پاکستان کی خارجہ پالیسی


جب سے ہوش سنبھالی یہ ہی دیکھنے کو ملا کہ پاکستان کے پر مسلط ایک خاص گروہ نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دبانے کی کوشش میں اس کے ورکرز کے ساتھ انتہاء کا ظلم کیا کبھی ان پر تشدد کے ذریعے وفاداری تبدیل کروانے کی کوشش کی تو کبھی ان کو روزگار سے نکالنے کے ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ سوچیں کیا کبھی اخبار میں یا ٹی وی میں یہ خبر دیکھی کہ فلاں پارٹی کے لوگوں کو کسی بھی حکومت نے نوکری سے فارغ کر دیا؟ نہیں ایسا صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے دیے گئے روزگار والوں کے ساتھ ہوتا ہے ہزاروں کی تعداد میں سکیل 7 پر بھرتی ہونے والے غریب غرباء کو پی پی کے بعد آنے والی اشرافیہ روزگار سے نکال باہر کرتی تھی جو کہ ان پر ظلم کرنے کا ایک طریقہ ہے لیکن اس کے باوجود پی پی کے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی ان لوگوں کو دوبارہ بحال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پی پی حکومت کافی تنقید کا نشانہ بھی بنتی ہے۔

جتنا تشدد پی پی کے ورکر پر ہوا شاید ہی تاریخ میں کہیں سننے کو ملا ہو کہ فلاں پارٹی کے ورکرز پر فلاں کا تشدد پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش وغیرہ، پاکستان بننے سے آج تک اگر دیکھا جائے تو اشرافیہ نے جب رج رج کر پاکستان کے خزانوں پر اپنے محل بنا لئے بزنس بڑھا لئے تو ملکی حالات بگڑتے ہی ملک سے اپنی راہیں الگ کر لیں اسی صورت میں پھر پاکستان پیپلز پارٹی ہی ملک کو سنبھالنے کے لئے میدان میں آتی ہے۔ پاکستان جس وقت دو لخت ہوا تو قائد عوام شہید بھٹو نے ملک کو سنبھالا اور ملک کو آئین و دستور دے کر مضبوط کیا ساتھ میں ملک کو ترقی کی نئی راہ پر ڈالا جس کے ثمرات آج بھی اشرافیہ اور عوام کو مل رہے ہیں۔

بھٹو صاحب کے دور کے بعد محترمہ شہید کا ملک و قوم کے لئے کام لیکن اشرافیہ و اسٹیبلشمنٹ کا مل کر ان کے خلاف اتحاد، اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا آخری دور حکومت جس کی بھاگ دوڑ آصف علی زرداری کے ہاتھ تھی۔ مشرف کے دور حکومت میں لال مسجد آپریشن کے ہوتے ہی ملکی حالات بدتر ہو گئے معیشت گر گئی اور ملک کا ہر ادارہ تباہی کا شکار ہو گیا۔ زرداری صاحب کے دور حکومت میں زلزلہ و سیلاب سے نقصانات لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی بہتر حکمت عملی نے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا اور جس سے معیشت کا پہیہ رواں ہوا لوگو ان کو روزگار بھی دیے جو بعد میں نواز شریف کی حکومت میں نکال دیے گئے زرداری صاحب کا ویژن ایڈ نہیں ٹریڈ کامیابی کے ساتھ آگے چلا۔

انہوں نے اپنے دور حکومت میں روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر عمل کرتے ہوئے اس نعرے و وعدے کو پورا بھی کیا۔ سی پیک ان کے کاموں میں سب سے اہم اور بہترین کارنامہ تھا اس کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن۔ اس دور حکومت کے بعد نون لیگ اور پی ٹی آئی کے دو ادوار گزرے لیکن ان میں ملک کو مختلف مشکلات درپیش آئیں جن کی وجہ کوئی سیلاب یا زلزلہ یا دہشت گردی نہیں ملک پر مسلط نااہلوں کا گروہ تھا۔ عمران خان کے دور حکومت میں جب پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا تو اپوزیشن نے مل کر اس کی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا جس کا سہرا بلاول بھٹو زرداری کے سر جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے تمام اپوزیشن کو ایک پیج پر اکٹھا کر کہ آئینی طریقہ سے یہ عمل شروع کیا۔ نئی تشکیل پانے والی حکومت میں بلاول بھٹو زرداری بطور وزیر خارجہ پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لئے آمادہ ہوئے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ وزارت خارجہ ایک سول حکومت کے پاس آئی جو خود مختار اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی اس سے پہلے ادوار میں وزارت خارجہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس رہی جو اپنی مرضی کے بندے بٹھا کر ان کو اپنے طریقے سے چلایا کرتے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری کے پاکستان کے لئے ہنگامی دوروں نے ثابت کیا کہ ( بھٹو ) بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں واپس آ چکے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری جہاں بھی گئے کامیابیاں ان کے پیچھے چلنے لگی۔ پاکستان کو قدرتی آفت سیلاب نے گھیرا تو سب نے دیکھا کہ واحد بلاول بھٹو زرداری ہی تھا جو نہ کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی میدان میں تھے بلکہ ایک وفاقی وزیر کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کرنے لگے اور بہت جلد انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل فورم کی نظر پاکستان کی طرف موڑ دی اور ان کو احساس دلانے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستان اور اس کی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے وہ پاکستان کی مدد کریں۔

جس طرح تیزی سے اللہ کے فضل وکرم سے بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے دکھ درد اور تکلیف کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کا ازالہ کرنے کے لئے محنت شروع کی اور ان کی آواز پر مختلف ممالک نے پاکستان کو امداد فراہم کرنا شروع کی یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل پاکستان آئے اور بلاول بھٹو زرداری نے ان کو پوری ذمہ داری سے سیلاب زدگان کے علاقوں کا دورہ کروایا۔ دوسری طرف غیر ملکی صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کے سخت سوالوں کے عمدہ جوابات دے کر ان کو خاموش کروایا اور ان کے ذریعے دنیا کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان حالات میں ایڈ یا امداد نہیں بلکہ پاکستان کے قرض معاف کروائے جائیں، بلاول بھٹو کی جارحانہ وزارت اور باتیں ثابت کرتی ہیں کہ آنے والے وقت میں پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سرپرستی میں پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کر کہ عوام کو خوشحالی کی طرف موڑ دیں گے۔ جئے بلاول بھٹو بینظیر

Facebook Comments HS