چقچن مسجد بلتستان کا عظیم ثقافتی ورثہ


بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کی جیتی جاگتی مثال چقچن مسجد ضلع گانچھے کا ضلعی ہیڈ کوارٹر خپلو میں واقع ہے۔ سیرو تفریح یا کسی بھی کام کی غرض سے خپلو جانے والے لوگ اس مسجد کو دیکھنے ضرور جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مسجد کے اندرونی دروازے کے ساتھ لٹکے دو زنجیروں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کوئی بھی حاجت کی دعا کی جائے یا منت مانگی جائے تو وہ لازمی طوع پر پوری ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں خواتین و حضرات یہاں حاجت مانگنے جاتے ہیں۔ ہم جب بھی کسی کام سے خپلو جاتے ہیں تو چقچن مسجد ضرور جاتے ہیں۔ یہ مسجد تبتی ایرانی اور کشمیری فن تعمیر کا ایک حسین و جمیل اور شاندار امتزاج رکھتی ہے۔ اس مسجد کو مقامی سطح پر قدیم ترین تاریخی، ثقافتی اور مذہبی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

لوگ اپنے تنازعات کے حل کے لئے آج بھی چقچن مسجد میں آ کر قسم کھاتے ہیں جس میں دو فریقین یہ دعا مانگتے ہیں کہ جس کا حق ہے اس کے لئے مخالف فریق کا دل نرم ہو جائے اور وہ خود اس حقیقی حقدار کے حق سے دستبردار ہو جائے۔ شنید ہے کہ سینکڑوں دفعہ ایسا ہو چکا ہے کہ حقدار کو اس کا حق ملا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کا اصلی نام شوق چن تھا۔ بلتی زبان میں شوق چن کا مطلب فیصلہ کرنے کی جگہ ہے۔

جب سے انسان نے خپلو کی سر زمین پہ قدم رکھا ہے تب سے یہ جگہ متبرک رہی ہے اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے اس جگہ کو اپنی عبادت گاہ کا درجہ دے کر یہاں اپنے عقائد کے مطابق اپنی عبادات بجا لاتے رہے ہیں۔

چقچن مسجد کا تاریخی پس منظر بہت خوبصورت اور حیران کن ہے۔ تاریخی کتب میں لکھا گیا ہے کہ ہزاروں سال قبل گلگت بلتستان کے لوگوں کا مذہب بونگ شوس تھا جس کو دیو مالائی مذہب کہا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں کئی لوک داستانیں مشہور ہیں۔ اس مذہب کے ماننے والے لوگوں نے یہاں اپنی عبادت گاہ کی بنیاد رکھی تھی۔ جس میں کئی صدیوں تک وہ عبادات کرتے رہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ یہاں کے لوگ بدھ مت کے پیروکار بن گئے جس کے بعد اسی عبادت خانے کو نقصان پہنچائے بغیر اس کے اوپر ایک منزل بنائی گئی جس کو بدھ مت ٹیمپل یعنی خانقاہ قرار دیا گیا اور بدھ مذہب کے عقیدے کے مطابق عبادت شروع کی گئی۔ بدھ مت کے پیروکار بھی صدیوں تک یہاں عبادت کرتے رہے ہیں۔

آج سے 8 سو سال قبل پہلا مبلغ اسلام حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی سیاچن کے راستے خپلو پہنچے۔ ان کی آمد کے بعد مقامی آبادی نے اسلام قبول کیا اور مسلمان بن گئے۔ مقامی لوگوں نے بونگ شوس اور بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کی تعمیر شدہ خانقاہ کو منہدم کرنے کی بجائے اس کے اوپر لکڑی کی مدد سے تیسری منزل تعمیر کی اور اپنی عبادت شروع کی۔ اس عبادت گاہ کو منہدم نہ کرنے کا مقصد بونگ شوس اور بدھ مت کے پیروکاروں کی دل آزاری سے اجتناب کرنا تھا اور ساتھ میں ہزاروں سال سے مقدس اور متبرک سمجھی جانے والی اس جگہ کے تقدس کو برقرار رکھنا تھا۔

نچلی دو منزلوں کے اوپر لکڑی کی مدد سے تیسری منزل یعنی مسجد بنانے کے لئے عبادت گاہ کی ایک طرف لکڑی کا اور دوسری طرف پتھر کا مضبوط ستون نصب کیا گیا ہے تاکہ اس کے اوپر مسجد تعمیر کی جا سکے۔ یوں اس کی تیسری منزل تعمیر کی گئی اور اس کو مسجد کا درجہ دیا گیا۔

چقچن مسجد کی تعمیر کے حوالے سے ایک اختلاف یہ پایا جاتا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی، میر سید محمد نور بخش یا میر شمس الدین عراقی میں سے کس نے رکھی۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کو ایک طویل عرصہ لگا ہے جس میں مذکورہ اہم شخصیات کا بنیادی کردار ہے۔ موجودہ وقت میں یہ مسجد دو مقامی مسالک کے پیروں کاروں کی مشترکہ عبادت گاہ ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس میں عبادت کے لئے جگہ کم پڑ گئی تو صدیوں قبل چوتھی اور آخری منزل بنائی گئی۔ جو کی لکڑی کا ایک جال بچھا کر تعمیر کی گئی ہے۔ جہاں ہر طرف خوبصورت چوب کاری کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالائی مسجد کی تعمیر کو مکمل ہونے میں ایک صدی کا عرصہ لگا ہے۔ جس کا اندازہ اس کے اندر باریکی اور کثرت سے کی گئی دلکش اور خوبصورت کندہ کاری ہے۔

 

Facebook Comments HS