہ کیا اور کتنے اہم فیصلے کر سکتی ہے اور اس کے اختیارات میں کیا کچھ موجود ہے۔

2013 ء کی 30 نمبر آئینی پٹیشن کو 3 رکنی فاضل بینچ نے سنا اور فیصلہ کیا تھا۔ یہ بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جناب جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس گلزار احمد جو بعد میں چیف جسٹس بھی بنے، پر مشتمل تھا۔

Const.P.30of2013 by Fahim Patel on Scribd

اس فیصلے کے صفحہ نمبر 41 پر تحریر ہے کہ نگران کابینہ اور وزیراعظم کی تعیناتی آئین کی دفعہ 224 ( 1 ) اور ( 2 ) یا 244 اے کے تحت ہوتی ہے، اور یہ حکومت صرف معمول کے ضروری امور کے حل کا اختیار رکھتی ہے۔ مزید وضاحت یوں کی گئی کہ وہ ریاستی مشینری، ذرائع، افرادی قوت، وسائل استعمال کر سکتی ہے اور قدرتی آفات کے آنے، جنگ کے شروع ہونے پر ناگہانی آفت کے وقوع پذیر ہونے یا دہشتگردی کے خلاف اقدامات کرنے کی مجاز ہوگی تاہم بڑے پالیسی فیصلے، ملازمتوں کے دینے، افسران کی تبدیلی وہ نہیں کرسکے گی اور ایسے تمام بڑے فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل آنے والی حکومت ہی کرے گی۔

فیصلے کے مطابق دستوری دفعات کے تحت ریاست اور اس کے معاملات عوام کے منتخب نمائندے ہی چلاتے ہیں اور چونکہ نگران حکومت کے پاس نہ تو عوام کا مینڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے اس لیے وہ مستقل پالیسی یا ایسی پالیسی اور فیصلہ کرنے سے اپنے آپ کو دور ہی رکھے جن کے نتائج دور رس ہوں اور مستقبل پر اثرانداز ہو سکیں۔

اس حوالے سے ایک فیصلہ بھی یاد آ گیا۔ لیفٹننٹ جرنل سید واجد حسین کو چیئرمین ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا لگانے کا فیصلہ ہوا تھا، مگر عملدرآمد روک دیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ انہیں تعینات کرنے کا فیصلہ تو منتخب حکومت نے ہی کیا تھا، مگر نوٹیفکیشن نگران حکومت نے جاری کیا تھا۔

فیصلے میں لیفٹننٹ جنرل واجد حسین سے متعلق معاملہ

اس فیصلے میں نئی ملازمتیں دینے، پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر بھی ان کے غیرقانونی ہونے بلکہ نہ ہی ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہوئی تھی۔

یہ بات تو سامنے آ چکی ہے کہ حکومت عمران خان کی ناکامیوں اور غیر موثر حکومتی فیصلوں کا بوجھ اٹھا کر خود کو غیر مقبول کرچکی ہے اور کیا یہ اس لیے کیا کہ وہ عمران خان کا اقتدار طویل کریں اور خود جیلوں میں بند رہیں، یقیناً نہیں۔

پھر عمران خان اپوزیشن کو جس دیوار کے ساتھ لگا چکے تھے خود اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہتے اور خود کو ’خطرناک‘ قرار دے رہے ہیں۔ لغت کے مطابق خطرناک کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ’خوفناک، ڈراؤنا، جس سے نقصان کا ڈر ہو‘ ۔ اب ایسا کون ہے جو کسی خطرناک کو یہ موقع دے کہ وہ خطرناک بن کر نقصان پہنچائے۔

یہ بات بھی یقین کی حد تک کہی جا رہی ہے کہ جب عمران خان کو یہ باور کروایا گیا کہ ان کو خطرناک نہ بننے دیا جائے گا اور ایسا کرنے کے طریقے آزمودہ ہیں تو ان کو یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی، نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی مؤخر کرنے، مذاکرات کرنے، تعاون کرنے وغیرہ کے الفاظ میں اپنی پناہ گاہ کو ڈھونڈ لیا۔

اب فوری انتخابات کی بات، انتخابات کی تاریخ پر آ گئی ہے۔ سیاسی رہنما اپنی فیس سیونگ تو چاہتے ہیں مگر خان صاحب کیونکر قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے انتخابات مرحلہ وار کروانے کو پسند نہیں کر رہے ہیں؟

انہیں چاہیے کہ تمام ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ اسپیکر کی موجودگی میں ایک ایک کر کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں استعفیٰ کا اعلان کریں۔ اسی روز چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی توڑنے کا اعلان کریں اور ساتھ ہی پختونخوا کی حکومت اور اسمبلی کو بھی مستعفی ہونے دیں، اگر ایسا ہو جائے تو بھلا کون انتخابات کو روک سکے گا اور اگر بقول صدر مملکت کے ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر کچھ بات ہو سکتی ہے تو پھر آئین سے ماورا ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟

شہباز شریف اپنے ساتھیوں سمیت دیوار کے ساتھ کیوں لگنے کو تیار ہوں گے؟ وزیراعظم کا بھائی ملک میں آنے کے لیے بے قرار ہے مگر آ نہیں رہا آخر کوئی تو وجہ ہوگی اور کسی نے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں اور حلیفوں کو دیوار کے ساتھ لگایا تو کیا مزاج یونہی رہے گا یا عمران خان اور نواز شریف ماضی کی تقریروں کی طرف لوٹ جائیں گے؟

ہمارے کچھ دانشور دوست کمانڈر ان چیف یحییٰ خان کے بعد گل حسن کے کمانڈر ان چیف بننے کے واقعات کی کڑیاں ملاتے ہوئے عبد الحمید خان کا ذکر بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ مگر وہ بھول رہے ہیں کہ نہ تو آج 1971 ء کا دسمبر ہے اور نہ ہی کوئی سازش کامیاب ہوگی۔

پاکستان میں نہ اب مکتی باہنی گھس سکتی ہے اور نہ کوئی تین حصے کرنے کی جرات رکھتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے تو کیا کرنے والا بری الذمہ ہو گا۔ آج کا کیا اور بویا ہوا کل سامنے ہو گا۔ نفرت کے بیج بو کر محبت کے پھول حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

درست ہے کہ معاشی صورتحال ابتر ہے اس کو درست کرنے، فیس سیونگ اور وقت حاصل کرنے کے لیے معاشی معاملات پر یکسوئی کے ساتھ اور باہمی اتفاق کے ساتھ کام کر کے مشکلات کو کم کیا جا سکے گا اور مذاکرات کی میز پر معیشت کی بات ہو تو سیاست اور انتخابات کی بات از خود آ جائے گی۔ مگر شرط باندھ کر، ڈرا کر، دھمکی دے کر، خوف اور بدامنی کی بات کر کے مذاکرات شروع نہیں ہو سکیں گے۔

ماحول سازگار کرنا پڑے گا اور افتخار چوہدری اور دوسرے 2 ججوں کا 2013 ء میں کیا گیا فیصلہ ضرور پڑھ لیں، پھر یوٹرن کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اور اس مقدمے کا درخواست گزار تو آپ کی ٹیم کے ساتھ ملنے کو بھی تیار ہو سکتا ہے، آخر وہ ایک سیاسی گھرانے کا فرزند ہے اور قوم کا اس پر حق بھی ہے۔

پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ خوشحال ہوں، عزت دار ہو، مقروض نہ ہوں، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوں۔ سیاسی صورتحال کے نتیجے میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک جاکر دوسرے ملکوں کی خوشحالی کے کام کر رہے ہیں، یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے اور اس کے ذمہ دار اس ملک کے حکمران اور اشرافیہ ہی تو ہیں۔
بشکریہ ڈان اردو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عظیم چوہدری

عظیم چوہدری پچھلے بیالیس سالوں سے صحافت اور سیاست میں بیک وقت مصروف عمل ہیں ان سے رابطہ ma.chaudhary@hotmail.com پر کیا جاسکتا ہے

azeem-chaudhary has 18 posts and counting.See all posts by azeem-chaudhary

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments