تم اپنی کرنی کر گزرو
زندگی کا سفر انتہائی مختصر ہے اور یہ کب اختتام پذیر ہو جائے اس بارے میں ہم قطعی لاعلم ہیں۔
ہر سوچ کا ایک مثبت اور ایک منفی پہلو ہوتا ہے۔ اب اگر یہ سوچا جائے کہ زندگی تو ختم ہو جائے گی تو پھر محنت و مشقت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جو جیسا چل رہا ہے اس کو ویسا ہی چلنے دیا جائے۔ تو ہماری سوچ کا یہ پہلو سراسر غلط ہے۔
زندگی گزارنے اور اس کو بھرپور انداز میں گزارنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بے شک اللہ تعالٰی نے انسان و حیوان کو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کے لئے محنت ’جستجو اور جدوجہد سے مشروط کیا ہے۔
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
” اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا ’جس کی اس نے کوشش کی ہو“ (سورۃ النجم)
زندگی میں ایک خاص مقصد کا ہونا بہت ضروری ہے۔ لہذا اہم یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے شوق اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مقصد متعین کیا جائے۔ پھر اس کو حاصل کرنے کے لئے مناسب لائحہ عمل تیار کریں۔ اب ضروری نہیں کہ وہ مقصد آپ کو آپ کی سوچ کے مطابق حاصل بھی ہو جائے۔ کبھی کبھار منزل تک پہنچنے کا راستہ بہت طویل ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ سوچ بچار کے بعد مکمل معلومات اکٹھی کی جائے اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس ہدف کی طرف پیش قدمی کی جائے لیکن سوچنے میں زیادہ وقت نہ لگایا جائے کیونکہ یہ وقت کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا اور گزرا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔
ہم میں سے کچھ لوگ ناکامی کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنا پہلا قدم ہی نہیں اٹھا پاتے اور وہی پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے۔ ان کے دل اور دماغ میں ناکامی کا خوف اس قدر جڑیں پکڑ لیتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے خواب کو یا اپنے مقصد کو پانے کی آرزو کو ہی ترک کر دیتے ہیں۔
دراصل ناکامی کا ڈر اور لوگوں کی باتیں ہمارے سوچنے کی صلاحیت کو سلب کر دیتی ہیں۔ وسوسے ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ ہمیں اس سے آگے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ ہم یہ سوچنا ہی بھول جاتے ہیں کہ پہلا قدم لینا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ناکامی یا کامیابی تو بہت دور کہ بات ہے۔ جب تک ہم اپنی صلاحیتوں کو آزمائیں گے نہیں تو کیسے جان پائیں گے کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ناکامی دراصل جیت کا ہی نام ہے کیونکہ ہم اس تجربے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا اور اپنے علم کو بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ ہمارا اٹھا یا گیا ہر قدم ہمیں ہمت و حوصلہ عطا کرتا ہے۔
ناکامی ہی کامیابی ہے کیونکہ ہم اپنے اندر کے خوف کو شکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اپنے آرام دہ ماحول (کمفرٹ زون ) سے باہر آتے ہیں۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی لگن ہی ہمیں ہر طوفان اور چٹان سے لڑنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہماری زندگی کا مقصد ہمارے لئے اس قدر اہم ہونا چاہیے کہ ہم اس کو حاصل کرنے کی جستجو کرسکیں۔ ہم سوتے جاگتے صرف اپنے مقصد کو پانے کی نہ صرف خواہش کریں بلکہ مستقل بنیادوں پر پیش قدمی بھی کریں۔
جب ہمارا زندگی میں کوئی خاص مقصد ہوتا ہے تو اس کو حاصل کرنے کے لئے دن اور رات ایک کرنا پڑتا ہے۔ اپنی نیند اور آرام کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ لیکن اگر ہمیں خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوتے تو مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ سوچنا چاہیے کہ کیسے اور کہاں ہم تبدیلی لا سکتے ہیں اور کیسے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ کامیاب ہونے کے لئے ناکامی کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو پوری زندگی گزر جاتی ہے لیکن منزل نہیں مل پاتی۔
ہماری سوچ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ ہم پر ہی منحصر ہے کہ ہم اپنی سوچ کا دھارا کس طرف موڑتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کو کس عدسے سے دیکھتے ہیں۔ ایک بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو گرنے کے ڈر سے چلنا نہیں چھوڑتا بلکہ پہلے چیزوں کو پکڑ پکڑ کر چلتا ہے یعنی سہارے کے ساتھ چلتا ہے پھر خود بخود بغیر کسی سہارے کے چلنا شروع کر دیتا ہے اور پھر دوڑنے لگتا ہے۔
اسی طرح ہمارے مسائل ہیں جو ہمیں بہت بڑے محسوس ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ اتنے بڑے ہیں کہ ہم کبھی ان میں سے نکل ہی نہیں سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سوچ ہی ان کو چھوٹا یا بڑا بناتی ہے۔
کوئی بھی کام کرنے سے پہلے وہ ہمیں انتہائی مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے لیکن جیسے ہی ہم وہ کام کر لیتے ہیں وہ ہمارے لئے آسان ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح منزل تک پہنچنے کا سفر طویل ’کٹھن‘ خاردار ضرور ہوتا ہے لیکن مقصد کو حاصل کرنے کی خوشی بیان سے باہر ہوتی ہے۔ جیسے ہم کسی پہاڑی علاقے کا رخ کرتے ہیں تو سفر تھکا دینے والا اور کافی طویل ہوتا ہے لیکن منزل پر پہنچ کر قدرتی مناظر دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور ساری تھکان دور ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح ہماری زندگی کا سفر بھی ہے جس میں مشکلات ’اور مسائل کا سامنا رہتا ہے لیکن ان مسائل کو جب ہم حل کر لیتے ہیں تو بے انتہا سکون محسوس ہوتا ہے۔
اگر کسی کامیاب شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اس نے کیسے اور کتنی محنت کی ہے۔ اس نے ناکامی کے ڈر کو جیت کی خوشی میں تول کر دیکھا ہو گا۔ تبھی وہ اس مقام تک پہنچا ہو گا۔ کئی بار منہ کے بل گرنے ’سنبھلنے کے عمل سے گزر کر اپنے تجربات سے سیکھتے ہوئے وہ کامیابی کی سیڑھیاں یکے بعد دیگرے چڑھا ہو گا۔ تھکان نے چور چور بھی کیا ہو گا لیکن سوچ‘ لگن و محنت سے ڈوب کر پھر سے ابھرا ہو گا۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔
اپنے اندر سے ڈر و خوف کو نکال کر اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنا سیکھیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور اپنے خوابوں کو پا لیں۔ صرف ایک بار اپنی سوچ کو بدل کر دیکھیں ’اپنے خوف پر قابو پا لیں۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔ ایک دفعہ فیصلہ کر لیا تو اس پر قائم رہیں۔ مستقل مزاجی اور درست سمت میں پیش قدمی ہی کامیابی کی ضامن ہے۔
زندگی کسی کے لئے بھی پھولوں کا سیج نہیں ہوتی۔ پھر چاہے ملکہ ہو بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم سب کو مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ’فرق صرف ہماری سوچ کا ہوتا ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ لہذا اپنی سوچ پر قابو پانا سیکھ لیں۔ مسائل‘ ڈر و خوف خود بخود زیر ہو جائیں گے۔ اتنی محنت کریں کہ ڈر اور خوف خود آپ کی ہمت و حوصلے کے آگے ڈرنے لگیں۔


