پرائیویٹ کوچنگ سینٹر، کمائی کا ذریعہ

دور حاضر میں پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز تعلیم کے نام پر کمائی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ جہاں طلبا کی تعلیم و تربیت سے زیادہ پیسے کمانے کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسے اداروں کی فکر ایک ہی ہوتی ہے کہ کس طرح تعلیمی اخراجات بڑھا کر غریب طبقے کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جائے۔ غریب طبقہ جو پہلے ہی اپنے گھریلو مسائل اور روزمرہ کے اخراجات کی پریشانیوں سے باہر نہیں نکل پاتا وہ بچوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں اور پرائیویٹ اداروں سے تنگ آ چکا ہے۔ ان کا اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کا خواب، خواب ہی بن کر رہ گیا ہے۔
ایک طرف بڑھتی ہوئی بے جا فیسوں کا اژدھا منہ کھولے کھڑا ہے دوسری طرف تعلیم کا گرتا ہوا معیار ہے، جس نے معاشرے کی تعلیمی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز میں طلبا سے تو بنا تعین بھاری بھرکم فیس وصول کی جاتی ہے، لیکن اچھی تنخواہیں اور مراعات دینے کے ڈر سے کم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار اساتذہ رکھے جاتے ہیں۔ اگر اتفاقاً کوئی سینئر استاد رکھ بھی لیا جائے تو اس کو تن خواہ کی مد میں اتنی معمولی رقم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کو بوجھ گردانتے ہوئے بادل نخواستہ اتارتا ہے۔
مہنگائی اور بڑھتی بے روزگاری کے سبب اساتذہ قلیل رقم کے عوض پڑھانے کی ذمہ داری لے تو لیتے ہیں مگر اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے انجام نہیں دے پاتے۔ وہ ہر وقت تعلیمی اداروں سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ ایک ایک بچے سے ہزاروں روپے وصول کرنے والے ادارے ایک معلم کو جو کہ ایک قوم کا مستقبل سنوارنے میں اہم ستون ہے، اس کے جائز حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ بھی کمائی کے متبادل راستے اختیار کرتے ہوئے دل جمی اور محنت سے نہیں پڑھا پاتے۔
پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز نے چھوٹے چھوٹے سے گھروں میں ہی ادارے کھول رکھے ہیں، جہاں تعلیم میں معاون تکنیکی سہولیات بھی برائے نام ہوتی ہیں۔ ہر گلی محلے میں ایک پرائیویٹ کوچنگ سینٹر دیکھنے کو ملتا ہے، بل کہ اب تو ہر دوسرے شخص کی سوچ یہی بن چکی ہے کہ اگر روزگار نہیں ملتا تو کوچنگ سینٹر کھول لیا جائے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وہاں بچوں کو کس طرح کا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایسے کوچنگ سینٹرز گورنمنٹ کی طرف سے رجسٹرڈ بھی نہیں ہوتے۔
آج مہنگائی کے اس دور میں جہاں پہلے ہی غریب عوام کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے وہاں اپنے بچوں کو معیاری اور سستی تعلیم دلوانا ایک خواب سا بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک خداداد پاکستان خواندگی کے اعتبار سے بدترین زوال کا شکار ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا نظام بھی تباہ ہے، جس بنا پر پرائیویٹ اداروں کا اندھا راج ہے۔ گلی محلے میں کھولے گئے پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز نے معیار تعلیم کو مذاق اور پیسے کمانے کا دھندا بنا دیا ہے۔
ایسے میں ہماری گورنمنٹ کو چاہیے کہ اپنا کردار ادا کرے اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بناتے ہوئے پرائیویٹ اداروں کا احتساب کیا جائے۔ اور پرائیویٹ سیکٹر میں بھی فیسوں کا ایک مناسب تناسب قائم کیا جائے۔ نیز تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے سخت شرائط کا اجرا کیا جانا چاہیے تاکہ باصلاحیت اور تجربہ کار افراد ہی قوم کے مستقبل کے ضامن بن سکیں۔ جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کی تربیت کا بھی اہتمام ہو، جہاں انسان کو انسانیت کا درس دیا جائے، جہاں احساس اور شعور کی آگاہی مہیا ہو۔ ان اقدامات پر عمل کر کے ہی ہم معیاری تعلیم کو عوام کی پہنچ تک لا سکتے ہیں، تاکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لے کر اپنا کردار ادا کر سکیں۔
آئیے! ہم سب مل کر ان کرپٹ ناتجربہ کار اور مفاد پرست تعلیمی اداروں کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنا فرض ادا کریں اور تعلیم کے فروغ کے عمل کو سستا اور آسان بنا کر مستقبل کے معماروں کو ایک روشن نوید سے ہمکنار کریں۔
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

