لوگوں کو اپنی قسمت کا حال بتائیں


اک عمرانی اور آئینی معاہدے کے تحت پاکستان کی عوام نے اداروں کے حوالے اپنے اور اپنے ملک کے معاملات کیے ہیں۔ ریاست اس معاہدے کے تحت آئینی طور پے پابند ہے۔ اور آئین میں بھی واضح ہے کہ مالکی اس کی جو سب جہانوں کا مالک ہے، اس کے بعد اس کی مخلوق/عوام ملک کی مالک ہے۔ ریاست نے برابری، انصاف، باوقار زندگی کا حق اور بہت سے اور حقوق جن کو آئین میں کھلے ہوئے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، اس کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وعدہ برائے وعدہ نہیں، یہ ہر صورت میں عمل پیرا ہونا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ریاست اور حکومت وہ مرکزی ہو یا صوبائی کو بتانا ہے کہ وہ جو کروڑہا لوگ سیلاب کے زد میں آئے، جن کا بہت کچھ اور شاید سب کچھ پانی بہا کے لے گیا اب وہ بھوک، بیماری اور بے بسی میں موت کے حوالے ہو رہے ہیں، ان کے لیے کیا کیا جا رہا ہے، وہ ان کو بتانا ہے اور وہ بھی روز کی بنیاد پر متواتر بتانا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے دو دن پہلے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم نے جلد کچھ اہم قدم نہ اٹھائے تو سیلاب کے بعد بڑی آفت کافی لوگوں کی موت اور بیماریوں میں ظاہر ہوگی۔ صاف پانی، ٹوائلٹس، مچھر دانیاں، ادویات اور علاج یہ وہ چند اہم چیزیں ہیں جن کی بروقت فراہمی لاکھوں زندگیوں کو موت اور بیماری سے بچا سکتی ہیں۔

کووڈ کے شروعات میں ملکی سطح پر اور سندھ میں اس سے بچاؤ، روکنے اور معلومات کا اک مربوط نظام قائم کیا گیا جس کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر ہر ضلعے کی تفصیلات بتائی جاتی تھی، اور اس نظام کی پذیرائی حکومت سندھ کے دوست اور مخالف دونوں کر رہے تھے۔ مثالیں دی جاتی تھیں کہ دیکھیں صوبہ سندھ نے کس طرح اس قدرتی آفت کے نتیجے میں نہ صرف انتظامات اچھے کیے ہیں بلکہ لوگوں کو باخبر بھی رکھا ہوا ہے۔ اس سے یہ چیز تو واضح ہو گئی کہ جو مصیبت کے دنوں میں سربراہی چاہیے ہوتی ہے ؛ اور جو بنیادی حکومتی ڈھانچہ اس سربراہی کے جواب میں لبیک کہہ کر کام آتا ہے۔

وہ دونوں چیزیں یکسر غائب ہو گئی ہیں! اور اک بحر فقدان ہے جو سمٹتے نہیں سمٹتا! بارشیں تو کب کی خاموش ہو چکیں، اب لٹے پٹے لوگوں کو زندگی کے راستے پر ڈالنا ہے۔ شاید بہت کچھ ہو رہا ہے، لیکن جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ نہ صرف ناکامی ہے بلکہ صحیح بھی نہیں۔ لوگوں کی زندگیاں بچانے اور نہ بچانے میں وقت اور انتظامات کا عمل و دخل ہوتا ہے، لوگوں کی ضروریات بے شمار ہیں لیکن جو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے باتیں اپنے بیان میں کہی ہیں، ان پر عمل ہو جائے تو جو تباہی بیماریوں کی صورت میں سر اٹھا رہی ہے اس کو کافی حد تک دبایا جاسکتا ہے۔

صحت اک ایسا شعبہ ہے جس میں پاکستانی دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے فلاحی ادارے، ڈاکٹر خواتین و حضرات ہمدردی اور ایثار کی اعلی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ وہ موٹرسائیکل، گدھا گاڑی اور کشتیوں میں بیٹھ کر متاثرین تک پہنچ رہے ہیں اور اپنے وسائل سے زیادہ کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسے تمام افراد اور اداروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اس دفعہ نوجوان بچے اور بچیاں ینگ ڈاکٹرز بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکومتی سطح پر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کی ایمرجنسی شاید سیلاب کی ایمرجنسی سے کم نہیں اور خدا نہ کرے کہ اس کے نتیجے میں ہونے والے اموات سیلاب سے ہونے والے اموات سے کہیں زیادہ نہ ہوجائیں!

ہماری ادارتی صلاحیت دنیا کے نیچے کے درجہ بندی والے ممالک میں آتی ہے۔ اس درجہ بندی پر ہم یکسر نہیں پہنچے۔ حکومتی ادارے اقرا پروری، میرٹ کو کچلتے ہوئے ذاتی مفادات اور پاکستان/سندھ کی حاکم اشرافیہ کی خدمت کرتے کرتے اندر سے کھوکھلے ہوتے رہے۔ عام حالات میں ادارے کیسے اور کیا کام کر رہے ہیں، اس کا ادراک تمام لوگوں کو نہیں ہوتا؛ اور اچھا برا سب چلتا رہتا ہے۔ لیکن جب کوئی آفت (Disaster) آتی ہے تو تمام لوگ کھلی طرح دیکھ سکتے ہیں کہ حکومتی ادارے کس طرح کام کر رہے ہیں۔ سندھی کی اک کہاوت کے مطابق ”سفید کالے ظاہر ہو جاتے ہیں“ ۔ اور اس وقت ہمیں وہی نظر آ رہا ہے۔

چند سال پہلے سندھ میں غائب اس کو Ghost School اور غائب و غیر حاضر استاد کی اک بڑی خبر ہرطرف پھیل گئی۔ محکمہ تعلیم اور غیر حاضر اساتذہ بڑی تنقید کا نشانہ بنے۔ جلد ہی حکومت سندھ نے بائیو میٹرک کا اک فعال نظام بنالیا اور غیر حاضر استاد حاضر ہونے لگے۔ پھر آئی بی اے کی ٹیسٹ کے تحت بھرتیاں کی گئیں جس کی وجہ سے تعلیمی معیار بہتر ہونے لگا۔ اس وقت بہت سے اصطلاح سننے میں آئے تھے : بھگوڑے، ویزا پر گئے ہوئے ملازم وغیرہ وغیرہ۔

ویزا کا نظام ایسا ہے جہ جس کے تحت ملازم غیر حاضر ہوتا ہے /ہوتی ہے اور اپنا کام کہیں اور کرتا ہے۔ اپنے مراعات اور تنخواہ کا اک حصہ محکمہ کے ارباب اختیار /افسر /کلارک کو دیتا ہے۔ یہ خبریں بھی سچی ہیں کہ محکمہ صحت میں کئی ڈاکٹر خواتین و حضرات ویزا پر ہیں! اس لیے کسی بھی ضلعی /تعلقہ ہسپتال میں چلے جائیں تو معلوم ہو گا کہ گر وہاں 20 ڈاکٹر مقرر ہیں تو ان میں سے آدھے سے بھی کم موجود ہیں! کچھ ڈاکٹر صاحبان (مرد اور عورتیں ) ہم نے سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں عارضی بیٹھے اور فوٹو سیشن کرتے دیکھے جو کئی سالوں سے ویزا پر ہیں!

عرض یہ ہے کہ جو محنتی، ایماندار اور وقت کے پابند ڈاکٹر ہیں، ان پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ اس لیے ویزا پر گئے ہوئے خواتین و حضرات سے التماس ہے کہ وہ اس آفت کے وقت اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائیں۔ حکومت سندھ سے کہنا ہے کہ ادارہ تعلیم کی طرح ادارہ صحت میں بھی بائیو میٹرک کا نظام برپا کیا جائے۔ اس سے کسی کا کوئی برا نہیں ہو گا؛ بس بیمار عوام کا بھلا ہو جائے گا۔

لوگوں کو کہاں پر کیا مل رہا ہے، کیسے مل رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ؛ اس معلومات کو روزانہ کی بنیاد پر ہر ضلع اور تحصیل کی تفصیل جاری کی جائے تو اس سے حکومت کی ساکھ بحال ہوگی، لوگوں کا اعتماد بحال ہو گا اور یہ بھی پتا چلے گا کہ کہاں پر کس چیز کی کمی ہے جس کو پورا کیا جائے۔ لوگوں کو اپنی قسمت کے حال کے بارے میں بتائیں، ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد احسان لغاری کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments