اسلامی بینکاری اور اعتراضات


دنیا میں اس وقت 7.7 ارب انسان بستے ہیں جن میں سے 1.8 ارب کے قریب مسلمان ہیں۔ یعنی دنیا کی آبادی کا کم و بیش 24 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جس میں سے صرف 14۔ 15 فیصد کے قریب بینکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ تعداد مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ اس تعداد میں کمی کی بڑی وجہ سودی نظام اور جدید بینکاری نظام کا کوئی اسلامی متبادل نہ ہونا ہے۔ دور حاضر کے علماء کے لیے مسلمانوں کی اس محرومی کو دور کرنا اور اس جدید سودی بینکاری کے نظام سے نجات دلوانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

اس سلسلے میں علماء نے انتھک محنت کے بعد اسلامی بینکاری کے نظام کو متعارف کروایا جو کہ فقہ المعاملات کے اصولوں پر مبنی ہے اور اسلامی نظام معیشت سے قریب تر ہے۔ اسلامی بینکاری کے نظام کے نفاذ سے مسلمان نہ صرف اپنی محرومی کو دور کر سکتے ہیں بلکہ جدید بینکاری نظام میں شامل ہو کر اس سے متعلق سہولیات مثلاً ترسیلات زر وغیرہ سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق اسلامی بینکاری کے نظام کو عوام نے خوب سراہا اور اختیار کیا ہے جس کا ثبوت اس کی سالانہ بڑھوتری کی شرح ہے جہاں پر روایتی بینکاری میں 13 فیصد سالانہ بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے وہیں پر اسلامی بینکاری میں 42 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

جہاں پر اسلامی بینکاری کو سراہنے والے اور اسے اختیار کرنے والے موجود ہیں وہیں پر اس کے ناقدین اور اسے حیلہ کہنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ ان ناقدین میں علماء اور عوام کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسلامی بینکاری پر کیے جانے والے اعتراضات بعض اوقات کسی بڑی غلط فہمی پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ بہت عام ہے کہ بعض اوقات دو ایک جیسے مسائل، چیزوں یا نتائج کو دیکھ کر اور پھر ایک دوسرے سے موازنہ کر کے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان دونوں معاملات یا چیزوں کی حقیقت اور تفصیلات میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں ایک ہی ہیں۔

معاملہ کچھ بھی ہو، اس غلط فہمی کی ایک عام مثال یہ ہے کہ فرض کریں کہ آپ کے سامنے دو چکن برگر ہیں، دونوں کا ذائقہ، خوشبو، سائز، قیمت اور نام ایک جیسے ہیں۔ ہر چیز میں مماثلت ہے لیکن چکن ایک برگر میں حلال اور دوسرے میں حرام ہے۔ بظاہر تیار شدہ اشیاء ایک جیسی ہیں۔ اب اگر ایک عام آدمی یہ جاننا چاہے کہ کون سا برگر حلال ہے اور کون سا حرام تو صرف برگر دیکھ کر فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہو گا کہ برگر کی تیاری کے تمام مراحل خصوصاً اہم مراحل کو دیکھا جائے، مثلاً یہ کہ کیا مرغی کو شرعی احکام کے مطابق ذبح کیا گیا؟

کیا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا؟ ذبح کرنے والا کون تھا وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ تمام مراحل سامنے نہ ہوں تو ایک عام آدمی دونوں کو حلال سمجھے گا یا دونوں کو حرام سمجھے گا یا کوئی بے بنیاد نتیجہ اخذ کرے گا۔ جہاں تک مالی معاملات کا تعلق ہے تو ہمیں وہاں بھی کچھ ایسی ہی مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم سب جانتے ہیں کہ ربا الفضل (سود) سے متعلق صحیح احادیث کی روشنی میں یکساں اشیاء کے تبادلے میں ضروری ہے کہ دونوں مخالف قدروں کا یکساں مقدار میں تبادلہ ہو۔

اگر کھجوروں کو کھجوروں سے بدلنا ہے تو ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ دونوں طرف کی مقدار برابر ہونی چاہیے۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں ؛ خیبر کی کھجوریں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی گئیں اور کہا گیا کہ ہم عام کھجوروں کے دو صاع اس کے ایک صاع سے بدل دیتے ہیں یاں عام کھجور کے تین صاع خیبر کے دو صاع کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا (کیونکہ یہ ربا ہے ) اور فرمایا: عام کھجور درہم میں بیچو اور خیبر کی کھجوریں درہم میں خرید لو (بخاری) ۔

ظاہری طور پر نتیجہ وہی ہے لیکن لین دین کا طریقہ کار اور طریقہ کار بدل گیا ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ دونوں معاملات ایک ہیں تو یہ غلط نتیجہ سمجھا جائے گا۔ اسی طرح ایک روایتی بینک کی شرح سود اور اسلامی بینک کے منافع، روایتی بینک کے جرمانے اور اسلامی بینک کے صدقہ، وغیرہ میں یکساں فرق ہے۔ مختصراً یہ کہ دو بظاہر ایک جیسی چیزوں کی تفصیلات میں جائے بغیر ایک ہی نتائج کو دیکھ کر ایک مفروضہ لگانا جو کہ دوسرے شعبوں میں کسی حد تک درست ہو سکتا ہے لیکن کم از کم اسلامی مالیات میں یہ درست نہیں۔

خاص طور پر جب فقہ المعاملات جیسے اہم اور نازک موضوع کی بات آتی ہے، تو لین دین کی بنیاد، اس کے مراحل، مراحل اور اجزاء کو جاننا اور دو بظاہر ایک جیسے لین دین کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اور اس باریک فرق کو سمجھنے کے لیے دو طریقے ہونے چاہئیں، یا تو ماہرین پر بھروسا کر کے یا خود فن کو سیکھ کر تاکہ فرق کرنا اور درست بنیادوں پر رائے قائم کرنا ممکن ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

انس سلطان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments