پختونوں کے ساتھ ظلم، اپنے رویے پر نظر ثانی کیجئے


پختون قوم ایک طویل عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے بڑے بڑے لیڈران کو شہید کیا گیا جس میں اے این پی سر فہرست ہے۔ ہر مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں نہ علماء کو بخشا گیا نہ قوم پرست کو نہ ڈاکٹرز کو اور نہ وکیلوں کو دشمن کا سیاسی اختلاف نہیں ہے بلکہ پختو زبان بولنے والے جو بھی ہو نشانہ بنایا جاتے ہیں۔ اس لیے سارے پختون قوم کو سیاست سے بالاتر ہو کر اتفاق کرنے کی ضرورت ہیں۔ اور بہت سے رہنماؤں پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔

جس میں مولانا فضل الرحمان اسفندیار ولی خان امیر مقام شامل ہیں۔ وہ قوم جس نے برصغیر پاک و ہند وسطی اشیا پر 300 سال تک حکومت کی آج کل غیر تو غیر اپنے ملک کے حاکموں کے نظر میں دہشت گرد اور انتہا پسند ہے اور مختلف بہانوں سے اس قوم کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ پختونخوا کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ علاقہ ہر دور میں جارحیت و تسلط اور بڑی طاقتوں کا میدان جنگ ٫رہا ہے۔ اور مختلف شورشوں کی وجہ سے پختونوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس علاقے کے لوگوں کو حکمرانوں نے وہ مواقع فراہم نہیں کیے جس سے وہ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی حاصل کر سکیں۔ نہ یہاں صنعتی زون قائم کیے اور نہ ان لوگوں کو تکنیکی علوم و فنون سے آگاہ کر دیا گیا جس سے وہ اپنے اقتصادی حالت بہتر بنا سکے۔ جس کے نتیجے میں یہاں بے روزگاری عروج پر ہے اور نوجوان باہر ممالک میں جوانی ضائع کرتے ہیں۔ وہ پختون جس نے 300 سال حکمرانی کی ہے اب ایک مذاق بنی ہوئی ہے وطن عزیز کے ڈراموں اور شو میں ایک بے وقوف کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور پشتو فلموں کے ذریعے ان کے کلچر کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب اور باقی صوبے چھوڑ دیں پختون خوا میں پختونوں کے ساتھ جو سلوک پولیس اور انتظامیہ کرتے ہیں قابل مذمت ہے۔ اور چیک پوسٹوں پر اس کی جو تذلیل اور تلاشی ہو رہی ہے قابل افسوس ہے۔ دن میں کئی بار چیک پوسٹوں پر کہاں سے آرہے ہو کہاں جا رہے ہو کے ورد کا جواب دینا ہو گا۔ 52 سال سے جنگ کی وجہ سے پختون خوا اور قبائل نے بہت سے نقصانات اٹھائے ہیں اس کے گھر، سکول، اسپتال، اور بازار ویران ہو گئے چاہیے تو یہ تھا کہ پختون خوا اب اس جنگ سے متاثر ہونے کے بعد جنت نظیر علاقہ ہوتا لیکن معدنیات ہونے کے باوجود ایک پسماندہ علاقہ ہیں جس کے تیل، گیس، پانی اور بجلی کوئی اور استعمال کرتے ہیں اور بہت بے شرمی کے ساتھ پختون خوا کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہوا ہے۔ اور اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں پختون جیسا محب وطن ہے کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ 25 سال سے پختون قوم دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں جینے کے لیے ترس رہے ہیں۔ کئی سال پہلے ایک تحریک اٹھی جس کا نام پی ٹی ایم ہے وہ کسی کی خلاف نہیں اور نہ ہی اقتدار چاہتے ہیں بلکہ قانون اور آئین کے تحت اپنے قوم کے لیے حقوق مانگتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کو غدار ٹھہرایا گیا جس کے رہنماؤں نے شہادتیں دیے اور جیلیں کاٹی لیکن اس کے محنت نے رنگ لے آئی ہیں۔

جس کے نتیجے میں ہر شہر ہر گاؤں میں نوجوان روزانہ احتجاج کر رہے ہیں اور امن کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ پختون خوا ایک بار پھر دہشت گردی کے لپیٹ میں ہیں آئے روز ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہیں۔

اور دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کہہ رہا ہے کہ پختون خوا میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے یہ آنکھ مچولی کا کھیل بند ہونا چاہیے اور سارے پختون قوم کے سیاسی رہنما اور قومی مشران اور نوجوانوں کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات کو ختم کرتے اپنے علاقے کی بہتری کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر پختون خوا کو بدامنی سے بچائے۔ ورنہ کوئی سیاست دان اور مشر جو کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں محفوظ نہیں اور ریاست کو الزامات کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ورنہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS