پہلی جنگ عظیم میں جرمنوں کی شکست کی وجوہات


4اگست 1914 کو جرمنی نے فرانس کے خلاف عملی طور پر اعلان جنگ کر دیا۔ رد عمل کے طور پر فرانس نے اپنی فوج کا ایک حصہ جرمن۔ فرانس سرحد پر تعینات کر دیا۔ فرانس سے جنگ لڑنے کے لیے جرمنی کے چیف آف جنرل سٹاف ایلفرڈ شیف لین نے ایک جنگی پلان تجویز کیاتا کہ فرانس کو اس جنگ میں شکست دی جا سکے۔ شیف لین کے نام کی مناسبت سے اس پلان کو شیف لین پلان کہا جا تا ہے۔ اس پلان کے مطابق جرمن فوج نے بیلجیم اور نیدر لینڈ (ہالینڈ) سے ہوتے ہوئے فرانس پر حملہ کرنا تھا۔

فرانس کے ساتھ بیلجیم بھی جرمنز کے نشانے پر تھا۔ یہی وجہ تھی جرمن افواج سیدھا جرمنی اور فرانس کی سرحد عبور کرنے کی بجائے بیلجیم اور ہالینڈ سے ہوتے ہوئے فرانس پر حملہ کرنے کا سوچا۔ شیف لین پلان کا سب سے بنیادی نقطہ یہ تھا کہ فرانس کے پیچھے سے اس پر حملہ کیا جائے نہ کہ سیدھا جرمنی کے بارڈر سے۔ اس سے جرمنوں کی مراد یہ تھی کہ ان کی فرانس سے ملتی سرحد پر کوئی بڑا حملہ نہ ہو اور مذکورہ بارڈر محفوظ رہے اور جرمن افواج ایسٹرن فرنٹ میں روس سے مکمل طور پر برسر پیکار ہوں۔

1891 کو جنرل شیف لین کو چیف آف سٹاف کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس جنرل کی تعیناتی کے پیچھے جو باتیں پنہاں تھیں ان میں سے ایک یہ کہ شیف لین سنیارٹی میں سب سے جونئیر تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ جرمن افواج کے لیے ایک آئیڈیل اور محفوظ آپشن تھا۔ تیسرا یہ کہ اس کے جرمن آرمی کے باہر کوئی ذاتی یا سیاسی مقاصد نہیں تھے۔ دیگر حکومتی اور انتظامی عہدیداران چیف آف جنرل سٹاف کے ذریعے طاقت میں آ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ شیف لین کی کوئی مقبولیت تھی اور نہ ہی اس کے جرمن آرمی کے اندر اور باہر ایسے تعلقات تھے جن سے وہ کوئی فائدہ حاصل کرتا۔ اس ساری احتیاط کے باوجود جرمنی کوشیف لین اور اس کے پلان سے کوئی کامیابی نہ مل سکی اور شیف لین کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

بیلجیم پر جرمن حملہ ہوا تو اس نے فوری طور پر برطانیہ سے مدد اور مداخلت کی درخواست کر دی۔ اس پر برطانیہ بھی جنگ عظیم میں چاہتے نہ چاہتے ہوئے کود پڑا۔ جنگ سے پہلے کی کشمش اور مسابقت کے بعد اب برطانیہ بیلجیم اور فرانس کے ساتھ اپنے حریف جرمنی کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ یورپ کے دیگر ممالک اپنے معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے اس جنگ میں کود پڑے۔ جنگ مذکور کا نقشہ اب کچھ اس طرح تھا پورا یورپ دو بلاکس میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف اتحادی قوتیں تھیں جن میں برطانیہ، روس، فرانس، بیلجیم، سربیا شامل تھے جبکہ دوسرے بلاک میں سینٹرل پاورز یعنی مرکزی قوتوں کا اتحاد تھا جس میں جرمنی، آسٹریا، ہنگری اور ترکی شامل تھے۔ 1915 میں اٹلی نے بھی اتحادی قوتوں کے کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی۔

جنگ چھڑ جانے کے بعد جرمن فوج بیلجیم کو روندتی ہوئی فرانس کی طرف بڑھ رہی تھی کہ فرانس نے اس حملے کو روکنے اور اپنے دفاع کی خاطر جرمنی پر حملے کا آغاز کر دیا۔ اس حملے میں پہلے پہل فرنچ آرمی کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا اور ان کو پسپا ہونا پڑا۔ اسی دوران برطانیہ کی طرف سے برٹش ایکسپڈشنری فورس بیلجیم کے ایک مقام مونس پر پہنچ گئی۔ یہ مقام فرانس اور بیلجیم کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ برٹش ایکسپڈشنری فورس بعد میں 13 ڈویژنز پر پھیل گئی اور لگ بھگ تین لاکھ نوے ہزار فوجی جوانوں پر مشتمل تھی۔ حملہ کرتے ہوئے برطانوی فورس کو اپنے سے برتر جرمن فورسز کے سامنے سے ہٹنا پڑا۔ بہت جلد پسپائی اختیار کرتے ہوئے مذکورہ برطانوی فورس کو فرنچ فورسز کے ساتھ پیرس کی جانب جانا پڑتا کہ وہاں مشترکہ حکمت عملی بنائی اور عملی میں لائی جا سکے۔

فرنچ اور برٹش فورسز کو پسپا کرتے ہوئے جرمن فوج جب پیرس کے قریب پہنچی تو وہاں ان کی پیش قدمی کی رفتار میں کمی آ گئی۔ اب پیرس گیریژن کی جانب سے جرمن فوج پر ایک بھرپور حملہ ہوا جس سے جرمن فوج میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔ اس گیپ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی فورسز جرمن فوج کے عین قریب پہنچ گئی اور جرمن فوج کو پسپائی اختیار کرتے ہوئے دریائے مارن پر رکنا پڑا۔ اس کے بعد جرمن فوج نے دریائے این پر خندقیں کھود کر اپنا دفاع مضبوط کر لیا۔ یہاں پر برطانوی اور فرانسیسی افواج نے حملہ کرنے اور جرمنز کو مزید پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے مشترکہ حملہ کیا لیکن دونوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جرمن فوج نے اسی مقام پر اپنی دفاعی لائن مزید مضبوط کرلی تھی۔

دوسری جانب آسٹریا ہنگری روس کی جانب سے حملے کی زد میں تھے۔ ان کو روس پر حملوں اور دفاع میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل رہی تھی۔ مشرقی محاذ پر جرمنز کو اپنے اتحادی آسٹریا اور ہنگری کی مدد اور روس کو شکست دینے کے لئے اپنی افواج کو روانہ کرنا پڑا۔ افواج جرمنی نے روسیوں کو ایک مقام پر کاؤنٹر کیا اور اپنی دفاعی لائن کھینچ لی جس سے روس کو آسٹریا ہنگری پر مزید حملے کرنے سے وقتی طور پر روک دیا گیا۔ اب جرمنی کی حالت ایسی تھی اس کے پاس وسائل اور فوج کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ ایک ہی وقت میں دونوں محاذوں پر اس کی افواج اتحادی قوتوں سے جنگ لڑنے میں مصروف تھیں۔ جرمن حکمت عملی اس لیے بھی ناکام ہوئی کیونکہ وہ دو محاذوں پر جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے تا کہ بھاری نقصان سے بچا جا سکے۔

جیسے ہی ایسٹرن اور ویسٹرن فرنٹس ایکٹو ہوئے اور لڑائی شروع ہوئی تو جرمن افواج کو حملہ کرنے سے دفاعی پوزیشن کی طرف جانا پڑا۔ جنگ کے اگلے تین سالوں میں جرمن افواج کو مشرقی محاذ پر لوٹنا پڑا۔ اگر انہی فوجی جوانوں کو پہلے سے تعینات محاذوں (مغربی محاذوں ) پر لڑنا پڑ تا تو شاید جرمنی یہ جنگ جیت جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس جنگ میں جرمنی نے دو بنیادی غلطیاں کیں۔ پہلی یہ جرمنز نے فرانسیسیوں کی جنگی طاقت اور حکمت عملی کو اپنے سے کم تر سمجھا اور خوش فہمی میں رہے۔ دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ وہ روس کو رقبے اور آبادی کے اعتبار سے اپنے سے برتر سمجھتے تھے۔ جنگ کے دوران روسی معیشت کمزور تھی اور ان کی سپلائی لائن بھی مناسب نہیں تھی۔ چنانچہ فرانس اور برطانوی فورسز کے سامنے اکیلا جرمنی کمزور پڑتا چلا گیا اور روس کے موسم سرما کے آگے جرمن افواج کو بڑے پیمانے شکست ہوئی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سمیع اللہ رفیق کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments