”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ مرتب ڈاکٹر محمد ارشد اویسی

ادبی مجلّات کسی بھی زبان کی علمی و تحقیقی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاہور گیریژن یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے شائع ہونے والا سہ ماہی مجلہ ”نورِ تحقیق“ بھی اسی روایت کی ایک قابلِ قدر اور مضبوط کڑی ہے، جس نے مختصر عرصے میں اردو تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ (اجمالی تعارف اور توضیحی اشاریے پر مشتمل کتابِ حوالہ) دراصل اس تحقیقی مجلے کے پہلے تیس شماروں

Read more

”نہ“ کا معنی انکار ہے تذلیل نہیں

ثنا یوسف کا پاکستان کے دارالحکومت میں قتل ایک حادثہ نہیں بلکہ سانحہ ہے یا اس سے بڑھ کر ایک المیہ ہے جو پورے سماج کی نظام اخلاق، اقدار، تربیت اور نظام عدل پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ المیہ کیونکر وقوع پذیر ہوا؟ اس کے پس پردہ کون سے محرکات ہیں؟ اس طرح کے سانحات کا کس طرح تدارک ممکن ہے؟ یہ اور اس طرح کے سوالات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ اب تک کی تفتیش کے مطابق یہ

Read more

نگوگی وا تھیونگو: ایک بڑے مابعد نوآبادیاتی مفکر کی رخصتی

28 مئی 2025 کو جب جارجیا، امریکہ کے ایک ہسپتال میں نگوگی وا تھیونگو (Ngũgĩ wa Thiong ’o) نے آخری سانس لی، تو صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ عالمی ادب، ایک بڑی اور توانا آواز سے محروم ہو گیا۔ نگوگی صرف ایک فکشن رائٹر نہیں تھے، بلکہ وہ نوآبادیاتی استبداد، لسانی سامراج، ثقافتی جبر اور مابعد نوآبادیاتی آمریت کے خلاف ایک مسلسل مزاحمتی بیانیے کا نام تھے۔ وہ ایڈورڈ سعید، فرانترز فینن، ایمی سیزر، ہومی کے بھابھا، گائتری چکروتی سپیوک،

Read more

ناول ”نِکّا“ (انیس احمد) کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”نکّا“ انیس احمد کی تخلیق ہے جو گزشتہ برس عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کا ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے۔ جدید دور کے مختصر ناولوں کے مقابلے میں پانچ سو گیارہ صفحات پر مشتمل یہ ”نِکّا“ اصل میں ایک بڑا ناول ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ پڑھت کے دوران یہ ناول ضخیم ہرگز محسوس نہیں لگتا۔ انیس احمد یوں کہانی سے کہانی نکالتے، کڑی سے کڑی ملاتے ہیں

Read more

آدھی گواہی کی موت

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ نے ہونہار طلبہ کے لیے ایک سکالر شپ کا اعلان کیا، جو ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ ایک غیر منطقی اور امتیازی شرط کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سکالر شپ کے حصول کے لیے درکار حلف نامے پر بطور گواہ صرف مرد (اساتذہ اور افسران) دستخط کر سکتے ہیں، خواتین ( اساتذہ اور افسران ) اس پر دستخط کرنے کی مجاز نہیں؟ کیا یہ اس طرح کے فیصلے خواتین کی قابلیت

Read more

ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ : چند تاثرات

ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ فیصل آباد کے ایک نوجوان لکھاری احمد افتخار کا پہلا ناول ہے جو حال ہی میں سلیکھ پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا ہے۔ ناول کا انتساب ”عین الف“ کے نام ہے اور ٹائٹل بہت خوبصورت انداز میں عثمان ضیا نے ڈیزائن کیا ہے جو ناول کے تھیم اور فضا کے ساتھ حد درجہ موافقت رکھتا ہے۔ ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ وہ لکیر جس میں سیاہ اور سفید دونوں شامل ہیں۔ جو نہ

Read more

عہد ظلمات – برصغیر میں برطانوی سلطنت

دنیا میں یورپی نوآبادیاتی نظام کی ابتدا سولہویں صدی عیسوی میں ہوئی۔ بعد ازاں صنعتی انقلاب اس نظام کو مستحکم کرنے میں بنیادی محرک کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ابتدا میں برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور اسپین نے ترقی پذیر اور کمزور ممالک جیسا کہ ایشیائی و افریقی ممالک کو اپنی نوآبادیات بنایا۔ بعد ازاں اس دوڑ میں روس، جرمنی، اٹلی اور امریکہ بھی شامل ہو گئے۔ یورپی استعماریت کا بنیادی مقصد محکوم اقوام کے وسائل پر قبضہ تھا۔ اس

Read more

سفید پرندے کا نوحہ: جنگ اور موت کی نظمیں

تاریخ عالم کو دیکھیں تو طاقت اور سلطنت کی ہوس میں جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ادبیات عالم کا مطالعہ کریں تو دنیا کا بڑا اور معروف ادب رزمیہ شکل میں ملے گا۔ وہ گل گامش کے قصے ہوں، ہومر کی اوڈیسی ہو، عرب کی رجزیہ شاعری ہو، مہا بھارت یا رامائن ہو یا اصناف ادب مرثیہ ، شہر آشوب اور جنگیں۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا انسان جنگ

Read more

مقامی دانش اور شہناز شورو کا افسانوی مجموعہ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“

شہناز شورو ہماری دھرتی کا روشن چہرہ ہے۔ وہ دھرتی جو ماں ہے، دیوی ہے، پالنہار ہے، جو اپنے ذہن رسا کی کھیتی سے نئی نسل کو سینچتی ہے، پالتی ہے، سوچنے اور سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ شہناز شورو سچی اور سُچی تخلیق کا ر ہیں۔ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے جو مثال پبلی کیشنز فیصل آباد سے شائع ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کے دو افسانوی مجموعے ”لوگ، لفظ اور اَنا“ اور

Read more

اسلاموفوبیا کا ایک موثر علمی جواب

گزشتہ دو دہائیوں سے اسلامو فوبیا بہت زیادہ موضوع بحث رہنے والی اصطلاح کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سے مراد مغرب میں اسلام یا مسلمانوں کے خلاف بلاجواز اور غیر معقول، خوف، نفرت اور تعصّب ہے۔ اہل ِ مغرب اسلاموفوبیا کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں جیسا کہ مسلمان بہت زیادہ مونولیتھکل یعنی بہت سخت گیر اور غیر لچکدار ہیں یہ نئے دور، نئی روایات اور جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ دوسری وجہ ان کے نزدیک

Read more

سجاد حیدر کا مجموعہ حمد و نعت: ”تجلیوں کی دھنک“

سوچتا ہوں میں بنا ڈالوں ایک فرقہ اداس لوگوں کا سے اردو دنیا میں شہرت پانے والے شاعر سجاد حیدر کا تعلق فیصل آباد ہے لیکن وہ آج کل برمنگھم، برطانیہ میں مقیم ہیں۔ سجاد حیدر غزل جیسی کلاسیکل اور مشکل صنف سخن کے ساتھ کائنات شعر میں وارد ہوئے۔ بعد ازاں انھوں نے حمد و نعت کو اپنا شعار بنا لیا۔ نعت اگرچہ غزل کی ہیئت میں مروج ہے مگر اپنے تقدیسی تخصص کی بنا پر نہایت دشوار صنف

Read more

”جنگل میں جمہوریت“ مترجم ڈاکٹر عبد العزیز ملک: چند تاثرات

 ”جنگل میں جمہوریت اور دیگر کہانیاں“ پنجابی افسانوں کا ترجمہ ہے جسے اردو روپ ڈاکٹر عبد العزیز ملک نے دیا ہے۔ ان افسانوں کے تخلیق کار اکبر لاہوری ہیں۔ اکبر لاہوری سے میرا پہلا تعارف 2010 میں ہوا جب ان کے پنجابی افسانے ”جنگل وچ جمہوریت“ کا اردو ترجمہ ”جنگل میں جمہوریت“ ادب لطیف میں پڑھا۔ اس افسانے کے مترجم ڈاکٹر سعید احمد تھے۔ کسی پنجابی افسانہ نگار کو پڑھنے کا یہ میرا اولین اتفاق تھا جو نہایت خوشگوار تھا۔

Read more

”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ از ڈاکٹر عائشہ ظفر:چند تاثرات

ڈاکٹر عائشہ ظفر معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل میں ایک اہم اور خوشگوار اضافہ ہے۔ ان کا اولین شعری مجموعہ ”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ حال ہی میں شائع ہوا۔ ان کی شعری کائنات میں حیران کن حد تک تازہ کاری نظر آتی ہے۔ وہ اپنی قوت متخیلہ جو شعری دنیا تخلیق کرتی ہیں وہ رومانویت کے خوش رنگ پھولوں اور خوشبوؤں میں بسی ہے۔ عائشہ ظفر جواں جذبات، سریلے نغمات اور نازک خیالات کی شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری

Read more

موقف کی تلاش

”موقف کی تلاش“ ڈاکٹر محمد خاور نوازش کی تازہ تصنیف ہے جو بہت عمدہ اور دیدہ زیب گیٹ اپ کے ساتھ عکس پبلیکیشنز، لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک وسیع مطالعہ رکھنے والے استاد، ایک محنتی محقق اور ایک صاحب رائے لکھاری ہیں۔ ”موقف کی تلاش“ سے قبل وہ ”مشاہیر ادب: خارزار سیاست میں“ ، ”ادب زندگی اور سیاست“ ، ”عطا الحق قاسمی کی تحریریں سیاسی و سماجی تناظر میں“ ، ”ارمغان روبینہ ترین“ ، ”اردو ہندی وحدت

Read more

اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں

”اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں“ ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی کی تازہ تحقیقی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب معاصر شعر و ادب کا ایک توانا اور معتبر نام ہیں۔ علم و ادب کے استاد ہونے کے ناتے اپنے طالب علموں کی تعلیم کے ساتھ تربیت ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ آپ طالب علموں کے ساتھ ساتھ سماج میں منفی رویوں کی مذمت اور مثبت اقدار کے فروغ کے سلسلے میں ہمیشہ متحرک نظر

Read more

اردو افسانے کا دوسرا جنم

اردو افسانہ دوسری اصناف ادب کی نسبت ایک نووارد صنف سخن ہے جس کا ظہور گزشتہ دہائی میں مغربی ادب کے توسل سے ہوا۔ اس صنف کی خوش بختی کہ اسے اردو میں ابتدا ہی سے پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، رشید جہاں ایسے نابغہ روزگار تخلیق کار میسر آئے جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے یہ صنف ادب میں مرکزیت اختیار کر گئی۔ جدید فکری رویے، فنی میلانات، ثقافتی و تہذیبی تغیرات اور لسانی ڈھانچے جس طرح

Read more

مبشر سعید کی خواب سرا کے بھید

مبشر سعید معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کا ایک اہم نام اور معتبر حوالہ ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب گاہ میں ریت“ کے عنوان سے شائع ہو کر اہل علم و ادب سے پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ”خواب سرا کے بھید“ اردو غزل کی دنیا میں ایک خوبصورت اور دل کش اضافے کی صورت منصہ شہود پر آیا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے کے بعد ان کی

Read more

”توصیف تبسم: شخصیت اور فن“ : ایک تعارف

”توصیف تبسم شخصیت اور فن“ اکادمی ادبیات پاکستان کے وقیع اشاعتی سلسلے ”پاکستانی ادب کے معمار“ کی تازہ تصنیف ہے جسے عہد حاضر کے نامور محقق، مدرس، اور نقاد ڈاکٹر شیر علی نے تصنیف کیا ہے۔ اس کتابی سلسلے کے تحت اب تک اردو زبان و ادب سے وابستہ ایک سو ستر نابغہ روزگار شخصیات پر کتب شائع کی جاچکی ہیں۔ ڈاکٹر توصیف تبسم معاصر ادبی منظر نامے کے ایک اہم اور ہمہ جہت تخلیق کار ہیں ان کی تخلیقی

Read more

”سمے کا دھارا“ از یوسف خالد : ایک تعارف

”سمے کا دھارا“ یوسف خالد کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے جو 2022 میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کا انتساب معروف شاعرہ ڈاکٹر صغری صدف کے نام ہے۔ اس مجموعے میں 43 نظمیں موجود ہیں۔ ڈاکٹر سکندر حیات میکن کا مضمون ”یوسف خالد ایک نفیس تخلیق کار“ اور ڈاکٹر عبد العزیز ملک کا لکھا فلیپ اس کتاب کی زینت ہے۔ یوسف خالد ایک کہنہ مشق شاعر ہیں ان کا تخلیقی سفر چا دہائیوں پر مشتمل

Read more