ہماری سیاست


کیرئیر پلاننگ والے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ میٹرک سے شروع ہو کر ایف اے، ایف ایس سی تک پورا زور دیا جاتا ہے کہ کیرئیر کی چوائس کر لی جائے تاکہ مستقبل محفوظ اور جاندار ہو جائے۔ جوان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے اور اپنا اور اپنے خاندان کے لیے مال اسباب اکٹھا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔

مگر یہی کیرئیر پلاننگ ہمیں اس وقت عجیب مخمصے میں ڈال دیتی ہے۔ جب کوئی بالکل نارمل سا شخص اور تمام عمر اک الگ بلکہ جاندار کیرئیر کا حامل فرد اچانک سے دوسرے کیرئیر سے وابستہ ہو جاتا ہے اور دیکھتے دیکھتے اس کے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایسے کیریئرز میں سب سے بے بدل کیرئیر سیاست کا کیرئیر ہے۔ سیاسی کیرئیر میں آپ کو بھانت بھانت کے لوگ ملیں گے۔ اور ان سے وابستہ ماضی کی ہزار داستانیں، کیونکہ سیاست میں وارد ہونے کے لیے بہت سے اجزائے ترکیبی ہیں۔ لیکن سب سے اہم اور ابتدائی جز لکشمی یعنی دولت کی بھرمار ہونا ہے۔ جب لکشمی آپ کے ہاتھ آ گئی تو سمجھ لیں سیاست کی پری کوالیفکیشن میں پچاس فیصد سے اسی فیصد تک آپ سیاست کے جاندار کھلاڑی بن گئے۔

باقی بیس فیصد گرتی دیوار کا آخری دھکا ثابت ہوتی ہے اور پھر آپ روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ ہار جیت تو زندگی کا حصہ ہے۔ مگر منے کا کام بس لگے رہنا ہے۔ جماعتی شمولیت سفر کا آغاز ہے اور اگر ہوا کا رخ سازگار ہوا تو نو وارد سیاست داں اڑا پڑے گا۔ اور پھر نئے سفر کا آغاز، اک ایسا سفر جس میں کوئی ریٹائرمنٹ نھیں۔ جیسے کہ ڈاکٹر کے ہاتھ کانپنے شروع ہو جائیں تو اس کے تجربے کے وسیع ہونے کی وجہ سے اس کی تشخیص نئے ڈاکٹروں سے معتبر سمجھی جاتی ہے اور وکیل کی زبان لڑکھڑاتے لگ پڑے تو گاگ سمجھا جاتا ہے بالکل اسی طرح پرانا سیاست داں پرانی شراب کے محاورے کے مطابق معاشرے میں اک کلیدی کردار ادا کرنے کا موجب سمجھا جاتا ہے۔ جو کہ گٹھ جوڑ کا ماہر اور سیاسی کلہ بازی پر پوری دسترس رکھتا ہو۔ سیاست صرف فرد کے لئے ہی مفید نہیں ہوتی بلکہ پورے خاندان کی آبیاری کرتی ہے بلکہ دور پار کے اقارب بھی اس سے پوری طرح مستفید ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں ساٹھ سال کی عمر میں ہر زمین و فطین کو گھر بھیج دیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے انمول خزانہ سمجھتے ہوئے سینہ سے لگایا جاتا ہے۔ ایسے نو رتن ہر تحصیل و ضلع میں بہم دستیاب ہیں۔ جو جمہوریت کی جنگ لڑتے لڑتے خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں۔ جمہوریت حقیقی آئی کہ نہیں معلوم نہیں مگر یہ حقیقت سب کی سمجھ میں آ گئی کہ جمہوریت ہمارے ہاں اک سراب ہے۔ اور اگر سراب نہیں تو شراب تو ضرور ہے۔ جیسے شراب انسان کے حواس گم کر دیتی ہے ایسے ہی جمہوریت کی متلاشی پبلک بھی مد ہوش ہو چکی ہے۔

لیڈرز اسے جمہوریت کا سبق پڑھاتے ہیں تو یہ نعرہ بلند کرتی ہے ”میاں دے نعرے وجن گئے اور اب آئے گا عمران اور بھٹو اب بھی زندہ ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو انھیں ازبر یاد ہو چکا ہے۔ مگر جمہوریت اس میں کہاں کہاں ہے وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ دماغ سوچ سوچ کہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا تو وہ مدہوشی میں اوپر دیے گئے نعرے بلند کرتے ہیں۔

اور ٹولیوں کی شکل میں جھومر ڈالتے ہیں۔

سیاست کی اندرونی کہانیاں جاننے والے کہتے ہیں کہ آج کے سیاست کے جہاندیدہ کھلاڑی بھی آج کل وجد کی حالت میں ہیں۔ کبھی مد ہوش ہوکے گرتے ہیں۔ پھر سنبھل کے مڑ کے جھپٹتے ہیں۔ کبھی منہ کہ بل گرتے ہیں تو کبھی گر کے سنبھلتے ہیں۔

لیڈرز کے اندھے پیروکار تو اپنے اپنے قائد کی ہر اداء پر جاں نچھاور آدھی صدی سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر جو آج منظر برپا ہے وہ اس پر ششدر رہ جاتے ہیں۔ کہ یہ روحانی کیفیات ان کے قائدین پر کیوں گزر رہے ہیں۔ اب انھیں کون بتلائے کہ

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔
اور
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے۔

کی کیفیات میں روحانی تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ بس عوام کو جلد مطلع کر دیا جائے گا کہ انھوں نے کس کے ڈھول کی تھاپ پر حالت وجد میں جانا ہے۔ تب تک کے لئے اپنے جذبات جواں رکھیں۔ یہ جذبات ہی ہیں جو خون کو گرم رکھتے ہیں۔

مگر تاحال ہمارے جذبات کا فوکس وہی اپنی پرانی سیاست ہے۔ جس کو عام آدمی پریشانی کی حالت میں گالی بھی دیتا ہے مگر پھر کچھ لمحوں بعد خوشی اور نیک تمناؤں کے ساتھ انھیں زنجیروں میں خود نفس نفیس پاؤں دھنسا دیتا ہے۔

یہ کھیل پرانا ہے مگر ہم سب کو مرغوب ہے۔

مگر اب کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کچھ ہلچل وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چنگاری آگ پکڑتی ہے کہ خود جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔

تب تک شاعری کا سہارا لیتے ہوئے تھوڑے سے اور سپنے پالتے ہیں۔
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔
آئیے سب مل کہ دعا کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہماری درست سمت متعین کر دیں۔

Facebook Comments HS