کپتان کی ریکارڈنگ، امریکہ کا نام نہ لینے پر زور اور بندر کا فساد


اللہ جانے کس قسم کے ہیکر ہیں جو وزیراعظم کے کمرے کی آڈیو ریکارڈ کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک بہت محفوظ جگہ ہوتی ہے۔ تین چار مختلف ایجنسیوں کے ماہر چیک کرتے ہیں کہ وہاں کوئی ریکارڈنگ کرنے والے آلات تو نہیں لگے۔ اس کے باوجود اگر ریکارڈنگ ہو گئی تو پھر یہ عام انجینیئروں کے بس کا معاملہ نہیں ہے۔ اس بارے میں جاننے کے لیے روحانیت یا جادو ٹونے سے مدد لینی پڑے گی۔

اگر آپ نے ہیری پوٹر سیریز دیکھی ہو تو اس میں بھی یہی ہوتا تھا کہ مختلف لوگ بہت محفوظ جگہ پر نہایت خفیہ گفتگو کر رہے ہوتے لیکن وہ لیک ہو جاتی اور اخبار میں چھپ جاتی۔ آخر ہرمائنی گرینگر کے دماغ نے کام کیا اور اس نے وہ جادوگرنی پکڑ لی جو مکھی کا روپ دھار کر سب باتیں سنتی تھی۔ جادو بھی ظاہر ہے کہ پیرا سائنسز میں آتا ہے۔ اور سائنسدان ایسے مکھیاں مچھر بنا چکے ہیں جو لوگوں کی گفتگو سننے کے علاوہ ان کی ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔ تو یہ کسی ایسی مکھی کا کام ہی لگتا ہے۔ جب ماہرین میز کو سکین کرتے ہوں گے تو وہ اوپر فانوس پر بیٹھ جاتی ہو گی۔ جب فانوس دیکھتے ہوں گے تو میز پر بیٹھ جاتی ہو گی۔ ممکن ہے کہ وہ شاہ محمود قریشی کے گھنے بالوں میں چھپی رہتی ہو۔ ہماری صلاح تو یہ ہے کہ سکیورٹی ماہرین کو ہیری پوٹر کی فلمیں دکھائی جائیں اور کپتان کے قریبی لوگوں کو سر منڈوانے کا پابند کیا جائے۔

بہرحال یہ ماہرین کی مرضی کہ وہ فزکس کی مدد سے ایسا بگ پکڑتے ہیں یا کالے سفید عمل سے۔ ہم بات آگے بڑھاتے ہیں۔

کپتان کی دوسری ریکارڈنگ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کپتان کسی صورت بھی اس ملک کا نام نہیں لینا چاہتا تھا جس کے عہدیدار سے میٹنگ کا ٹرانسکرپٹ، یعنی کارروائی کی روداد یا روزنامچہ پاکستانی سفارت کار نے بھیجا تھا۔ اس ریکارڈنگ میں کپتان یہ الفاظ کہتا صاف سنائی دیتا ہے

”اچھا شاہ جی ہم نے کل ایک میٹنگ کرنی ہے، آپ نے ہم تینوں نے۔ اور ایک وہ فارن سیکرٹری نے۔ اس میں ہم نے صرف کہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے نا، اس کے چپ کر کے منٹس بنا دے ۔ ۔ ۔ ہم نے تو امریکنز کا نام لینا ہی نہیں ہے کسی صورت بھی۔ سو اس ایشو کے اوپر پلیز کسی کے منہ سے ملک کا نامہ نہ نکلے۔ یہ بہت امپارٹنٹ ہے آپ سب کے لیے۔ کہ کس ملک سے لیٹر آیا ہے۔ میں کسی کے منہ سے اس کا نام نہیں سننا چاہتا۔“

اسد عمر: ”آپ جان کے لیٹر کہہ رہے ہیں۔ یہ لیٹر نہیں ہے میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔“

”وہی ہے نا۔ میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔ ٹرانسکرپٹ یا لیٹر ایک ہی چیز ہے۔ لوگوں کو ٹرانسکرپٹ کی تو نہیں نا سمجھ آنی تھی نا۔ آپ پبلک جلسے میں تو یہ کہتے ہیں۔“

ان کلمات سے واضح ہے کہ کپتان نے خارجہ امور کی حساسیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس ملک کا نام نہ لیا جائے جس کے خارجہ عہدیدار سے پاکستانی سفیر کی میٹنگ ہوئی تھی اور سفیر نے روداد بھیجی تھی۔ یہ بات مسلسل کپتان کے ذہن میں گونج رہی تھی۔ پہلے بھی بعض مرتبہ یہ ہو چکا ہے کہ کپتان نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران کوئی اہم اعلان کرنا ہوتا تھا تو اس کا کوئی ناسمجھ وزیر اس سے چار چھے گھنٹے پہلے پریس کانفرنس کر کے وہ اعلان کر دیتا تھا۔ یوں کپتان کے باسی اعلان کو کوئی توجہ سے سنتا ہی نہیں تھا۔ اسی وجہ سے کپتان نے خوب زور دیا کہ خبردار کوئی اس ملک کا نام نہ لے جس کا لیٹر ہے کہ کوئی پتہ نہیں کون سا وزیر اتنا کم عقل ہو کہ حساس بات پبلک کر دے۔

اب یہ بھی نوٹ کریں کہ کپتان کو خوب اندازہ ہے کہ جلسے میں جن افراد سے اس نے خطاب کرنا ہے، ان کا ایسا ذہنی اور علمی لیول نہیں کہ انہیں لفظ ٹرانسکرپٹ کی سمجھ آئے۔ اس لیے کپتان نے اپنے معتقدین کی سہولت کے لیے ٹرانسکرپٹ، یعنی روزنامچے، یعنی روداد کو خط قرار دے دیا۔ اس میں ظاہر ہے کہ کسی قسم کی بدنیتی یا دھوکے بازی کو دخل نہیں تھا۔ ویسے بھی روزنامچہ تو خط ہی ہوتا ہے جو بندہ اپنی ڈائری کو لکھتا ہے۔

اچھا اب کپتان اتنا پکا تھا کہ اس نے یہ بار بار کہا کہ اس ملک کا کوئی نام نہیں لے گا جس کے عہدیدار سے میٹنگ ہوئی تھی۔ امریکنز کا تو نام ہی نہیں لینا تھا کسی صورت بھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ سب کو چپ کرواتے کرواتے کپتان نے خود ایک تقریر میں امریکہ کا نام لے لیا؟ گو کپتان نے بعد میں غلطی سدھارنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے امریکہ نہیں کہا بلکہ ایک ملک کہا ہے مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

ہم نے اس معاملے پر غور کیا ہے اور لوک دانش سے ہمیں جواب مل گیا ہے کہ کپتان نے امریکہ کا نام کیوں لیا تھا۔

روایت ہے کہ ایک پیر کا مرید بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ اس کی زندگی مشکلات میں گھر گئی تھی۔ آخر اس نے پیر کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اسے کوئی عمل بتائے جس سے اس کا کام ہو جائے۔ پیر نے اسے ایک وظیفہ دیا، کہا کہ اماوس کی رات قبرستان میں جا کر سورج نکلنے تک وظیفے کا ورد کرنا ہے۔ لیکن ایک احتیاط لازم ہے۔ کسی صورت بھی عمل کرتے ہوئے بندر کا خیال ذہن میں نہ آئے ورنہ عمل پلٹ جائے گا اور موکل مرید کا اپنا کباڑا کر دیں گے۔ اب ہوا یہ کہ مرید نے وظیفہ شروع کیا تو اس کے ذہن میں مسلسل یہ بات گھومتی رہی کہ کسی صورت بندر کا خیال نہیں آنا چاہیے۔ اور یوں وہ عمل کے کلمات کی بجائے بندر کی گردان کرتا رہا۔

تو صاحبو، کپتان نے بھی تقریر میں خود کو بار بار یاد دلایا ہو گا کہ کسی صورت امریکہ کا نام نہیں لینا۔ اور اس نے امریکہ کا نام لے لیا۔ یوں بندر نے موکل ناراض کر کے ایسا فساد مچایا کہ کپتان کا بیڑا غرق کر دیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments