”سمے کا دھارا“ از یوسف خالد : ایک تعارف


”سمے کا دھارا“ یوسف خالد کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے جو 2022 میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کا انتساب معروف شاعرہ ڈاکٹر صغری صدف کے نام ہے۔ اس مجموعے میں 43 نظمیں موجود ہیں۔ ڈاکٹر سکندر حیات میکن کا مضمون ”یوسف خالد ایک نفیس تخلیق کار“ اور ڈاکٹر عبد العزیز ملک کا لکھا فلیپ اس کتاب کی زینت ہے۔

یوسف خالد ایک کہنہ مشق شاعر ہیں ان کا تخلیقی سفر چا دہائیوں پر مشتمل ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”زرد موسم کا خواب“ کے عنوان سے 1991 سے شائع ہوا۔ بعد ازاں ان کے شعری سرمائے میں ”ابھی آنکھیں سلامت ہیں“ ( 2009 ) ، ”ہوا کو بات کرنے دیں“ ( 2012 ) ، ”خواب کا سفر“ ( 2015 ) ، ”اسے تصویر کرنا ہے“ ( 2017 ) ، ”قوس خیال“ ( 2020 ) اور ”خوشبو میرا حوالہ ہے“ ( 2021 ) جیسے گوہر ہائے آب دار شامل ہوئے۔

یوسف خالد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور سرگودھا کے علمی و ادبی حلقوں کا جانا پہچانا نام ہیں۔ سرگودھا کی ادبی تنظیموں ”بزم دوستاں آباد“ اور ”سرگودھا رائٹرز کلب“ کے متحرک رکن ہیں۔ ہمہ دم علم و ادب کی خدمت میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری غنائیت، آہنگ، تغزل اور امکانات کا عمدہ نمونہ ہے۔ تاہم ان کا تخلیقی وفور نظم میں زیادہ قوت اور شدت سے اظہار پاتا نظر آتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ”سمے کا دھارا“ باقی شعری مجموعوں سے قدرے مختلف یوں بھی ہے کہ اس میں وہ ایک نئی تخلیقی راستے اور ہیئت کی طرف مائل ہوئے جنہیں انہوں نے پہلے نہیں برتا۔

اس شعری مجموعے میں انہوں نے پہلی بار نثری نظم میں خامہ فرسائی کی۔ نثری نظم کو وزن کی قید سے آزادی کی وجہ سے ہمارے ارباب فکر و نقد کی اکثریت آسان صنف تصور کرتے ہیں یا نثری نظم سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے، وزن کے سہارے کے بغیر نظم تخلیق کرنا ایک مشکل امر ہے۔ یوسف خالد کی نظم ”کینوس“ میں وہ جس بڑے کینوس کے متلاشی ہیں وہ نثری نظم ہو سکتا ہے۔ یہ نظم علامتی طور پر نثری نظم کا جواز فراہم کرتی نظر آتی ہے :

”میں کئی دنوں سے ایک بڑے کینوس کی تلاش میں ہوں
میرے سامنے رنگوں کا انبار لگا ہوا ہے
مجھے جو کینوس میسر ہے
اس کی تنگ دامنی میرے مو قلم سے وابستہ وسعتوں کو
سمیٹنے میں ناکام ہو گئی ہے
کئی بار مصور ہوتی حقیقتوں کے لبوں سے شکوہ پھوٹا ہے
اور موقلم کو خفت اٹھانا پڑتی ہے (ص 56 )
ایک اور نظم ”ہم آزاد ہیں“ وہ نثری نظم کا جواز کچھ یوں پیش کرتے ہیں :
ہم نظم نگار ہیں
ہم نے اپنی اقلیم کو وسعت دینے کا ارادہ کر لیا ہے
کوئی اسے تجاوزات نہ سمجھے
ہم جہاں چاہیں گے خیمہ زن ہوں گے
نظم کا کتبہ نصب کریں گے
اختصار، جامعیت، غنائیت، تاثیریت اور شعری جمالیات کے تقاضے
ہمارے بڑھتے قدموں کو نہیں روک سکتے (ص 62 )

یوسف خالد کی نظموں میں تجسیم کاری (Personification) کا استعمال بکثرت اور عمدگی سے کیا گیا ہے۔ ان کے ہاں رنگ، خوشبو، جذبات اور صباحت کی مجسم تصاویر ملتی ہیں۔ اس صنعت کے استعمال سے ان کے کلام کے تاثر اور تاثیر میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کی نظموں میں حیرت بھاری بھرکم لبادہ اوڑھے مجسم نظر آتی ہے تو کہیں خواب سانسیں لیتے اور لمحے موہوم پگڈنڈی پر سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں :

نظم ”حیرت جست بھرتی ہے“
حیرت بھاری بھرکم لبادہ اوڑھے
میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے
اور آنکھ کی کھڑکی سے میرے باطن میں اترنے لگتی ہے
ایک اجنبی کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر
گھر کا سارا داخلی نظام متحرک ہو جاتا ہے (ص 32 )
نظم ”خواب اور سانسیں“
سوچتا ہوں آنکھوں میں پلنے والے خواب اگر مجسم ہو جائیں
تو کیسا منظر نامہ تشکیل پائے گا
کیسے کیسے رنگ کیسی کیسی صورتیں
آنکھوں کو خیرہ کریں گے (ص 36 )
نظم ”کہانی“
لمحے سانس کی نحیف انگلی پکڑ کر
ایک موہوم سی پگڈنڈی پر سفر آغاز کرتے ہیں
پگڈنڈی پر ننھے قدموں کے نشان ابھرنے لگتے ہیں
لمحوں کی اچھل کود شروع ہو جاتی ہے (ص 106 )
نظم ”کینوس“
میں نے موقلم اور قلم دونوں سے ہم رشتہ ہو کر
رعنائیوں کی تجسیم کاری شروع کر دی ہے
لفظ گنگنا رہے ہیں اور رنگ نکھر نکھر گئے ہیں
مناظر کی دلکشی بولنا شروع ہو گئی ہے
میرے بصارت اور سماعت ایک انوکھے لطف سے آشنا ہوئی ہے
خوابوں کا پورا جہاں متشکل ہو گیا ہے (ص 57 )

رنگوں، رعنائیوں اور جذبات کی تجسیم سے ان کی شاعری میں ایک نئی فضا اور انوکھی دنیا نظر تشکیل پاتی ہے جس سے نہ صرف شاعری کی معنی آفرینی دوچند ہو گئی ہے بلکہ یہ فضا قاری پر ایک طرح کا سحر طاری کر دیتی ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کی نسبت نظمیہ شاعری میں تجسیم کاری کا فن عروج پر نظر آ تا ہے۔

ان کی نظموں کا عمیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تووہ ہمیں ایک ایسے انسان کے روپ میں نظر آتے ہیں جو رجائی لہجہ رکھتا ہے۔ ہزار دکھوں اور سینکڑوں مصائب کے باوجود ان کے ہاں امید کا دیا ہمیشہ روشن نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صغری صدف انہیں امید کا شاعر قرار دیتی ہیں جو زندگی سے حسن کشید کر کے اس کے معنی نئے مفاہیم عطا کرتا ہے۔

نظم ”حصار“
پھول کھلنے والے ہیں خوشبوئیں پھیلنے والی ہیں
مایوسی کا لبادہ اتارو
اور اپنی ذات میں غوطہ زن ہو کر
نئے عہد کے سند ر موسموں سے ہم رشتہ ہونے کو تیار ہو جاؤ
یہ آواز میری ذات کا حصہ بن گئی ہے
میں پھر سے ذات کی معطر وادی میں لوٹ آیا ہوں (ص 85 )
نظم ”خود شناسی“
میں تنہا کھڑا دیوار کے شق ہونے کا منتظر ہوں
میں فاختہ کی خامشی میں چھپی کہانی نظم کر رہا ہوں
مجھے معلوم ہے
کہ دیوار کے اس پار زندگی اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ
میری منتظر ہے (ص 113 )

یوسف خالد کی شاعری میں لہلہاتے کھیت، ہل جوتتے کسان، گندم لدے خوشے اور بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹی کی مدھر آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان کی نظموں میں دیہات اور اس کی زندگی کی سچی، خوبصورت اور سجل تصاویر کو خوبصورتی سے پیش کی گئی ہیں جن میں مٹی کی خوشبو رچی بسی ہے۔

نظم ”امکانات“
”کھیتوں میں کسان ہل چلا رہا ہے
اس کے ننگے پاؤں بھری بھری نم آلود مٹی کے لمس کو محسوس کر رہے ہیں
اور اس کی روں
مٹی سے اٹھنے والی مسحور کن خوشبو سے سرشار ہے
سورج نکلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں سے نکلنے والی
مدھر آوازیں دور تک سنائی دے رہی ہیں
ہل زمین کا سینہ چیرتا جا تا ہے
ہل کے پیچھے پیچھے پرندے
زرخیز زمین کے پھٹے ہوئے بدن کی درزوں سے
اپنا رزق سمیٹنے میں لگے ہیں
ایک پورا جہان کسان کی آنکھوں میں سمٹ آیا ہے (ص 24۔ 25 )

یوسف خالد اس نام نہاد ترقی اور جدید صنعتی دور سے بہت خائف نظر آتے ہیں جس نے انسان سے اس کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور سکھ چھین لیے ہیں۔ اس نئے دور میں انسان کی زندگی مشینی اور تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کا اپنی مٹی سے رشتہ کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ نیز انسان کا تصور جمال اور آسودگی بھی بدل گیا ہے۔

نظم ”راستے بنانے پڑتے ہیں“
ہم نے نام نہاد تمدن کے نام پر جو شہر بسائے ہیں
وہ بھی تو اینٹ پتھر گارے اور فولادی جھاڑیوں کی صورت میں اگے ہوئے
مختلف نوعیت کے جنگل ہی تو ہیں
بے محابا بڑھتے ہوئے ان جنگلوں نے
زندگی سے راحتیں چھین لی ہیں
پیہم شور، ہنگاموں اور بے سمت تیز رفتاری نے
ایک مسلسل ٹکراؤ کی صورت اختیار کر لی ہے
بے اطمینانی کی راکھ نے چہروں میں زردیاں اور آنکھوں میں
ویرانیاں بھر دی ہیں (ص 42 )

نظم ”تلاش“
ہم تمدن کی چاہ میں آگے بڑھے
ہم نے بستیاں بسائیں
تارکول بچھایا
چاروں اور کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کر دیے
مٹی کا لمس اور بارش کی پہلی بوندوں کے باعث
پیاسی دھرتی سے اٹھنے والی باس ہم سے روٹھ گئی (ص 60 )

یوسف خالد فطرت کے دل موہ لینے والوں نظاروں کے ناپید ہونے پر نوحہ کناں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری تیز رفتاری اور نام نہاد ترقی کی وجہ سے قدرت ہم سے روٹھ گئی ہے۔ انسان نے اسی برق رفتاری کی خاطر قدرت کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مٹی کا نم ہم سے روٹھ گیا ہے۔ کھیت ویران ہوتے جا رہے ہیں۔ درختوں کی تیزی سے کمی کی وجہ سے ٹھنڈی میٹھی چھاؤں اور پرندے ہم سے روٹھ گئے ہیں۔ اسی باعث ہمیں کئی طرح کی موسمیاتی تبدیلیوں اور زمینی و سماوی آفات کا سامنا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں :
چمنیوں سے اٹھتے دھوئیں نے ہمارے چہروں پر کالک مل دی
ہم بے چہرہ ہوتے چلے گئے
اب ہم خود کو تلاش کر رہے ہیں
تمدن کی چکا چوند میں کیا ہم
خود کو تلاش کر پائیں گے (ص 61 )

یوسف خالد سچ کے متلاشی اور متوالے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہماری تاریخ مبالغوں، تخیل اور ذاتی خواہشات سے آلودہ ہے جس میں سچ کی آمیزش بہت کم ہے۔ نظم ”آج پھر آندھیوں کی ضرورت ہے“

تاریخ کی یہ پہلو تہی کل بھی تھی اور آج بھی جاری ہے
آج بھی کسی کے اشارہ ابرو پر
اور کسی کی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی غرض سے
جھوٹ لکھا جا رہا ہے
آج پھر آندھیوں کی ضرورت ہے جو ہمیں ہماری آرزوؤں سمیت محفوظ کر لے
ورنہ مستقبل کا انسان ہمارے حوالے سے سچ نہیں لکھ سکے گا (ص 47 )

منظر نگاری شاعری کے حسن اور تاثر کو دو چند کر دیتے ہیں۔ یوسف خالد اپنی شاعری میں کسی ماہر مصور کی طرح کینوس پر مختلف رنگوں کے خوبصورت امتزاج سے یوں منظر تخلیق کرتے ہیں کہ اصل کا گمان ہوتا ہے۔ ان کی نظموں میں تشکیل پانے والے مناظر ان کی زرخیز تخیل اور اور شاعرانہ بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نظم ”سمے کا دھارا“

صبح کاذب اور صبح صادق کی سرحد پر
سمے کا ایک مختصر دھارا پہرے داری کرتا ہے
جہاں تاریکی اور اجالا بغل گیر ہوتے ہیں
اس مختصر سے پل میں کئی گہرے بھید ہیں
رات اپنے کچھ مکمل کچھ نامکمل خوابوں کی پوٹلی
سرحد پر رکھ کر واپس جا چکی ہوتی ہے (ص 44 )

مجموعی طور پر یوسف خالد کی نثری نظموں کا یہ مجموعہ روایت سے ہم رشتہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ بناوٹ، دکھاوے اور تصنع سے پاک اس مجموعے کی نظمیں ایک خاص رومانوی اسلوب اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا سماجی شعور بہت پختہ ہے وہ کائنات کے درپیش مصائب و مسائل سے بھی آگاہ ہیں اور انہیں اپنی شاعری میں عمدگی سے پیش کرتے ہوئے قاری کو دعوت فکر دیتے ہیں۔ وہ مایوسیوں کو مٹاتے ہوئے نئے امکانات تخلیق کرتے نظر آتے ہیں جو خوش آئند ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر سمیرا اکبر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments