کرسی کرسی کرتے ہو


ووٹ سے آئے ہوئے لوگ ووٹ سے مخالف کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ایک سیاستدان ملک کی صرف معاشی، اقتصادی اور سیاسی پالیسیوں کا ہی ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ قومی اخلاق کا محافظ بھی ہوتا ہے کیونکہ دنیا پر آپ کا تاثر آپ کے انٹر نیشنل امیج اور قومی کردار کے لئے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ ملکی معیشت کی ایسی تیسی پھیر چکنے کے بعد اس کی نوجوان نسل کے اخلاق و کردار کے ساتھ کھلواڑ کریں۔

پاکستان میں خواتین سیاست دانوں کے ساتھ بدتمیزی اور غیر اخلاقی حرکتیں پہلے صرف سیاسی قائدین ایک دوسرے سے کرتے تھے، جلسوں میں یا الیکشن کمپین کے دوران اس طرح کی گھٹیا زبان مخالفین کے لئے استعمال کی جاتی تھی مگر اب سپورٹرز بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں بلکہ ان کو باقاعدہ اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور جواز میں ماضی سے اس طرح کے واقعات اٹھا کر لے آتے ہیں یعنی اس قابل مذمت فعل کو باقاعدہ آپ کی سیاست کا حصہ رہنے پر بضد ہیں تو پھر آپ کی تبدیلی کا نعرہ کیا ہوا؟ اس طرح کسی کو سر راہ رسوا کرنے، الزام تراشیوں اور ہلڑ بازی آپ کے سیاسی کردار کی عکاس ہے جو عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اگلے الیکشن تک اپنی جماعت کو مزید منظم کر لیتے اور زیادہ قوت سے اسمبلی اور حکومت میں آ کر گزشتہ غلطیوں کا مداوا کرتے تاکہ آپ کو ماضی کی طرح اپنے فیصلوں میں جا بجا خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ناکہ آپ اسی پرانے کنٹینر پر واپس چڑھ کر ملک کے اداروں، پالیسیوں یہاں تک کے خواتین ججز کو نام لے لے کر للکارنے لگے جس پر کھڑے ہو کر ماضی میں آپ نے عوام کو بل جلانے اور ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کا مشورہ دے کر قومی خزانے کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، چائنہ اور کئی دیگر ممالک کے وفود پاکستان نہیں آ سکے تھے اور حکومتی روزمرہ کارروائی بھی نہ جانے کتنے مہینوں تک آپ کی اس ایکٹیویٹی کی نذر رہی اور حکومت میں آ کر آپ جی ڈی پی کی مزید تنزلی کا باعث بنے۔

کوئی خاص پروگرام دینے میں ناکام رہے۔ اسی آئی ایم ایف (lMF) کے پاس گئے جس کے بارے میں آپ کہتے تھے کہ مر جاؤں گا مگر قرض نہیں لوں گا، کشمیر ایشو پر ہم مزید کمزور ہوئے، ملک میں مذہبی شدت پسندی کے واقعات بھی ماضی کی طرح ہمارے تعاقب میں رہے اور دنیا کی با اثر طاقتیں ایک فون کال سے گریزاں رہیں، ہم اخلاق باختہ وڈیوز اور آڈیوز کی زد میں رہے اور نتیجتاً آپ کے اقتدار کا دیا بھی کچھ آپ کی نا اہلی اور کچھ سیاسی آندھیوں کی تاب نہ لا کر بجھ گیا اور آپ ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ سے ’مجھے کیوں نکالا‘ گروپ میں آ گئے۔

’مجھے کیوں نکالا‘ یا ’میں نے کیا جرم کیا تھا؟‘ کی دو حدوں کے درمیان فاصلہ چاہے جتنا بھی کم ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کو آئینی طریقے سے باقاعدہ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا ہے جو کہ عین جمہوری عمل ہے تو پھر جمہوری رویوں کے فروغ کا حصہ بنیں ناکہ اخلاقیات کی ہر حد کو پھلانگ کر کبھی اداروں تو کبھی افراد پر چڑھ دوڑیں۔

گئی تو کرسی ہے مگر لگتا ہے کہ آپ تو ہوش بھی کھو بیٹھے۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

Facebook Comments HS