گھریلو عورت جو کچھ نہیں کرتی۔
ہجرت اور میرے لوگوں کا تعلق بہت پرانا ہے کبھی یہ ہجرت انسانی آفات کی وجہ سے ہوئی کبھی قدرتی آفات کی وجہ سے کبھی معاشی حالات کی وجہ سے تو کبھی موسمی حالات کی وجہ سے۔ مگر یہ ہجرتیں ہجرت مدینہ کی طرح بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ دلی تو سات دفعہ اجڑ کر بھی بس گئی تھی لیکن میرے لوگ دلی جیسے خوش قسمت نہیں ہیں ہر دفعہ اجڑے ہیں اور بدتر حالت میں واپس آئے ہیں شاید ریاست کے پاس معاشی وسائل نہیں ہیں یا اخلاص کی کمی ہے اس کا فیصلہ کرنا میرے بس کی بات نہیں مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ہر آفت ایک موقع بھی ہوتی ہے جی ہاں صرف تاجروں اور گراں فروشوں اور چیزیں بلیک کرنے والوں کے لئے نہیں ہمارے جیسے عام لوگوں کے لئے بھی۔
ہر دفعہ قدرتی آفات چند ایسے انسانوں سے ملا دیتی ہیں کہ انسانیت پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ 2005 کے زلزلے میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے پیسے اکٹھے کر رہے تھے ایک دیہاڑی دار مزدور اپنی دیہاڑی کے ڈھائی سو روپے لے کر آ گیا یہ میری طرف سے شامل کر لیں ہم نے انکار کیا تو وہ جاکر دودھ کے ڈبے لے آیا کہ میری طرف سے زلزلے والوں کو پہنچا دیں ایسی باتیں ہو تو زبان گنگ ہو جاتی ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
اس دفعہ بھی سیلاب کی آفت میں چند ایسے ”انسان“ ملے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید انسانیت نامکمل ہوتی۔ سیلاب زدگان کے لئے پیسے اکٹھے کر رہے تھے ایک خاتون نے ہزار والا چار تہوں کا نوٹ نکال کر ہمارے حوالے کیا جو انہوں نے اپنے روزمرہ کے محدود خرچ سے نکال کر جمع کیے تھے اور جس وقت یہ نوٹ انہوں نے ہمیں دیا اس وقت بھی ان کے شوہر ایک حادثے میں زخمی گھر پر پڑے تھے مگر انہوں نے یہ کہہ کر یہ نوٹ ہمارے حوالے کیا کہ جن کے لیے آپ پیسے جمع کر رہی ہیں وہ سب لوگ اس کے ہم سے زیادہ مستحق ہیں۔
جب ہزار کا یہ نوٹ لاکھوں روپے میں رکھا گیا تو اس کا وزن سب سے زیادہ تھا۔ ایک اور خاتون نے پانچ ہزار روپے دیے جو خود اپنا خرچ بہت مشکل سے پورا کرتی ہے اور ان کے الفاظ تھے یہ پیسے پورے تین سال میں جمع ہوئے ہیں اور رکھے تھے کہ آڑے وقت میں کام آئیں گے مگر اس سے زیادہ آڑا وقت اور کیا ہو گا پانچ ہزار روپے کے ساتھ ان خاتون نے آنکھوں کے چند موتی بھی ان لوگوں کی نذر کیے مگر چونکہ آنسوں کا مول کوئی نہیں دیتا لہذا ہم نے اپنے رومال میں سنبھال لئے کہ یہ آنسو اندھیرے میں جگنو بن کر چمکیں گے۔
ان عورتوں سے مل کر مجھے اپنی امی یاد آ گئیں جو خود بھی ایسے ہی بچت کرتی تھیں اور کسی نہ کسی کی مدد اس رقم سے ہو جاتی تھی اس کا انکشاف بھی یوں ہوا کہ ایک روز الماری کے چھپے ہوئے کونے سے ایک پوٹلی برآمد ہوئی جس میں بہت سے سکے تھے جو اس وقت کے حساب سے بھی کافی رقم بنتی تھی تب پتہ چلا کہ یہ امی کی پوٹلی ہے جو کسی کی فوری ضرورت میں کام آ جاتی ہے۔ امی کی یہ عادت آخر تک رہی ان کے انتقال کے بعد جب سردی میں ان کے گرم کپڑے نکالے تو ایک کپڑے میں لپٹے 63 ہزار روپے نکلے۔
ہائے کیسے کیسے بچت کرتی ہیں یہ عورتیں۔ گھر بناتی ہیں اور رخصت ہو جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا جب امدادی کیمپ لگتے ہیں تو کپڑے جوتے برتن اور دیگر اشیاء کے ڈھیر لگ جاتے ہیں کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کہاں سے آتے ہیں اور انہیں کون سنبھال کر رکھتا ہے یہ مرہون منت ہے گھر میں بیٹھی ہوئی عورت کی جو کوئی چیز ضائع نہیں کرتی سنبھالتی ہے اور ایسے موقع پر مدد کے لیے لے آتی ہے مجھے امید ہے اگر کبھی قدرتی آفات میں میں گھروں سے بھیجی گئی ان اشیاء کی لاگت لگائی گئی تو اس روز حکومت ضرور care economy کو اپنے GDP کا حصہ بنانے پر مجبور ہو جائے گی اور عورتوں کے بلا اجرت کیے گئے کاموں کو بھی عزت ملے گی۔ ۔


