اس مرتبہ آزاد امیدواروں کی منزل کیا ہوگی؟

یہ بات 1992 ء کے دوران یا بعد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس ٹیم کی جیت کے لیے پورے ملک نے ساری ساری رات دعائیں مانگی تھیں اس کامیاب ٹیم کا کپتان ہیرو سے ملزم اور پھر مجرم بن کر دس اور چودہ برس کی قید کاٹے گا۔ یہ تو درست ہے کہ اکثر مجرم اپنے جرم کا اعتراف ہی نہیں کرتے مگر جو شخص انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے، احتساب کرنے، مجرموں

Read more

’چیف جسٹس جس طرح خود انصاف کے متلاشی تھے اسی طرح عوام کے حقوق اور انصاف کے لیے کردار ادا کریں‘

ہم 25 کروڑ پاکستانی مقروض، معاشی بے حالی کا شکار، خودمختار ہونے کے باوجود اقتصادی طور پر محتاج، معاشی قید میں ابتلا کی زندگی گزارنے والے مزاروں پر جاکر رقص کر کے اس کو مذہبی رسومات کا درجہ دینے والے ضعیف الاعتقاد، دھاگوں پر گرہ لگا کر منت مانگ کر تصور کرتے ہیں کہ ہماری مراد پوری ہو جائے، کبھی ہوجاتی ہے اور اکثر نہیں۔ لیکن امید لگانے کو دل چاہتا ہے، امید ہی تو ہوتی جو زندگی کی رمق کو برقرار رکھتی ہے۔

جب آس ٹوٹ جائے تو مایوسی اور غیر یقینی کیفیت کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ ہمت والے پھر کمر کس لیتے ہیں، بے صبری کا شکار مزید مایوس ہو کر خودکشی کا سہارا لیتے ہیں، اگر ایسا ہو تو پھر بغاوت خواہ کسی بھی سطح پر ہو، اس کو اپنا نصیب اور نصب العین تصور کرلیتے ہیں۔

Read more

کیا عمران خان کی سیاست ختم ہو رہی ہے؟

سابق رکن قومی اسمبلی محمد اصغر خان نوانی 1970 ء کی دہائی میں ایس پی اچھرہ، لاہور ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے سخت گیر رویے کی وجہ سے ہلاکو خان کہلاتے تھے۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگی کے چند واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت سی قدر آور شخصیات کو اپنی ملازمت کے دوران گرفتار کیا لیکن جس شخص نے تقویٰ اور سادگی و علمیت سے مجھے متاثر کیا وہ جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد

Read more

’پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اور ارکان اس بات پر کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں‘

’کیا پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات کبھی ایسے بھی ہوں گے کہ معاملات پر گہری تشویش نہ ہو اور ملک نازک حالات سے باہر نکل سکے‘ ؟ یہ سوال واشنگٹن پوسٹ کی خاتون صحافی پامیلا کانسٹیبل نے مجھ سے 1997 ء میں پہلی ملاقات میں پوچھا تھا۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ جس دن تمہارا ملک ہمیں ہماری راہ پر چلنے دے گا یہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ پامیلا کانسٹیبل نے مسکرا کر مجھے کہا

Read more

آٹھ اکتوبر کے انتخابات: ’اکتوبر تک ملک میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی‘

ہمارے ملکی دستور کے مطابق الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ انتخابات کا انتظام کرے اور اسے منعقد کروائے اور ایسے انتظامات کرے جو اس امر کے اطمینان کے لیے ضروری ہوں کہ انتخابات ایمانداری، حق اور انصاف کے ساتھ قانون کے مطابق منعقد ہوں اور یہ کہ بد عنوانیوں کا سدباب ہو سکے۔ الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ 30 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات قانون اور آئین کے تحت بوجوہ کروانے

Read more

قرارداد لاہور 1940 ء: کیا ہمارے مقاصد تبدیل ہو گئے؟

25 فروری 1940 ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں قائدِاعظم محمد علی جناح نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ’لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مسلم لیگ کا مطمح نظر کیا ہے‘ ۔ قائد نے فرمایا ’اگر آپ کو معلوم نہیں تو سن لیجیے۔ معاملہ بالکل صاف ہے۔ برطانیہ بھارت پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور مسٹر گاندھی اور کانگریس ہندوستان اور مسلمانوں دونوں پر حکومت کے خواہاں ہیں جبکہ ہمارا

Read more

آنے کی باتیں جانے دو

زمینی فرشتوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ چونکہ وہ خود ساختہ فرشتے ہیں اس لیے انسانوں اور ان میں سے جھوٹوں، چوروں، لٹیروں کے ساتھ صرف اقتدار کی جنگ کریں گے۔ ان کے ساتھ سلام دعا نہ لیں گے کہ کہیں نجس نہ ہو جائیں۔ اقتدار کی جنگ کے لیے چونکہ کوئی مذاکرات، مشاورت تو دور کی بات سلام دعا بھی نہ ہوگی اس لیے گلی گلی، کوچہ کوچہ، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں، شہر شہر ان کے بارے

Read more

پرویز الٰہی کی سیاست

ہمارے ملک کی سیاست میں کوئی اس بات سے واقف نہ تھا کہ 1957 ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ گجرات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والا ایک رکن پاکستان کی قومی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے گا اور اس کا خاندان ملک پر حکمرانی بھی کرے گا۔ امر تسر میں تین کھڈیوں کے مالک دو بھائی اس قدر باوسائل ہوں گے کہ ایک سیاست میں بھرپور کر دار ادا کرے گا اور دوسرا کاروبار پر تمام توجہ مرکوز کیے رکھے گا۔

Read more

کیا پرویز مشرف کو بھی سازش کا شکار بنایا گیا؟

مرحوم صدر جنرل پرویز مشرف کے ڈکٹیٹر ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔ میرے نزدیک بظاہر جمہوری حکومتوں میں بھی ڈکٹیٹر شپ موجود ہوتی ہے۔ ایک عام شہری کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ ایوانِ اقتدار میں کام کیسے ہوتا ہے؟ اس کے نزدیک تو باعزت روزگار، عزتِ نفس اور امن وامان کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ ہماری روایات میں فوت ہونے والے شخص کے بارے میں منفی بات بالعموم نہیں کی جاتی اور پھر اقتدار کی

Read more

ایک بار پھر سمجھ لیں کہ ’کوڈی کوڈی‘ میدان میں ہی ہوتی ہے

پنجاب کا روایتی کھیل کبڈی داؤ پیچ اور اچھے استاد سے سیکھے ہوئے داؤ کا ہی کھیل ہے۔ دنیا کے جس حصے میں بھی خالص پنجابی پائے جائیں وہاں اس کھیل، اس کے کھلاڑیوں اور استادوں کا ذکر خوب ہوا کرتا ہے۔ دو پنجابی تو اس کو خوب سمجھ کر لڑ لیتے ہیں مگر پنجابی اور پشتون اگر ایک ٹیم بن کر اس کو کھیلنا چاہیں تو جیت کس کی ہوگی بہت واضح ہے۔ پھر اگر میدان کی مٹی ہی

Read more

ساری سیاست کا دارو مدار معیشت پر ہے

ہماری تاریخ میں ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ حکومتی اداروں، محکمہ جات، صوبائی حکومتوں غرض ہر ضرورت مند کو قرض کے حصول کے لیے 2 بینکوں یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا نیشنل بینک آف پاکستان یا ان میں سے کسی ایک بینک سے ضمانت دینی ہوتی تھی کہ رقم ڈوبے گی نہیں، وقت پر ادائیگی ہوگی اور شرائط پوری نہ ہوئیں تو رقم لوٹانے کے ہم ذمہ دار ہوں گے۔ قرض دینے والے انتظار کیا کرتے تھے، ویسے

Read more

’ 23 دسمبر تک ہر روز کئی سیاسی شو دیکھنے کو ملیں گے‘

کسی بھی نیم جمہوری، ترقی پذیر، مقروض اور وہ بھی حد سے زیادہ مقروض، غیر مستحکم اداروں پر بھروسا کر کے ترقی کرنے، جمہوریت، خوشحالی اور محفوظ دفاع کا خواب دیکھنے والے ملک کی ’تھالی میں پارے‘ جیسی سیاست پر رائے دینا اور تجزیہ کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔ پھر اگر سیاستدانوں کی کثیر تعداد دور بینی کی فطری صلاحیت سے بھی عاری ہو اور اس کو صرف اپنے اقتدار کے حصول کی فکر لاحق ہو اور وہ اس

Read more

انتخابات وقت پر ہی کیوں ہوں گے؟

گزشتہ ہفتہ عشرہ سے ہر سو یہی تذکرہ ہے کہ عمران خان ملک میں جلد انتخابات کے انعقاد کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑ دیں گے اور یہ کسی بھی وقت ممکن ہے۔

گویا یہ منتخب اسمبلیاں نہیں بلکہ چکوال کی بنی ہوئی ریوڑیاں ہیں جو نہایت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہیں اور ان پر ہاتھ روکنا شوگر کے مریض کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ایسی نہیں کہ نئی روایات رقم کی جائیں یا نئی محاذ آرائی کے لیے کمر کس لی جائے۔ سنجیدہ حلقوں کے لیے یہ سوچ بچگانہ انداز فکر کے طور پر لی گئی ہے اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ ملک کی معاشی نمو اور خزانے کے علاوہ تجارتی خسارے پر کنٹرول نہ ہونا بھی شامل ہے۔

Read more

نئے سپہ سالار کی آمد: ’چین و امریکا سے پہلے پاکستان کو اہمیت دی جائے گی‘

سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کارکنوں اور بہت ہی بڑی تعداد میں عام شہریوں کے لیے کل کا دن ایک خوشگوار اور غیر ہیجانی دن بن کر گزرا۔ سازشی ذہن بہت آزمودہ طریقہ اختیار کرتے رہے مگر جوں جوں دن بڑھتا گیا ایسے عوامل کو مایوسی ہوتی رہی۔ کئی مہینوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی دم بھر سانس لیا اور یک دم سیاسی درجہ حرارت نہ صرف کم ہوا بلکہ نارمل ہو گیا۔ یاروں کا خیال تھا کہ کچھ

Read more

کیا صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟

پاکستان میں دھرنوں کی سیاست کا آغاز محترم قاضی حسین احمد صاحب نے کیا تھا۔ قاضی صاحب کے اس اقدام نے ان کی انتخابی سیاست پر کوئی اثر مرتب نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی حکومت کو اکیلے گرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کی حکمت عملی مربوط اور منفرد تھی، مگر نتائج کے اعتبار سے کامیابی سے دور رہی۔

ان کی جماعت کے نقش قدم پر چلنے کی روش عمران خان نے بھی اختیار کی۔ 2014 ء میں تمام تر عوامل کے ہوتے ہوئے بھی عمران خان حکومت کو گرانے اور نئے انتخابات کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور طاہر القادری کی جماعت بھی کام نہ آئی۔

Read more

اقتدار کی آگ میں کون بھسم ہو گا؟

ایک اچھے سیاستدان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ہمارے پاس قائداعظم سے بہتر کوئی مثال ہی نہیں اور ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے کہ بہت سی مثالیں دی جا سکیں۔ ہمارے ملک میں وزیراعظم بننے کے لیے اچھا سیاستدان ہونا ضروری نہیں۔ معین قریشی، شوکت عزیز، محمد علی بوگرہ سمیت کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک ایسا نوجوان جو 20 برس کی عمر میں مقبول ہو گیا ہو اور مزید کم از کم

Read more

ضمنی انتخابات کے باوجود بھی حکومت کو کوئی خطرہ کیوں نہیں؟

اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ عمران خان اور ان کی جماعت ضمنی انتخابات میں جیت چکے ہیں، اور یہ گمان کسی کو بھی نہیں تھا کہ صورتحال اس سے مختلف ہوگی۔ ان 8 حلقوں میں تقریباً 28 لاکھ ووٹ رجسٹرڈ ہیں اور تقریباً 23 لاکھ افراد نے ان انتخابات اور امیدواروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے اپنی عملی یا خاموشی کی زبان سے حکومت

Read more

حکومت کرنے والی درجن بھر جماعتیں ووٹ اور نمائندگی سے منہ کیوں موڑ رہی ہیں؟

میاں نواز شریف اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد لاہور جانے سے قبل اپنے رفقا اور دوستوں سے سیاسی لائحہ عمل کے لیے طویل مشاورتی مجالس کرتے رہے۔ جس طرح ہر مسئلے کے حل کے لیے اختلافی آرا آیا کرتی ہیں ان کے سامنے بھی پیش کی جا رہی تھیں۔ ان میں 2 نکات ایسے تھے جن پر خوب گفتگو ہوئی، ایک تھا ’مجھے کیوں نکالا‘ اور دوسرا تھا ’ووٹ کو عزت دو‘ ۔ فی الحال تو ان کی سیاسی

Read more

مشترکہ ایوان سے خطاب: صدر مملکت چاہیں تو تاریخ میں گم ہوجائیں یا سمت دکھانے والے ہیرو!

صدر عارف علوی کل ملکی تاریخ میں دوسرے صدر مملکت بننے جا رہے ہیں جو مسلسل 5 مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس سے پہلے یہ کارنامہ آصف علی زرداری نے انجام دیا تھا جو بغیر کسی رکاوٹ، شور شرابا، نعرے بازی کے خطاب کرتے رہے۔ غلام اسحٰق خان کو شور شرابا، نعرے بازی اور گو بابا گو کے نعروں کی گونج 1990 ء میں پہلی دفعہ سننے کو ملی تھی۔ یہ نعرہ محترمہ بے نظیر

Read more

جماعت اسلامی اور قومی فریضہ

ہماری سیاسی تاریخ کی اس حقیقت سے بہت ہی کم افراد واقف ہیں کہ جب گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی جو کہ دستور ساز اسمبلی تھی، کو توڑا تو ملک میں محمد علی بوگرہ کی حکومت تھی۔ اس اسمبلی کو توڑنے کی وجوہات میں قرارداد مقاصد کو دستور میں شامل کر نا بھی ایک وجہ تھی۔ قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد دستور کے لئے بنیادی اصول مرتب کر نے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس

Read more

ہم تعلیمی اداروں کو ناصر باغ نہ بنائیں تو بہتر ہے

ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کسی قدر بھی قابل تعریف نہیں اور نہ ہی ملک کا کوئی بھی ذی شعور شہری فیصلوں میں تاخیر اور بہت سی دوسری وجوہات کے علاوہ عدالتوں سے ہونے والے سیاسی فیصلوں کے باعث ہمارے عدالتی نظام پر اطمینان کا اظہار کرنے کو تیار ہے۔ ہمارے معاشی معاملات تو ہمیں من حیث القوم بھکاری بنا چکے ہیں اور ہماری اشرافیہ اور حکمران طبقے کی وجہ سے بھیک مانگنے کا یہ وتیرہ عوام میں بھی سرایت

Read more

اگر مفتاح جا رہے ہیں تو آ کون رہا ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل 26 اکتوبر کو بطور وزیر خزانہ اپنا منصب چھوڑدیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے بہت تنقید اور بحث و مباحثہ کا سامنا کیا۔ انہوں نے اس پورے عرصے میں جہاں آئی ایم ایف سے تلخ و ترش سنی وہاں کہا بھی بہت کچھ۔ آئی ایم ایف نے مفتاح کے ساتھ وہ سب کچھ کیا اور وہ سب کچھ سنایا جو نہایت عرض مند مقروض کو مزید

Read more

’بات معیشت سے شروع ہوگی اور انتخابات تک جائے گی‘

پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 2013 ء کے انتخابات کے وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ نگران حکومت کے زمانے میں کی گئی تعیناتیاں، بھرتیاں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے بارے میں فیصلہ کیا جائے، یعنی وہ کیا اور کتنے اہم فیصلے کر سکتی ہے اور اس کے اختیارات میں کیا کچھ موجود ہے۔ 2013 ء کی 30 نمبر آئینی پٹیشن کو 3 رکنی

Read more

عمران خان کے جنرل باجوہ سے رابطے

اس سال اپریل کے دور ان ملک میں جو بھی سیاسی سرگرمیاں ہوئیں ان کے بارے میں تو فروری کے وسط سے ہی اطلاعات موصول ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ حکومت تو تبدیل ہو گئی مگر اس جدوجہد کے دوران ہونے والے غیر آئینی اقدامات کے بارے میں کچھ نہ کہا گیا۔ سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیراعظم اور حد تو یہ کہ ریاست کے سربراہ صدر مملکت بھی اس میں شریک رہے۔ عدالت عظمیٰ کو بھی اس بارے میں فیصلہ دینا

Read more

معاملہ محب وطن آرمی چیف کا: آئین اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟

ہمارے ملکی دستور کی دفعہ 243 کے تحت وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول ہوتا ہے، مزید برآں قبل الذکر کی عمومیت پر اثر انداز ہوئے بغیر مسلح افواج کی اعلیٰ کمان صدر کے ہاتھ میں ہوگی۔ صدر کو قانون کے تابع یہ اختیار ہو گا کہ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج اور مذکورہ افواج کے محفوظ رشتے قائم اور ان کی دیکھ بھال کرے گا اور مذکورہ افواج میں کمیشن عطا کرے گا

Read more

خان صاحب کی معافی قبول ہوگی یا معاملہ نا اہلی کی طرف جا رہا ہے؟

عمران خان کی مقبولیت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو لیکن ان کے دور اقتدار میں ایک وقت وہ بھی آ گیا تھا جب ان کی شہرت اس قدر کم ہو چکی تھی کہ ارکان اسمبلی نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے روابط استوار کرنا شروع کردیے تھے اور خود تحریک انصاف کے وزرا اور ذمہ دار یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کے اقتدار کو مکمل ہونے دیا جاتا تو بڑی تعداد پارٹی ٹکٹ لینے سے انکار

Read more

کیا کپتان بند گلی میں چلے گئے؟

پاکستان مسلم لیگ اگر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد انتشار اور اندرونی سازشوں کا شکار نہ ہوتی تو پاکستان میں خوشحالی، استحکام اور پائیدار جمہوریت اتنی اچھی طرح قائم ہو چکی ہوتی کہ ملک کبھی مارشل لا اور بیوروکریسی کی گرفت میں نہ آتا۔ نا اہل اور اپنی ذات کے مرکز کے گرد گھومنے والے سیاستدانوں نے پرفارم نہ کر کے سیاست بیوروکریسی کے حوالے کردی اور ان کے اشاروں پر نہ صرف ان کا دفاع کرتے رہے

Read more

صاف چلی شفاف چلی کے پاؤں جل گئے

’صاف چلی شفاف چلی۔ ۔ ۔ تحریک انصاف چلی‘ کا نعرہ ملک میں ایک بیانیہ بن کر خوب مقبول ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی بڑی سیاسی جماعت کا روپ دھارنے میں کامیاب ہوئی۔ علم سیاسیات کے مطابق سیاسی جماعت کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے کہ ’مختلف افراد پر مشتمل ایک گروہ، قانون، قاعدہ، ضوابط اور ملکی دستور کے مطابق اقتدار کے معمول کی کوشش کرتا ہے‘ ۔ ایک عام شہری

Read more

معاملہ شجاعت، زرداری اور پرویز الٰہی کا: کب اور کیا کچھ ہوا؟

چند روز قبل میں نے تحریر کیا تھا کہ ’اگر میں سوچوں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب میں اکثریت حاصل کر کے پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہو گئی تو میری طبیعت ٹھیک نہیں بلکہ مجھے کوئی وہم ہو گا اور وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا‘ ۔ پی ٹی آئی نے اپنے جن مقاصد کے حصول کے لیے پرویز الہٰی کو استعمال کیا اس سے غالباً پرویز الہٰی بھی

Read more

اگر پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب نہ بن سکے تو؟

اگر میں یہ سوچوں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب میں اکثریت حاصل کر کے پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہو جائے گی تو میری طبیعت درست نہیں ہوگی بلکہ مجھے کوئی وہم ہو گا اور وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی وزیر اعلیٰ کا منصب اگر مسلم لیگ (ق) کے پرویز الہٰی کے پاس چلا جائے تو سب سے پہلے چوہدری شجاعت حسین کو صدارت سے الگ

Read more

اگر اعجاز چودھری (ن) میں اور احسن اقبال پی ٹی آئی میں ہوتے

یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے محترم چیئرمین جناب عمران خان صاحب صرف اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں ہی خبریں اکٹھی کرنے اور چور چور کے الفاظ کے استعمال کے لئے ان دنوں جلسے کر رہے ہیں وگرنہ پنجاب کے صوبائی اسمبلی کے 20 ضمنی انتخابات کے نتائج کو ان کے حق میں آہی چکے ہیں۔ خان صاحب تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ انتخابی نتائج اور دھاندلی کے بقول ان کے ڈیڑھ سو سے

Read more

آپا نثار فاطمہ کا بیٹا چور نہیں ہو سکتا

مولانا امین احسن اصلاحی جماعت اسلامی کے ان ارکان میں تھے جو مولانا مودودی کے ساتھ بحث اور مکالمہ کر نے کی صلاحیت اور ہمت کے مالک تھے اپنا نقطہ نظر اچھی طرح بیان کر نے کی خدا داد صلاحیت کے کما حقہ مالک تھے، مفسر قرآن تھے۔ تدبر قرآن کے نام سے تفسیر تحریر کی۔ عملی و ادبی حوالوں سے ان کی تحریریں، کتب معاملات اور مفاہمت معاملہ فہمی کا عالم یہ تھا جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ

Read more

الیکشن کمیشن نے تو فاطمہ جناح کو بھی نہیں بخشا تھا

ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں بلکہ کچھ کی قبور کا تو نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ چند مزار بھی موجود ہیں جہاں کبھی کبھی سیاسی کارکن، رشتہ دار، سیر و سیاحت کرنے والے اور بہت ہی کم عقیدت مند فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔ بعض جگہوں پر مدتوں کوئی دعا کے لیے بھی نہیں جاتا۔ ہماری قومی سیاسی تاریخ میں ایک بھی الیکشن ایسا نہیں جو تنازعات کا شکار نہ بنا ہو۔ مشرقی پاکستان میں جگتو فرنٹ کی

Read more

پانچ جولائی۔ سیاہ دن رات

گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے نظام حکومت کو غیر موثر اور ناقص قرار دیا، گویا انہوں نے آئین کو ہی غیر موثر قرار دے دیا ہے، فواد چودھری نے جس قدر سیاسی جماعتوں کے ساتھ وفاء کی ہے اس کا اس نظام یا دستور پاکستان سے کوئی تعلق نہ ہے نہ کبھی ہو گا۔ انہوں نے موقع محل دیکھے بغیر اپنے منہ کی چاشنی سے قوم کو

Read more

جنرل حمید گل سے جنرل ظہیر الاسلام تک

جس طرح برصغیر کی تاریخ سے ظہیر الدین بابر جلال الدین اکبر، شاہ جہاں، گاندھی اور قائداعظم کو الگ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح پاکستان کی سیاسی تاریخ سے جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاءالحق، پرویز مشرف، حمید گل، اسد درانی، اسلم بیگ، شجاع پاشا، ظہیر الاسلام اور ر دیگر کئی وقت کے ساتھ تاریخ کے اور aق میں گم ہونے والوں کو بھی کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افغان جنگ کے دوران حمید گل صاحب نے

Read more

مقبول لیڈر عمران خان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ شخصیات ہی ایم رہی ہیں۔ نظریہ، سیاسی پروگرام شخصیات کے ساتھ ساتھ سفر کر تا رہا ہے۔ خود قائد اعظم کی شخصیت حالات، واقعات اور زمینی حقائق پر بہت بھاری بھر کم رہی۔ نظریہ پر ہم یقین رکھتے تو محترمہ فاطمہ جناح نہ غدار کے لقب سے نوازی جاتیں اور نہ بنیادی جمہوریتوں کے خالق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھوں جھرلو کے نتیجے میں انتخاب ہارتیں۔ ایوب خان کے مقابل شیخ مجیب

Read more

گالی بھی اور مدد بھی

ہمارے قومی بجٹ کے خد و خال 31 جولائی تک مکمل طور پر پر ظاہر ہو چکے ہوں گے۔ یکم جولائی سے نیا مالی سال شروع ہو گا مگر ٹیکس کے اثرات جو اب بھی واضح ہو رہے ہیں جولائی کے آخری ہفتہ میں ہر کوئی ٹیکس کی شرح میں اضافے پر سیخ پا ہو گا۔ حکومت کے پاس بھی کوئی حل نہیں ہو گا اور نہ ہی عوام کو کسی صورت کوئی دلاسا دینے والا بچے گا۔ بات آ

Read more

معاہدہ فریقین کے درمیان ہوا تھا

ہم سب کا ریاست کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پایا تھا جس کے نہ ہونے کا نقصان آج تک ناقابل یقین حد تک ہوتا رہتا۔ معاہدہ فریقین کے درمیان ہوتا ہے اور اس کے کچھ گواہ اور عمل درآمد کروانے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہمارا عمرانی معاہدہ کیا واقعی ہم نے کیا تھا اس کے گواہ اور عمل کروانے والے کون ہیں؟ ہم سبھی کسی نہ کسی طرح ان کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے

Read more

جب معاشرہ تباہ ہو تو خدا تو حساب لیتا ہی ہے

طوفان تمیز نہیں کرتا ملک کی سیاسی، معاشرتی، سماجی اور سرحدی صورت اور دیگر کئی امور پر جب جی چاہے لکھا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں سیاسی زبانوں اور بولیوں کے علاوہ بہتری کی امید بھی نہیں دلا سکتا، تمام عمر گزر گئی، نازک صورت حال، کشیدگی، دفاعی معاملات کی نزاکت، کر اس روڈ کی بحث سے ہم نہ نکل سکے نہ کوئی نکال سکا، قیام پاکستان سے خطرات، دشمن کی سازشیں، غیرملکی مداخلت، بیرونی آقاؤں کے حکم پر حکومتوں،

Read more