ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور بندۂ مزدور کے حالات


آج کل ہندوستانی اپنے سابق نو آبادیاتی حکمرانوں کے ملک برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بننے کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں۔ بھارت نے سال کی پہلی سہ ماہی میں 13.5 فیصد کی نمو برقرار رکھتے پانچواں مقام حاصل کیا جب کہ انہیں مہینوں کے درمیان برطانیہ کی معیشت مزید 0.1 فیصد کم ہو گئی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سچائی کی جانب نظر دوڑائیں تو بے روزگاری اور عدم مساوات ابھی بھی ہندوستان اور ہندوستانیوں کی زندگی کا اتنا ہی بڑا حصہ ہیں جتنا پہلے تھے، جب کہ وزیراعظم مودی کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر اڑھائی سو سال حکمرانی کرنے والے برطانیہ کو پیچھے چھوڑنے کی خوشی جذباتی وابستگی کی بنا پر محض اس درجہ بندی میں چند ایک درجے اوپر جانے کی خوشی سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے حساب سے مارچ میں ہندوستان کی معیشت برطانیہ کے 816 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 854 ارب ہو چکی تھی۔ کاروباری دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہندوستان کے برطانیہ کو عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر پہنچانے کے کارنامے کو دل کھول کر سراہا۔ ایسے میں کچھ ہندوستانی ملک کی معاشی ترقی کا موازنہ چین سے کر رہے ہیں، جس کی معیشت میں اپریل سے جون کی سہ ماہی میں صرف 4.0 فیصد اضافہ ہوا۔

بھارت کے دنیا کی 5 بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی خبر اگست کے مہینے میں آئی جب ہندوستانی برطانیہ سے آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشیاں منا رہے تھے۔ محض پچھتر سال پہلے آزاد ہونے والا ملک معاشی طور پر اب صرف امریکہ، چین، جاپان اور جرمنی سے ہی پیچھے رہ گیا ہے۔ چند ہفتے قبل جب ایک کاروباری میٹنگ میں وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان 2029 تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا تو کوٹک مہندرا بینک کے چیف ایگزیکٹیو افسر ادے کوٹک نے حکومتی ارکان کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے فی کس آمدنی کی جانب نظر دوڑانے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم برطانیہ سے میلوں پیچھے ہیں کیونکہ برطانیہ کے فی گھرانا 47000 امریکی ڈالر کی پیداوار کے مقابلے میں ہندوستان کے شہری محض 2500 ہی بنا پا رہے ہیں۔

حکومت کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے سربراہ بیبک دیبرائے کا کہنا تھا کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں شامل ہونے کے خواب کو تو چھوڑ ہی دیں، ہندوستان کم آمدنی والے ممالک کی درجہ بندی سے نکل کر درمیانی آمدنی والے ممالک میں بھی صرف اس صورت میں شامل ہو سکتا ہے اگر وہ 2047 تک مسلسل سات سے ساڑھے سات فیصد شرح نمو برقرار رکھتے ہوئے دس ہزار امریکی ڈالر تک فی کس آمدنی کو لے جانے میں کامیاب ہو جائے۔ جو کہ ایک بہت مشکل کام ہے اور مسلسل سالوں تک ایک خاص شرح نمو برقرار رکھنا کسی بھی طور پر کوئی یقینی بات نہیں ہے۔

پچھلے سال 13.5 کی قابل رشک شرح نمو کی وجہ کرونا وائرس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد اچانک سے کاروبار دوبارہ شروع ہونا تھی۔ آنے والی چند سہ ماہیوں میں معیشت پھر نیچے کی طرف جائے گی کیونکہ کرونا کی وجہ سے سست روی کا شکار معیشت اب اپنی پرانی رفتار حاصل کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے لئے عمل میں لائی گئی سختیاں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تیزی سے سست ہوتی ہوئی عالمی معیشت اور ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار سننے میں بھلے محسوس ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقتصادی ترقی کا یہ حصول بہتر سماجی بہبود کا ضامن نہیں ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم اور معاشی مساوات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ہندوستان اس میدان میں ہمیشہ ہی پیچھے رہا ہے۔ حکومتی مسابقتی روڈ میپ برائے انڈیا نے اگست میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں 2000 ء سے لے کر اب تک عدم مساوات میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بھارت نے سماجی ترقی میں بہتری کی جانب نشاندہی کرنے والے تمام زمروں میں کم نمبر حاصل کیے ۔ ہندوستان معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی درجہ بندی میں 163 ممالک میں سے 135 اور معیاری صحت تک رسائی کی درجہ بندی میں 145 ویں نمبر پر ہے۔

جہاں 2000 کے بعد سے غربت میں کمی آئی ہے، وہیں عدم مساوات میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ حیرت انگیز رجحان عالمی سطح پر دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بالکل برعکس ہے۔ چند ہفتے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ انسانی ترقی کے انڈیکس کے مطابق ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل دوسرے سال گراوٹ کا شکار رہی۔ ہندوستان اس درجہ بندی میں 191 مالک میں سے 132 نمبر پر جگہ بنا سکا۔ صحت، تعلیم اور آمدنی تک رسائی کا مشترکہ طور پر جانچ کرنے والے اس انڈیکس میں چین 79 نمبر پر ہے۔

ہندوستان فی الحال اس مقام پر ہے جہاں چین گزشتہ صدی کے اختتام میں تھا۔ یعنی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشرتی ترقی کے لحاظ سے کم از کم دو دہائیوں کا فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان انسانی سطح پر ترقی کے معاملے میں اپنے سب سے بڑے حریف سے اتنا پیچھے ہے کہ دونوں ممالک اب ایک دائرے میں گھومنے کے بجائے بالکل مختلف مداروں میں ہیں کیونکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کی فی الحال کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت عوام پر خرچ کیے جانے کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کا بہت بڑا حصہ نمائشی منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے جبکہ سماجی زندگی بہتر کرنے کے لئے بہت کم رقم مختص کی جاتی ہے۔

سابق گورنمنٹ کے اقتصادی مشیر کوشک باسو نے تنبیہ کی ہے کہ بھارت کے نوجوانوں میں بے روزگاری اور عدم مساوات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اور شعبہ صحت کی یہ حالت ہے کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے شہریوں کی اوسط عمر بھارت کی نسبت کم از کم تین سال زیادہ ہے۔ ہندوستانی اپنے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے اتنے تنگ ہیں کہ محسوس یوں ہوتا ہے دو سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا نہ کرنے اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔

بے روزگاری، بھوک، صحت اور تعلیم کے بہتر مواقع کی کمی کے جتنا ہی یا اس شاید اس سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل مسئلہ جان و مال کی حفاظت ہے۔ ہندوستان میں مذہب، ذات پات، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق بڑھتی جا رہی ہے۔ قانون کا مقصد معاشرے میں نظام قائم کرنا اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے، جب وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو جائے تو معاشرے میں ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جو سماجی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کو یہ بات چاہے کتنی ہی ناگوار گزرے مگر سچ تو یہ ہے کہ عوام کو ایک درجن سائنسدانوں کے چاند پر جھنڈا گاڑنے، ملک کے پاس اربوں کے ہتھیار ہونے، نیا ایٹم بم ایجاد کرنے یا کسی مغربی ملک کی معیشت کو پیچھے چھوڑنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک عام انسان کے طرز زندگی میں ان سب کامیابیوں سے کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے۔ اگر عام ہندوستانی حکومتی وزراء کے جشن میں انہیں کے جیسے ولولے سے شامل نہ ہوں تو حکومتی ارکان کو حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ جیت صرف حکومتی سطح تک ہی اہمیت رکھتی ہے۔

عوام کل بھی پس رہے تھے، آج بھی پس رہے ہیں۔ بے گھر افراد کل بھی فٹ پاتھ پر لیٹتے تھے، آج بھی شام ہو گی تو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر وہیں پر لیٹیں گے۔ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کل بھی گوشت خریدتے وقت ڈرتے تھے، آج بھی گھر سے کھانے پینے کا سامان خریدنے کے لیے جاتے ہوئے ایک مرتبہ تو ضرور کانپیں گے۔ غریب ماؤں کے بچے کل بھی بھوکے سوئے تھے، آج بھی بھوکے پیٹ لوریوں کے سہارے ہی سوئیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عائشہ اقبال

عائشہ اقبال انگریزی ادب اور لسانیات کی شاگردہ ہیں. انسانی حقوق خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لکھتی اور آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ فراغت کے اوقات مصوری، شاعری اور کتاب بینی سے کاٹتی ہیں۔

ayesha-iqbal has 5 posts and counting.See all posts by ayesha-iqbal

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments